انڈیا کی ایک نجی یونیورسٹی کو اس ہفتے منعقد ہونے والے ایک بڑے اور سرکاری سرپرستی میں ہونے والے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ سے اپنا سٹال خالی کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جب یہ بات سامنے آئی کہ یونیورسٹی نے ایک چینی ساختہ روبوٹ کتے کو اپنی ایجاد قرار دیا تھا۔
گلگوٹیاز یونیورسٹی، جو دہلی کے قریب گریٹر نوئیڈا میں واقع ہے، نے رواں ہفتے منعقد ہونے والے اے آئی امپیکٹ سمٹ میں چار ٹانگوں والا روبوٹ کتا ’اورائن‘ کے نام سے نمائش کے لیے پیش کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں یونیورسٹی کی ایک نمائندہ کو یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ یہ روبوٹ یونیورسٹی کے ایک انڈسٹری کولیبریٹو ہب میں ’ڈیولپ‘ کیا گیا ہے۔
آن لائن صارفین نے جلد ہی نشاندہی کی کہ یہ روبوٹ دراصل یونٹری کا تیار کردہ ’یونٹری گو ٹو‘ ماڈل ہے، جو ایک کمرشل سطح پر دستیاب روبوٹک کتا ہے اور انڈیا میں تقریباً دو ہزار سے تین ہزار پاؤنڈ میں فروخت کیا جاتا ہے۔
اس پر یونیورسٹی پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے درآمد شدہ ہارڈویئر کو مقامی ایجاد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، جبکہ یہ سمٹ انڈیا کی تکنیکی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔
سمٹ کی ایک ویڈیو کلپ میں یونیورسٹی کی ایک سٹاف ممبر کو صحافیوں کو یہ بتاتے ہوئے سنا گیا کہ یہ روبوٹ ’یونیورسٹی کی حقیقی دنیا میں اے آئی کے عملی استعمال پر توجہ‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ گلگوٹیاز یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلینس میں تیار کیا گیا ہے‘۔
بدھ کی صبح یونیورسٹی کے عملے کو سمٹ میں اپنا سٹال خالی کرتے دیکھا گیا، جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے رپورٹ کیا کہ یونیورسٹی کے حصے کی بجلی منقطع کر دی گئی تھی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کو سٹال خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے ایسے کسی باضابطہ حکم موصول ہونے کی تردید کی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سوشل میڈیا پر تنازع سامنے آنے کے بعد یونیورسٹی نے ایکس پر جاری بیان میں اعتراف کیا کہ روبوٹ کتا یونٹری کمپنی سے خریدا گیا تھا اور اسے طلبہ کے لیے ایک تعلیمی ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
یونیورسٹی نے اس بات کی تردید کی کہ اس نے روبوٹ کو خود ’تیار‘ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’ہم روبوٹ نہیں بلکہ ایسے ذہن تیار کر رہے ہیں جو مستقبل میں اسی طرح کی ٹیکنالوجیز کو بھارت میں ڈیزائن، انجینئر اور تیار کریں گے‘۔
انڈین حکومت کی جانب سے سمٹ کے ایک منتظم اور ابھیشیک سنگھ نے اس تنازع پر یونیورسٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے خود کو وہ ظاہر کیا جو وہ نہیں تھے۔ انہوں نے گمراہ کیا‘۔ ان کا یہ بیان منٹ نے رپورٹ کیا۔
ویڈیو میں روبوٹ کو ’ڈیولپ‘ کرنے کا دعویٰ کرنے والی یونیورسٹی کی کمیونیکیشن پروفیسر نیہا سنگھ نے کہا کہ تنازع ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’گمراہ کرنا ایک سخت لفظ ہے۔ ایک غلط تشریح کی وجہ سے انٹرنیٹ پر طوفان برپا ہو گیا۔ ممکن ہے میں اپنی بات بہتر انداز میں واضح نہ کر سکی ہوں یا آپ میری بات کو درست طور پر نہ سمجھ سکے ہوں‘۔
انڈپینڈنٹ نے اس معاملے پر مزید موقف کے لیے گلگوٹیاز یونیورسٹی سے رابطہ کیا ہے۔
© The Independent