پاکستان میں قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی میں تعطل کے باعث شام کے اوقات میں بجلی کی طلب میں اضافے کے دوران بجلی پیدا کرنے کے لیے فرنس آئل کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔ حکام اور تجزیہ کاروں نے جمعے کو بتایا کہ اس صورت حال میں پاکستان کو متبادل ایندھن، مہنگے کارگوز اور بجلی کی بندش میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔
ایران میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے سبب قطر انرجی نے پاکستان اور دیگر صارفین کو معاہدے کے تحت ایل این جی کی ترسیل معطل کر دی ہے۔
سپلائی میں کمی کے باعث ایشیا میں مارکیٹ سے ملنے والی ایل این جی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جس سے درآمدات پر انحصار کرنے والے پاکستان کے لیے متبادل کارگوز خریدنا خاصا مہنگا ہوگیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
ریاستی ادارے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کے ایک عہدیدار کے مطابق پاکستان اس وقت شام پانچ بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی طلب کے عروج کے دوران فرنس آئل سے کم از کم 800 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ یہ ادارہ ملک کے بجلی کے نظام اور بجلی کی مارکیٹ کا انتظام کرتا ہے۔
عہدیدار نے جمعے کو عرب نیوز کو بتایا، ’ فرنس آئل کی موجودہ صلاحیت 1,400 میگاواٹ ہے اور ایل این جی کی درآمد محدود رکھنے کے لیے اوسطاً 800 میگاواٹ بجلی فرنس آئل سے حاصل کی جا رہی ہے۔‘ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
انہوں نے مزید کہا،’فرنس آئل صرف بجلی کی طلب کے عروج کے اوقات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ‘
فروری میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد حکومت نے دو مرتبہ فرنس آئل سے بجلی پیدا کی، پہلی بار اگست اور دوسری بار ستمبر میں، تاکہ سپاٹ مارکیٹ سے مہنگے متبادل ایل این جی کارگوز خریدنے سے بچا جاسکے۔
وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ آر ایل این جی کی سپلائی میں تعطل کے باعث اسپاٹ کارگوز کی قیمت 23 سے 25 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس تک پہنچ گئی ہے، جو گیس کی قیمتوں کی پیمائش کی ایک معیاری اکائی ہے۔ انہوں نے ان قیمتوں کو’غیر معمولی حد تک بلند‘قرار دیا۔
سرکاری ادارے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے 15 ستمبر کو ان کے حوالے سے بتایا، ’ پاور ڈویژن پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ قریبی رابطے میں رہا، جس کے باعث مہنگی آر ایل این جی خریدنے سے بچنا ممکن ہوا۔‘
اس کے بجائے حکومت نے مہنگی درآمدی گیس کی ضرورت کم کرنے کے لیے مقامی توانائی کے وسائل کے استعمال میں اضافہ کیا اور بجلی کی طلب کو منظم کیا۔
ایل این جی کی سپلائی میں تعطل کے اثرات پاکستان کے درآمدی اعداد و شمار میں بھی نظر آتے ہیں۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق جولائی اور اگست میں ملک کی ایل این جی درآمدات 28.3 فیصد کم ہوکر 364.1 ملین ڈالر رہ گئیں، جو ایک سال قبل 508 ملین ڈالر تھیں۔
صرف اگست میں درآمدات 32 فیصد سے زیادہ کم ہوکر 187.5 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گذشتہ سال اسی ماہ یہ 277 ملین ڈالر تھیں۔
محدود متبادل
تاہم فرنس آئل سپلائی میں کمی کا صرف ایک حصہ پورا کرسکتا ہے، کیونکہ پاکستان کے بعض بڑے بجلی گھر آر ایل این جی پر انحصار کرتے ہیں اور بجلی کے گرڈ کا استحکام برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔
انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کے عہدیدار نے کہا،’فرنس آئل، آر ایل این جی کا مکمل متبادل نہیں ہے کیونکہ طلب پوری کرنے اور نظام کا استحکام برقرار رکھنے کے لیے بڑے لوڈ سینٹرز میں واقع بجلی گھروں کو چلانے کے لیے آر ایل این جی درکار ہوتی ہے۔‘
پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے مرتب کردہ جون کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں 90 بجلی گھر ہیں جن کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 20,769 میگاواٹ ہے۔ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ ایک سرکاری ادارہ ہے جو بجلی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
ان میں فرنس آئل سے چلنے والے چھ بجلی گھر شامل ہیں جن کی مجموعی صلاحیت 1,116 میگاواٹ ہے، جبکہ ایل این جی سے چلنے والے 16 بجلی گھروں کی مجموعی صلاحیت 7,640 میگاواٹ ہے۔
باقی بجلی گھر پن بجلی، کوئلے، جوہری توانائی، شمسی، ہوا اور بیگاس سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔
عہدیدار نے مزید کہا، ’ فرنس آئل سے چلنے والے چھوٹے ڈیزل جنریٹر سیٹ طلب پوری نہیں کرسکتے۔‘
کراچی میں قائم بروکریج کمپنی ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ شنکر تلریجا نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی نسبتاً زیادہ لاگت زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے عرب نیوز کو بتایا،’فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 40 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ سے زیادہ ہے، جو گذشتہ دو ماہ کے دوران تقریباً آر ایل این جی کے برابر رہی ہے۔‘
تلریجا نے کہا کہ اسی وجہ سے فرنس آئل کا استعمال بڑھا ہے، تاہم جولائی اور اگست میں بجلی کی مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ اب بھی دو فیصد سے کم رہا، جبکہ ری گیسیفائیڈ ایل این جی کا اوسط حصہ 10 فیصد تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا، ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپاٹ کارگوز کے ذریعے آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنا ملک کی مجموعی توانائی کی لاگت کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ ‘
تلریجا نے کہا کہ اسی لیے حکومت بجلی کی طلب کے مطابق فرنس آئل استعمال کر رہی ہے۔
’حکومت اسے (فرنس آئل کو) طلب کے مطابق استعمال کر رہی ہے۔‘
فرنس آئل کی فروخت میں نمایاں اضافہ
بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل پر بڑھتے ہوئے انحصار کے نتیجے میں ملک میں اس ایندھن کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی ایک اور علامت ہے کہ ایل این جی کی قلت پاکستان کے بجلی پیدا کرنے کے طریقہ کار کو کس طرح تبدیل کر رہی ہے۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، جن میں سینرجیکو پی کے، اٹک پیٹرولیم، پاک عرب ریفائنری کمپنی اور پاکستان سٹیٹ آئل شامل ہیں، نے ستمبر میں 93,000 ٹن فرنس آئل فروخت کیا، جو ایک سال قبل فروخت ہونے والے 11,078 ٹن کے مقابلے میں 740 فیصد زیادہ ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار سلمان اقبال نے جمعے کو صارفین کے نام ایک نوٹ میں کہا، ’ فرنس آئل کی فروخت میں سات گنا اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایل این جی کی قلت ہے، جس کے باعث بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ‘