انڈیا میں مصنوعی ذہانت پر ’سب سے بڑی‘ سربراہی کانفرنس

انڈیا کو پورے سیکٹر سے لوگوں آمد کی توقع ہے جن میں 20 قومی رہنما اور 45 وزارتی سطح کے وفود شامل ہیں۔

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں پیر کو مصنوعی ذہانت پر عالمی سربراہ کانفرنس شروع ہو رہی ہے جس کے ایجنڈے میں ملازمتوں کے متاثر ہونے سے لے کر بچوں کی حفاظت تک کے بڑے مسائل شامل ہیں۔ 

جہاں ’جنریٹو اے آئی‘ کی جنونی طلب نے ٹیک کمپنیوں کے منافعے میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، وہیں معاشرے اور ماحول کو لاحق خطرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

انڈین وزیراعظم نریندر مودی پیر کی سہ پہر مصنوعی ذہانت کے اثرات پر سربراہ کانفرنس کا افتتاح کر رہے ہیں جس کا مقصد ’عالمی اے آئی گورننس اور تعاون کے لیے مشترکہ روڈ میپ‘ کا اعلان کرنا ہے۔

انہوں نے پیر کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’یہ موقع اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ ہمارا ملک سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس سے ہمارے ملک کے نوجوانوں کی صلاحیتیں ظاہر ہوتی ہیں۔‘

یہ چوتھا سالانہ اجتماع ہے جو اے آئی سے پیدا ہونے والے مسائل اور مواقع پر بات کرتا ہے، اس سے قبل پیرس، سیول اور برطانیہ کے جنگی کوڈ بریکنگ مرکز ’بلیچلے‘ میں بین الاقوامی اجلاس ہو چکے ہیں۔

اسے اب تک کا سب سے بڑا ایڈیشن قرار دیا جا رہا ہے، انڈین حکومت کو پورے سیکٹر سے لوگوں آمد کی توقع ہے جن میں 20 قومی رہنما اور 45 وزارتی سطح کے وفود شامل ہیں۔

سربراہ کانفرنس میں ٹیک سی ای اوز بھی شرکت کریں گے جن میں ’اوپن اے آئی‘ کے سیم آلٹ مین اور گوگل کے سندر پچائی شامل ہیں۔

اگرچہ غیر متوقع حالات کی وجہ سے مبینہ طور پر چِپ تیار کرنے والی بڑی کمپنی این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے اپنی طے شدہ شرکت منسوخ کر دی۔

کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مودی فرانس کے ایمانوئل میکروں اور برازیل کے لوئیز اناسیو لولا دا سلوا جیسی شخصیات کے ساتھ بات چیت میں ’عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور آنے والی اے آئی دہائی میں انڈیا کی قیادت کی وضاحت‘ کرنے کی کوشش کریں گے۔

لیکن کیا وہ اے آئی کمپنیوں کو جوابدہ بنانے کے لیے بامعنی اقدامات کریں گے؟ ’اے آئی ناؤ انسٹی ٹیوٹ‘ کی شریک ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امبا کاک نے کہا کہ یہ مشکوک ہے۔

سمٹ میں حصہ لینے والی یو ایس فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی سابقہ اے آئی مشیر کاک نے کہا کہ گذشتہ ایونٹس میں کیے گئے صنعتی وعدے ’بڑی حد تک محض کاغذی ثابت ہوئے جو اے آئی کمپنیوں کو اپنا کام خود ہی دیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی حفاظت

چیٹ جی پی ٹی کے دنیا کو حیران کر دینے کے ایک سال بعد مصنوعی ذہانت پر گذشتہ کانفرنس 2023 میں برطانوی شہر بلیچلی میں ہوئی جسے محفوظ مصنوعی ذہانت کا نام دیا گیا تھا۔ 

ان کانفرنسز کے نام تبدیل ہوتے رہے ہیں کیوں کہ ان کے حجم اور دائرے میں اضافہ ہوا ہے۔

پیرس میں گذشتہ سال ہونے والے ’اے آئی ایکشن سمٹ‘ میں درجنوں ممالک نے ایک بیان پر دستخط کیے جس میں اے آئی ٹیکنالوجی کو ضابطوں کے ساتھ جوڑنے کی کوششوں کا مطالبہ کیا گیا تاکہ اسے ’اوپن‘ اور ’اخلاقی‘ بنایا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن امریکہ نے اس پر دستخط نہیں کیے اور نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا کہ ’ضرورت سے زیادہ ضابطے ایک انقلابی شعبے کو ختم کر سکتے ہیں جب کہ یہ ابھی پروان چڑھ رہا ہے۔‘

دہلی سمٹ کے وسیع موضوعات ’لوگ، ترقی، سیارہ‘ ہیں جنہیں تین ’سوترس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اے آئی سیفٹی بدستور ایک ترجیح ہے، جس میں ڈیپ فیکس جیسی غلط معلومات کے خطرات شامل ہیں۔

اے آئی ’اکثریت کے لیے‘

کانفرنس کے منتظمین اس سال کے اے آئی سمٹ کو ترقی پذیر ملک کی میزبانی میں ہونے والے پہلے اجلاس کے طور پر اجاگر کر رہے ہیں۔

انڈیا کی آئی ٹی وزارت نے کہا کہ ’یہ سربراہ اجلاس اے آئی کے لیے ایک ایسا مشترکہ وژن تشکیل دے گا جو واقعی اکثریت کی خدمت کرے، نہ کہ صرف چند لوگوں کی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا