مہنگی ایل این جی کی وجہ پرانے قوانین اور بھاری پورٹ چارجز: حکام

پاکستان دسمبر میں سپاٹ پرچیزنگ کے ذریعے سال کی مہنگی ترین ایل این جی کے چھ کارگوز خریدے گا۔ بھارت نے اسی طریقے سے سستی ایل این جی حاصل کی۔

سپاٹ پرچیزنگ: ایل این جی بنانے والی کئی بین الاقوامی کمپنیاں مائع گیس گو کارگوز میں بھر کر فروخت کے لیے بندرگاہوں پر کھڑا کر دیتی ہیں اور خریدار انہیں کسی بھی وقت خرید سکتے ہیں اور ڈیلیوری کئی ماہ بعد بھی کروائی جا سکتی ہے (اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے دسمبر میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے چھ کارگوزکی بین الاقوامی منڈی سے سپاٹ پرچیزنگ (براہ راست خریداری) کا فیصلہ کیا ہے۔

مائع قدرتی گیس کے معاملات دیکھنے والے ادارے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نےان چھ ایل این جی کارگوز کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں سے بولیاں طلب کیں اور حال ہی میں ہر کارگو کے لیے موصول ہونے والی سب سے کم قیمتوں کی بولیوں کا انکشاف کیا۔ 

پی ایل ایل کے ایک سینیئر افسر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہر ٹھیکے کے لیے ایک سے زیادہ بولیاں موصول ہوئیں اور ہر کارگو کے لیے موصول ہونے والی کم ترین قیمت کو ویب سائٹ پر لگا دیا گیا ہے۔ انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا یہ ٹھیکے سب سے کم قیمت کی پیش کش کرنے والی کمپنیوں کو دیے جائیں گے تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ آئندہ چند دن میں ہو گا۔

پی ایل ایل کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق نو دسمبر کو پہنچنے والے کارگو میں موجود ایل این جی کی قیمت پٹرول کے بین الاقوامی نرخ کا 16.987 فیصد ہو گی جو سب سے زیادہ ہے جبکہ باقی پانچ کارگوز کے ذریعے آنے والی ایل این جی کی قیمتیں پٹرول کے نرخ کے 15.9759 فیصد اور زیادہ ہوں گی۔

پی ایل ایل انتظامیہ موصول ہونے والی بولیوں کو ‘نہایت مناسب’  قیمتیں قرار دے رہی ہے۔ تاہم سب سے کم بولی (15.9759 فیصد) مسلم لیگ ن حکومت کے قطر سے طویل المدت معاہدے کے تحت پاکستان کو حاصل ہونے والی ایل این جی کی قیمت (13.37 فیصد) سے بھی تقریباً ڈھائی فیصد زیادہ ہے۔

دسمبر میں پاکستان درآمد ہونے والی ایل این جی سپاٹ پرچیز (spot purchase) یا براہ راست خریداری کے تحت ہو گی جس میں عام طور پر مائع قدرتی گیس کم قیمت پر مل جاتی ہیں جبکہ طویل المدت معاہدوں کے ذریعے حاصل ہونے والی وہی مائع گیس ہمیشہ سپاٹ خریداری سے زیادہ نرخ پر خریدی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف قطر کے ساتھ ایل این جی کی خریداری کے اسی 15 سالہ معاہدے میں مبینہ کرپشن کا ریفرنس زیر سماعت ہے۔ جنوری 2020 سے ایل این جی کی قیمت خرید کا جائزہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کو دسمبر میں حاصل ہونے والی گیس سال بھر کی مہنگی ترین مائع گیس ہو گی۔

اس سال جنوری میں پاکستان نے سپاٹ پرچیزنگ کے ذریعے ایل این جی پٹرول کی بین الاقوامی قیمت کے 10 فیصد سے کم کے نرخ پر حاصل کی جبکہ فروری میں قیمت نو فیصد سے بھی کم رہی۔

اگست میں پورے سال کے دوران سستی ترین (پٹرول کی بین الاقوامی قیمت کا تقریباً چھ فیصد کے حساب سے) ایل این جی خریدی گئی۔ ستمبر میں تین کارگوز کے ذریعے آنے والی ایل این جی کا نرخ پٹرول کی قیمت کے چھ سے 11 فیصد کے درمیان رہا جبکہ اکتوبر اور نومبر میں بالترتیب 11 اور 13 فیصد سے زیادہ رہی۔

نومبر کے تین کارگوز کی قیمت 14.2، 13.9 اور 13.84 رہی۔ دسمبر میں پاکستان ایل این جی چھ کارگوز پٹرول کی قیمت کے 16.84، 16.987، 16.972، 16.55، 15.9759 اور 15.8761 فیصد کے حساب سے خریدے گا۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات

پی ایل ایل کے سینیئر افسر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سپاٹ خریداری کی صورت میں قیمتیں ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں بلکہ یہ گرمیوں میں کم اور سردیوں میں زیادہ ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کل بین الاقوامی سپاٹ پرچیزنگ قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور اسی لیے پاکستان کو بھی پورے سال میں مہنگی ترین ایل این جی خریدنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وبا کے دوران بین الاقوامی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں بھی بہت کم ہو گئی تھیں جس کے باعث مائع گیس کی سپاٹ پرچیزنگ کے ذریعے قیمتیں بھی کم رہیں اور اگست میں پاکستان نے سستی ترین ایل این جی خریدی۔

’لیکن اب وبا میں کمی اور دنیا بھر میں لاک ڈاؤنز میں نرمی کے باعث کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو رہی ہیں جس کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس کا اثر ایل این جی کے نرخوں پر بھی پڑا ہے۔‘

معروف معاشی ماہر ڈاکٹر فرخ سلیم نے پی ایل ایل کے دعوؤں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایل این جی خریدنے میں دیر کر دی جس کے باعث قیمتیں اتنا زیادہ ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے دسمبر کے لیے سپاٹ پرچیزنگ کے ذریعے پاکستان سے سستی مائع گیس خریدی۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے سابق سی ای او ڈاکٹر ایم الیاس فضل نے بھی ایل این جی کی خریداری میں تاخیر کو زیادہ قیمتوں کی وجہ قرار دیا۔ ’پاکستان نے بہت اچھا موقع کھو دیا کیونکہ اگر اگست میں ایل این جی خریدی جاتی تو اس وقت سپاٹ پرچیزنگ کی قیمتیں بہت کم تھیں۔‘

مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایل این جی کی سپاٹ پرچیزنگ ہمیشہ جوا ثابت ہوتی ہے اور اسی لیے انہوں نے ہمیشہ طویل المدت معاہدوں کے ذریعے مائع گیس خریدنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر میں درآمد ہونے والی مہنگی ایل این جی کی سب سے بڑی وجہ موجودہ حکومت کی نااہلی ہے، نہ کہ کرپشن۔

پی ایل ایل نے اپنے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تیل میں دکھائی جانے والی فیصد کو ایل این جی کی قیمت نہ سمجا جائے بلکہ گذشتہ تین مہینوں کے دوران پٹرول کی اوسط قیمت کو اس فیصد سے ضرب دے کر ایل این جی کی قیمت نکالی جاتی ہے۔

پی ایل ایل کے سینیئر افسر نے دسمبر کے لیے حاصل ہونے والی ایل این جی کی زیادہ قیمتوں کی ایک وجہ ملک میں رائج فرسودہ قوانین کو بھی قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ضوابط کے تحت کارگوز کی قیمتوں کے ٹینڈرز کھلنے کے بعد درآمد کنندہ کو قانون کے تحت 15 دن بعد ٹھیکے کی تصدیق دی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان 15 دنوں کے دوران بین الاقوامی منڈی کا رویہ پہلے سے معلوم نہیں ہوتا اور ایل این جی کی سپاٹ پرچیزنگ اور پٹرول قیمتوں میں اتار چڑھاؤ واقع ہو سکتا ہے۔ ’یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کے باعث ایل این جی کے درآمد کنندگان بولیاں زیادہ لگاتے ہیں۔ انہیں ان 15 روز میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا خیال رکھنا ہوتا ہے کہ کہیں نقصان نہ کر بیٹھیں۔‘

پی ایل ایل افسر کا کہنا تھا کہ یہ قانون صرف پاکستان میں ہے جبکہ بھارت میں یہ عرصہ صرف دو دن کا ہے جس دوران قیمتوں میں بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہوتا اور اسی لیے انہیں دسمبر کے لیے سستی ایل این جی مہیا ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت پٹرولیم اور قدرتی وسائل میں ان فرسودہ قوانین میں ترمیم پر کام ہو رہا ہے اور تبدیلی کی صورت میں بڈز کھلنے کے بعد درآمد کنندہ کو جلد از جلد کنفرمیشن مل سکے گی جس سے قیمتوں کی کمی ممکن ہو گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ایل این جی کی نسبتاً زیادہ قیمت کی دوسری وجہ پورٹ قاسم کے بھاری چارجز ہیں جو وہ (ایل این جی) کارگوز سے وصول کرتے ہیں، پورٹ قاسم بیرون ملک سے آنے والے ایل این جی کارگوز کے لیے سب سے مہنگی بندرگاہ ہے۔ ’ایل این جی در آمد کنندہ اپنی بولی میں پورٹ قاسم کے بھاری چارجز کو بھی شامل کرتے ہیں جس سے پاکستان کے لیے مائع گیس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

انہوں نے ایل این جی کی خریداری میں تاخیر سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کسی خاص مہینے میں ایل این جی کی طلب اتنا جلدی معلوم نہیں ہو سکتی۔ ’جنوری 2021 کے لیے ایل این جی کی طلب کا حساب ابھی تک نہیں لگایا جا سکا۔ اگست میں ہمیں دسمبر میں ایل این جی کی طلب کا علم ہی نہیں تھا تو کیسے خریداری کی جا سکتی تھی۔’

ایل این جی کی خریداری کے طریقے

بین الاقوامی منڈی میں سے مائع قدرتی گیس تین مختلف طریقوں سے خریدی جا سکتی ہے۔

1۔ سپاٹ پرچیزنگ: ایل این جی بنانے والی کئی بین الاقوامی کمپنیاں مائع گیس گو کارگوز میں بھر کر فروخت کے لیے بندرگاہوں پر کھڑا کر دیتی ہیں اور خریدار انہیں کسی بھی وقت خرید سکتے ہیں اور ڈیلیوری کئی ماہ بعد بھی کروائی جا سکتی ہے۔

پاکستان اس سال موسم گرما میں سپاٹ پرچیزنگ کے ذریعے سستی ایل این جی خرید لیتا اور اس کی ترسیل دسمبر میں ہوتی۔ اس طریقے کے تحت خریداری کے وقت قیمت کے زمرے میں صرف اتنا طے ہوتا ہے کہ خریدار پٹرول کی قیمت کا کتنا فیصد بیچنے والی کمپنی کو ادا کرے گا جبکہ پٹرول کی قیمت کا تعین ترسیل کے وقت گذشتہ تین مہینوں کے دوران پٹرول کے نرخوں کی اوسط نکال کر تعین کیا جاتا ہے۔

پاکستان نے اس سال اگست میں سپاٹ پرچیزنگ کے ذریعے جو ایل این جی خریدی وہ پٹرول کی قیمت کے 5.7395 فیصد کے حساب سے خریدی گئی تھی۔ اگر اسی وقت دسمبر 2020 کے لیے بھی مائع گیس خرید لی جاتی تو آج صرف پٹرول کی قیمت میں اضافہ ایل این جی کی قیمت کو متاثر کرتا جبکہ گیس کی قیمت پٹرول کی قیمت کے کتنا فیصد ہوگی میں کوئی فرق نہ پڑتا۔

سپاٹ پرچیزنگ میں پٹرول اور ایل این جی کا نرخ پٹرول کی قیمت کا کتنا فیصد ہو گا دونوں تیزی سے بدلتے رہتے ہیں۔

2۔ طویل المدت معاہدہ: اس طریقے کے تحت خریدار ملک ایل این جی بنانے والے ملک یا کمپنی سے طویل المدت معاہدہ کرتا ہے جس کے تحت لمبے عرصے کے لیے ایل این جی کا نرخ پٹرول کی قیمت کا کتنے فیصد ہو گا مستقل رہتا ہے۔ پاکستان نے قطر سے 15 سالہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت قطر اس مدت کے دوران پٹرول کی قیمت کے 13.37 فیصد کے حساب سے ہی ایل این فراہم کرے گا تاہم 10 سال بعد قیمت پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔

3۔ قلیل المدتی معاہدہ:  طویل مدتی معاہدے کے برعکس قلیل مدتی معاہدے میں ایل این کی قیمت پر نظر ثانی ممکن نہیں ہوتی۔ پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی کی خریداری کا پانچ سالہ قلیل مدتی معاہدہ بھی موجود ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت