ٹی 20 ورلڈ کپ کا ’سب سے بڑا ٹاکرا‘ آج پاکستان اور انڈیا کے مابین

عالمی کرکٹ کا سب سے بڑا اور منافع بخش ٹکراؤ دیکھنے کے لیے کولمبو کے 35 ہزار کی گنجائش والے آر پریماداسا سٹیڈیم میں ہاؤس فل ہو چکا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے سلسلے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ آج بروز اتوار سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں کھیلا جائے گا۔ روایتی حریفوں کے درمیان میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام چھ بجے ٹاس کے بعد ساڑھے چھ بجے شروع ہو گا۔

میچ سے قبل ہنگامہ خیز دو ہفتوں کے اثرات ابھی تک محسوس کیے جا رہے ہیں کیوں کہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا، جو بعدازاں واپس لے لیا گیا۔

دو طرفہ کرکٹ پاکستان اور انڈیا کے کشیدہ تعلقات کی نذر ہو چکی ہے، اس لیے جب بھی یہ روایتی حریف غیر جانبدار مقامات پر ہونے والے ملٹی ٹیم ایونٹس میں مدمقابل آتے ہیں تو جذبات عروج پر ہوتے ہیں۔

انڈیا کے ایک اور پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے ساتھ کشیدہ تعلقات نے ورلڈ کپ کے ارد گرد کے سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

جب بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر انڈیا کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا اور 20 ٹیموں پر مشتمل اس ٹورنامنٹ میں اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا گیا، تو خطے کی سیاسی بساط ہی پلٹ گئی۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے گروپ اے میں انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا، جس سے کھیل، تجارت اور جیو پولیٹکس کے سنگم پر کھڑا یہ منافع بخش میچ خطرے میں پڑ گیا۔

اشتہارات کی مد میں کروڑوں ڈالرز کے نقصان کے خدشے کے پیش نظر براڈکاسٹرز میں کھلبلی مچ گئی۔ گورننگ باڈی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پس پردہ ہنگامی بات چیت کی اور بالآخر ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقابلے کو بچانے کے لیے ایک سمجھوتہ کروایا۔

تاہم، اگر صرف کرکٹ کی کارکردگی کی بات کی جائے تو یہ رقابت یک طرفہ رہی ہے۔

دفاعی چیمپیئن انڈیا کا ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پاکستان کے خلاف ریکارڈ 1-7 ہے اور اس نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے گذشتہ ایشیا کپ میں بھی اپنی اس برتری کو ثابت کیا تھا۔

انڈیا نے اس ایک ایونٹ میں پاکستان کو تین بار شکست دی، جس میں ایک ہنگامہ خیز فائنل بھی شامل تھا جو اشتعال انگیز اشاروں اور مصافحہ کرنے سے انکار جیسے واقعات کی وجہ سے خراب ہوا۔

سابق انڈین کپتان روہت شرما ’فیورٹ‘ ہونے کے لیبل پر یقین نہیں رکھتے، خاص طور پر جب روایتی حریف آمنے سامنے ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 روہت شرما نے، جنہوں نے دو سال قبل ٹی 20 ورلڈ کپ میں انڈیا کو ٹائٹل جتوایا تھا، حال ہی میں کہا کہ ’یہ اتنا ہی عجیب کھیل ہے۔

’آپ صرف جا کر یہ نہیں سوچ سکتے کہ یہ ہمارے لیے دو پوائنٹس کی جیت ہے۔ ان پوائنٹس کو حاصل کرنے کے لیے آپ کو اس خاص دن اچھی کرکٹ کھیلنی پڑتی ہے۔‘

دونوں ٹیموں نے ورلڈ کپ مہم کا آغاز لگاتار فتوحات کے ساتھ کیا ہے، پھر بھی انڈیا کے پاس واضح برتری دکھائی دیتی ہے۔

اوپنر ابھیشیک شرما اور سپنر ورون چکرورتی اس وقت بالترتیب بیٹنگ اور بولنگ رینکنگ میں سرفہرست ہیں۔

تاہم پاکستان کے خلاف میچ میں ابھیشیک کا کھیلنا مشکوک ہے کیوں کہ وہ پیٹ کے انفیکشن سے صحت یاب ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ پہلے دو میچوں میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔

اشان کشن نے خود کو ٹاپ آرڈر کے اہم کھلاڑی کے طور پر دوبارہ منوایا ہے، کپتان سوریا کمار یادو نے اپنی فارم بحال کر لی ہے، جبکہ رنکو سنگھ انڈیا کی جارحانہ لائن اپ میں ’فنش‘ کرنے والے کے کردار میں ڈھل چکے ہیں۔

پراسرار سپنر چکرورتی اور ہمیشہ کی طرح ہوشیار جسپریت بمراہ سپن اور پیس یونٹس کو سنبھالے ہوئے ہیں، جبکہ ہاردک پانڈیا کی آل راؤنڈ کارکردگی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

 

پاکستان کے لیے اوپنر صاحبزادہ فرحان اچھی فارم میں نظر آئے ہیں لیکن بابر اعظم کا سٹرائیک ریٹ بدستور لوگوں کی رائے تقسیم کر رہا ہے۔

کپتان سلمان آغا کا انحصار سپن بولنگ آل راؤنڈر صائم ایوب پر ہو گا، لیکن ممکنہ ٹرمپ کارڈ آف سپنر عثمان طارق ہیں، جن کے سلنگنگ، سائیڈ آرم ایکشن نے مخالفین اور شائقین دونوں کو تجسس میں مبتلا کر دیا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کو امید ہے کہ اتوار کو روایتی حریف انڈیا کے خلاف سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں ہونے والا ٹی20 ورلڈ کپ مقابلہ کھیل کے مثبت جذبے کے تحت کھیلا جائے گا تاہم وہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکے کہ آیا میچ سے قبل دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی مصافحہ ہوگا یا نہیں؟

کولمبو میں ہفتے کو پری میچ پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ یہ میچ اسی سپورٹس مین سپرٹ کے ساتھ کھیلا جائے گا جس روایت کے ساتھ ہمیشہ سے کھیلا جاتا رہا ہے۔‘

اے ایف پی کے مطابق عالمی کرکٹ کا سب سے بڑا اور منافع بخش ٹکراؤ کو دیکھنے کے لیے 35 ہزار کی گنجائش والے آر پریماداسا سٹیڈیم میں ہاؤس فل ہو چکا ہے جب کہ کروڑوں مزید افراد کے ٹیلی ویژن پر اسے دیکھنے کی توقع ہے۔

 انڈیا کے کپتان سوریا کمار یادو نے ہفتے کو تسلیم کیا کہ ان کی ٹیم اتوار کو پاکستان کے خلاف ٹی 20 ورلڈ کپ کے مقابلے کے لیے ’محض ایک اور کھیل‘ کے طور پر تیاری کرنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے، یہ اس سے کہیں زیادہ ہو گا۔

انڈین کپتان نے کہا: ’ہم ان کے ساتھ اکثر نہیں کھیلتے، یہاں تک کہ باقاعدگی سے بھی نہیں کھیلتے۔

’لیکن دن کے اختتام پر، ہم چیزوں کو سادہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنا بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

سوریا کمار نے کہا: ’دباؤ ہے، لیکن ایک بڑا موقع بھی ہے۔

’میرے خیال میں، جب آپ انڈیا پاکستان کا میچ کھیلتے ہیں، تو یہ موقعے کی اہمیت کے بارے میں زیادہ ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’میں کل سسپنس ختم کروں گا۔ 24 گھنٹے انتظار کریں، ہمیں وہ کھیل کھیلنے دیں جو زیادہ اہم ہے۔‘

سوریا کمار نے پاکستان کے سپنر عثمان طارق اور ان کے منفرد سلنگ آرم بولنگ ایکشن کے بارے میں ہائپ کو کم کرنے کی کوشش کی، جس میں گیند کرواتے وقت ایک نمایاں وقفہ ہوتا ہے۔

سوریا کمار نے کہا، ’ہم نے اسی طرح کے بولرز اور اسی طرح کے ایکشنز کے ساتھ پریکٹس کی ہے، لہذا ہم کوشش کریں گے کہ نائٹ سیشنز میں جو پریکٹس کر رہے ہیں اسے عملی جامہ پہنائیں۔‘

سوریا کمار نے کہا کہ جارحانہ اوپنر ابھیشیک شرما پیٹ کی تکلیف سے کافی حد تک صحت یاب ہو چکے ہیں اور ان کے کھیلنے کا امکان ہے۔

پاکستان اور انڈیا دونوں نے اپنے ابتدائی دو گروپ اے میچ جیتے ہیں اور جیتنے والی ٹیم سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ