طالبان: زخم پرانا، کہانی نئی؟

خدشہ ہے کہ ماضی کی تلخ یادیں کہیں ایک خطرناک خواب کی طرح مستقبل میں حقیقت میں تبدیل تو نہیں ہو جائیں گی۔

30 جولائی 2026 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ایک چیک پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی اہلکار پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)

صوبہ خیبرپختونخوا کے ہنگو کا مضافاتی علاقہ خذینہ۔ گذشتہ ماہ جولائی کے آخری ایام، شام ڈھلنے کو تھی کہ اچانک پولیس چیک پوسٹ پر درجنوں کی تعداد میں پاکستانی طالبان جنگجو حملہ آور ہوئے۔ حلیہ وہی پرانا لیکن ہتھیار ماضی سے مختلف۔

کلاشنکوف اور دستی بم کے ساتھ انتہائی جدید سنائپر رائفلیں، نائٹ ویژن آلات، تھرمل امیجینگ سسٹم جس سے رات کے اندھیرے میں بھی پورے علاقے کو سکین کرنے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے اور ہر قسم کے ڈرونز (ماضی میں امریکی ڈرونز ان کا تعاقب کرتے تھے)۔ غرض یہ کہ جدید اسلحے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی بھی حاصل ہو چکی ہے۔

خزینہ انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔ طالبان اس کو کنٹرول حاصل کرنا چاہتے تھے۔  شمال میں سابق قبائلی اورکزئی اور مغرب میں کرم کی پہاڑیاں ہیں، جن میں سے خیبر کے لیے راہداری گزرتی ہے۔ حملہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں۔ نو پولیس اہلکار،15 دہشت گرد اور حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی مارے گئے۔

ان دہشت گرد جتھوں کا جدید اسلحے سے لیس ہونا اور افغانستان کی سرحد پار کر کے پاکستان کے خلاف منظم حملے کرنا افغانستان سے جڑا ہے۔ ان کو آپ پاکستانی طالبان کا نام دیں یا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کہیں ان کی لگ بھگ دو دہائیوں پر محیط دہشت گردی کی ایک تاریخ ہے، لیکن اس وقت یہ مستقل خطرے کی بھیانک شکل اختیار کیے ہوئے ہیں، بالخصوص جب سے کابل کی باگ ڈور افغان طالبان کے قبضے میں آئی ہے۔

امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کے کنٹرول کے پانچ برس مکمل ہو چلے ہیں۔ پاکستان اور اور افغان طالبان کے تعلقات بےحد کشیدہ ہیں۔ سال رواں کے سات ماہ کے دوران دہشت گرد حملوں میں تقریباً دو ہزار آٹھ سو لوگ جان سے گئے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے مطابق جولائی 2026 جانی نقصانات کے اعتبار سے سب سے بڑا مہینہ تھا۔ ان ماہ کے دوران واقعات میں 606 اموات اور 232 زخمی ہوئے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو مستقل طور پر جاری امداد ہے۔ پاکستانی طالبان افغان طالبان کے نظریاتی بھائی ہیں اور انہیں تربیت القاعدہ فراہم کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی اور داعش کے عسکریت پسند اس باہمی سہولت کاری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ پاکستان کے دعوؤں کی بڑی حد تک تائید کرتی نظر آتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔ پاکستانی طالبان کی تعداد لگ بھگ چھ ہزار بتائی جاتی ہے۔ داعش، آئی ایم یو یعنی ازبکستان اسلامک موومنٹ، چینی اویغور سمیت کئی غیر ملکی دہشت گرد گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔

افغان طالبان کی ٹی ٹی پی کی پشت پناہی سے دونوں ممالک میں تعلقات بےحد خراب ہیں۔ ان بڑھتے ہوئے حملوں کے جواب میں پاکستان نے افغانستان میں کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، سرحدیں عملی طور پر آمدورفت کے لیے بند کردی گئیں اور ’غیر قانونی افغان پناہ گزینوں‘ کے انخلا کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔

صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔ خیبر پختونخوا، جہاں پشتون بیلٹ کے باشندوں نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی لہر میں طالبان کے مظالم برداشت کیے اور قربانیاں دیں، ان پر پھر سے طالبان کے خطرناک سائے منڈلاتے محسوس ہو رہے ہیں۔

خدشہ ہے کہ ماضی کی تلخ یادیں کہیں ایک خطرناک خواب کی طرح مستقبل میں حقیقت میں تبدیل تو نہیں ہو جائیں گی۔ ابھی چند دن قبل وادی سوات میں دہشت گردی کے خلاف امن ریلی کے دوران ایک خودکش حملہ ہوا۔ اس حملے میں 14 افراد جن میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے جان سے گئے۔ یہ وہی سوات ہے جہاں خونی چوک، طالبان طرز نظام کے نفاذ کی کوششیں، لڑکیوں کے سکولوں کو دھماکے سے اڑانے کی خونی تاریخ ایسی کہ پورا وجود ہی ہل جائے۔

پشاور سے کچھ فاصلے پر حسن خیل کا علاقہ ہے۔ درہ آدم خیل کے راستہ میں پڑتا ہے۔ رہائشیوں کو طالبان کی حقیقتا موجودگی کا احساس ہے۔ ایسے ہی خدشات صوبہ کے جنوبی اضلاع یعنی بنوں، لکی مروت، کرک میں بھی ہیں اور پھر آگے فاصلہ طے کریں تو شمالی وزیرستان ہے، جو ماضی میں غیر ملکی دہشت گردوں کا ٹھکانہ تھا۔ وہاں بھی ماضی میں بڑا کامیاب فوجی آپریشن ہوا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کئی برس تک امن رہا لیکن ان دنوں افغانستان سے آئے عسکریت پسند عناصر کی موجودگی کی پھر سے اطلاعات ہیں۔ ایسوڑی، مسکئی، ہرمز، سپین وام اور دتہ خیل جیسے دیہاتوں کے مدارس اور مساجد میں ہتھیار بند طالبان کا آنا جانا ہو چلا ہے، جو رہاشیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے، تاہم ان علاقوں میں عسکریت پسندوں کی ماضی کی طرح مقامی سپورٹ اب نظر نہیں آتی ہے۔ نہ ہی طالبان کو مہمانوں کی طرح حجروں میں پناہ دی جاتی ہے۔

گو کہ طالبان کا زخم پرانا ہے لیکن امریکی افواج کے انخلا کے بعد اسلام آباد میں امید جاگی تھی کہ شاید اب بازی پلٹ جائے گی۔ افغان طالبان ان کا کہنا مانیں گے۔ پاکستانی طالبان پر لگام ڈالی جائے گی۔ سکرپٹ شاید غلط پڑھا گیا تھا۔

اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے تو ایک متنازع بیان بھی داغا تھا کہ طالبان کے آنے سے افغان عوام غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوگئے ہیں۔ اس بیان سے افغان عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور تاثر ایسا ملا جیسے پاکستان پھر ماضی دہرا رہا ہے۔ پاکستانی طالبان سے مذاکرات کا چرچہ ہوا۔ سونے پہ سہاگہ طالبان کے کنٹرول کے چند دنوں بعد ہی اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حمید، جو اِن دنوں کورٹ مارشل کے بعد سزا کاٹ رہے ہیں، کابل جا پہنچے اور ہاتھ میں چائے کی پیالی تھامے کہا: ’اب سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘ تصویر پوری دنیا میں گردش کرتی رہی، جس کا تاثر منفی ہی گیا۔

ان دنوں بیانیہ تھا کہ پاکستانی طالبان کے قضیے کا حل بات چیت میں پنہاں ہے۔

عمران خان دور حکومت میں خیبرپختونخوا سے ایک وفد روانہ کیا گیا۔ کابل میں پاکستانی طالبان کے امیر نور ولی محسود سے مذاکرات ہوئے۔ ثالث کے طور پر سراج الدین حقانی عرف ’خلیفہ‘ شامل ہوئے، جنہوں نے ماضی میں شدت پسند گروہوں بشمول ٹی ٹی پی کے ’گارڈ فادر‘ کا کردار ادا کیا تھا۔ طالبان کے خاندانوں کو سرحدی علاقوں سے دور آباد کرنے کا فیصلہ بھی ہوا۔

بات چیت سے معاملات کیسے حل ہوتے۔ پاکستانی طالبان نے افغان طالبان کے امیر ہبت اللہ کی بیعت کی ہوئی ہے۔ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سےعلحیدگی اختیار کرنا ناممکن ہے۔ افغان طالبان کا اصرار ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور وہ اسے خود ہی حل کرے۔

پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ٹی ٹی پی اور بلوچ کالعدم گروہ کو انڈیا کی فنڈنگ حاصل ہے۔ انڈیا اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔ اب تک خیر معاملے کے حل کے لیے نہ ہی چین کی ثالثی کارآمد ثابت ہوئی نہ ہی قطر اور ترکی کی۔

ایک بڑا مربوط اور منظم آپریشن ہی حل لگتا ہے، لیکن اس کے لیے وفاقی حکومت، سکیورٹی سٹیبلشمنٹ اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کا ایک پیج پر ہونا لازمی ہے۔ تحریک انصاف نے ماضی میں آپریشن کی اونرشپ لینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر انضمام کے بعد قبائلی علاقوں میں لازمی اصلاحات یعنی عدالتوں کا قیام اور پولیس کا نظام نافذ کیا جاتا تو حالات کافی مختلف ہوتے۔

حکومت کے پاس کئی برس تھے، بڑی حد تک امن تھا۔ روایتی سکاؤٹس نما خاصہ دار کو بغیر تربیت فراہم کیے پولیس میں تبدیل کر دیا گیا۔

حالت کے سدھار کے لیے مشکل ضرور ہے لیکن حل ممکن ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ ریاست کے پاس پاکستانی طالبان کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ ہم خواہش ہی کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ریاست کی یہ ہی پالیسی رہے، نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی طور پر عمل درآمد ہو اور ایک لمبا سانس لیتے ہوئے سوچتے ہیں کہ کاش ماضی میں بھی زیرو ٹالیرنس کی پالیسی ہوتی۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر