امریکہ پابندیاں ہٹانے پر بات کرے تو جوہری معاہدے میں سمجھوتوں پر تیار: ایران

ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران، امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن پابندیاں اٹھانے پر بات کرنے پر آمادہ ہو۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی 24 جون 2019 کو اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں (روئٹرز)

ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن پابندیاں اٹھانے پر بات کرنے پر آمادہ ہو۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے اس انٹرویو میں ایران نے کہا کہ وہ پابندیاں اٹھانے کے بدلے میں اپنے جوہری پروگرام پر پابندیاں لگانے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے اس مسئلے کو میزائلوں سمیت دیگر سوالات سے جوڑنے کو بارہا مسترد کیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ تخت روانچی نے تصدیق کی کہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہو گا۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان میں بات چیت بحال کا عمل رواں ماہ ہی دوبارہ بحال ہوا ہے۔

مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو بتایا: ’(ابتدائی بات چیت) کم و بیش مثبت سمت میں رہی، لیکن ابھی فیصلہ کرنا بہت جلدی ہو گا۔‘

 ایک ذریعے نے جمعے کو روئٹرز کو بتایا تھا کہ سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سمیت ایک امریکی وفد منگل کی صبح ایرانی وفد کے ساتھ سے ملاقات کرے گا، جس میں عمانی نمائندے امریکہ-ایران رابطوں میں ثالثی کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کے جوہری سربراہ نے پیر کو کہا تھا کہ ان کا ملک تمام مالی پابندیاں ہٹائے جانے کے بدلے اپنی انتہائی افزودہ یورینیم کے معیار کو کم کرنے پر تیار ہو سکتا ہے۔

تخت روانچی نے بی بی سی کے انٹرویو میں ایران کی لچک کو اجاگر کرنے کے لیے اس مثال کا استعمال کیا۔

سینیئر سفارت کار نے تہران کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو صفر پر لانا قبول نہیں کرے گا، جو گذشتہ سال کسی معاہدے تک پہنچنے میں ایک کلیدی رکاوٹ تھی کیونکہ امریکہ ایران کے اندر افزودگی کو جوہری ہتھیاروں کے راستے کے طور پر دیکھتا ہے۔

تاہم ایران ایسے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے۔

اپنے عہدے کی پہلی مدت کے دوران، ٹرمپ نے امریکہ کو 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے نکال لیا تھا، جسے ’جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو سابق ڈیموکریٹک صدر باراک اوباما کی خارجہ پالیسی کی نمایاں کامیابی تھی۔

اس معاہدے نے تہران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے ایران پر پابندیاں نرم کر دی تھیں تاکہ اسے ایٹم بم بنانے کے قابل ہونے سے روکا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا