جیوری سربراہ کے غزہ سے متعلق بیان پر اروندھتی رائے برلن فلم فیسٹیول سے الگ

انڈین ناول نگار اروندھتی رائے کا کہنا تھا کہ وہ فیسٹیول کے افتتاح کے موقعے پر کیے گئے تبصروں کی وجہ سے ’صدمے اور بیزاری کی کیفیت‘ میں ہیں۔

انڈین مصنفہ اروندھتی رائے 21 نومبر 2025 کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں پریس کانفرنس کر رہی ہیں (اے ایف پی)

بُکر انعام یافتہ انڈین مصنفہ اروندھتی رائے نے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب جیوری کے صدر وِم وینڈرز نے اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کے بارے میں ایک سوال پر کہا کہ فلم سازوں کو ’سیاست سے دور رہنا چاہیے۔‘

اروندھتی رائے، جو اپنی 1989 کی فلم ’ان وچ اینی گیوز اٹ دوز ونز‘ کے بحال شدہ ورژن کی سکریننگ میں شرکت کرنے والی تھیں، نے کہا کہ وہ جمعرات کو فیسٹیول کے افتتاح کے موقعے پر پریس کانفرنس کے دوران کیے گئے تبصروں کی وجہ سے ’صدمے اور بیزاری کی کیفیت‘ میں ہیں۔

جب ایک صحافی نے جیوری کے ارکان سے جرمن حکومت کی ’غزہ میں نسل کشی کی حمایت‘ اور یوکرین اور ایران کے بارے میں بات کرنے لیکن فلسطین پر خاموش رہنے پر فیسٹیول کے انسانی حقوق کے مسائل کے ساتھ ’انتخابی سلوک‘ پر ان کی رائے پوچھی، تو سات رکنی جیوری کے سربراہ وینڈرز نے جواب دیا کہ فلم سازوں کو ’سیاست سے دور رہنا ہوگا۔‘

ایک بیان میں اروندھتی رائے نے ان تبصروں کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ’انتہائی افسوس کے ساتھ‘ فیسٹیول سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

خاتون ناول نگار نے کہا: ’انہیں یہ کہتے سننا کہ فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہیے، حیران کن ہے۔ یہ انسانیت کے خلاف ہونے والے جرم کے بارے میں بات چیت بند کرنے کا ایک طریقہ ہے جب کہ یہ ہمارے سامنے حقیقی وقت میں ہو رہا ہے۔ فن کاروں، مصنفین اور فلم سازوں کو اسے روکنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔‘

اروندھتی رائے، جنہوں نے 1997 میں ’دی گاڈ آف سمال تھنگز‘ کے لیے بُکر پرائز جیتا تھا، نے کہا کہ ’غزہ میں جو کچھ ہوا ہے، جو کچھ جاری ہے، وہ ریاست اسرائیل کی طرف سے فلسطینی عوام کی نسل کشی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کی حمایت اور فنڈنگ امریکہ اور جرمنی کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ یورپ کے کئی دوسرے ممالک بھی کرتے ہیں، جو انہیں اس جرم میں شریک بناتا ہے۔ اگر ہمارے دور کے عظیم ترین فلم ساز اور فن کار کھڑے ہو کر ایسا نہیں کہہ سکتے، تو انہیں جان لینا چاہیے کہ تاریخ ان کا فیصلہ کرے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اروندھتی رائے طویل عرصے سے انڈیا اور بیرون ملک حکومتوں کی کھلی ناقد رہی ہیں اور انہوں نے بارہا فلسطین کاز کی حمایت کی ہے۔

برلن فیسٹیول، جسے عام طور پر ’برلینالے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کو جزوی طور پر جرمن حکومت فنڈ دیتی ہے۔ پریس کانفرنس میں، جیوری کی ایک رکن ایوا پشچنسکا نے کہا کہ جیوری سے اس مسئلے پر مؤقف اختیار کرنے کی توقع کرنا ’تھوڑا غیر منصفانہ‘ تھا۔

فیسٹیول نے کہا کہ وہ ’فیصلے کا احترام‘ کرتا ہے حالاں کہ اروندھتی رائے کی موجودگی ’فیسٹیول کے مباحثے کو مزید بہتر بناتی۔‘

اسرائیل کی غزہ کے خلاف وحشیانہ جنگ میں اب تک 71 ہزار سے زیادہ فلسطینی جان گنوا چکے ہیں۔ محصور علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور اس کے 21 لاکھ لوگوں میں سے زیادہ تر بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ اکتوبر 2023 میں جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے میں تقریباً 1200 لوگوں کی موت کے بعد شروع ہوئی۔

جنگ کے چند ماہ بعد، برلینالے تنازعے کا شکار ہو گیا، جب فیسٹیول کا دستاویزی ایوارڈ ’نو اَدر لینڈ‘ کو ملا، جو اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی بے دخلی پر مبنی فلم ہے۔

اس وقت جرمن حکام نے ایوارڈ کی تقریب میں فلم کے ڈائریکٹرز اور دیگر افراد کی طرف سے غزہ کے بارے میں کیے گئے ’یک طرفہ‘ تبصروں پر تنقید کی تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا