اس سال پاکستان اور ایران سے ڈیڑھ لاکھ افغان وطن واپس: اقوامِ متحدہ

یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ ’نقطہ انجماد سے گرے ہوئے درجہ حرارت اور بھاری برف باری کے پیش نظر اس سال اب تک اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی واپسی تشویش ناک ہے۔‘

دو فروری 2026 کو ایران سے واپس آنے والے افغان پناہ گزین آٹے کی بوریوں کے ساتھ بیٹھے ہیں (اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزینان نے جمعے کو کہا کہ اس سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ افغان باشندے پاکستان اور ایران سے واپس آئے ہیں، اور اس نقل مکانی کی رفتار اور حجم نے افغانستان کو مزید گہرے بحران میں دھکیل دیا ہے۔

اپنے ملک میں بحرانوں سے فرار ہونے والے افغانوں کی دہائیوں تک میزبانی کرنے کے بعد، پاکستان اور ایران نے ملک بدری میں تیزی پیدا کی ہے اور لاکھوں افراد کو سرحد پار ایک ایسے ملک واپس جانے پر مجبور کیا ہے جو ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

افغانستان کے لیے یو این ایچ سی آر کے نمائندے عرفات جمال نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا، ’اس سال اب تک، تقریباً ڈیڑھ لاکھ افغان باشندے ایران اور پاکستان سے واپس آ چکے ہیں۔‘

کابل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’شدید سردی، نقطہ انجماد سے گرے ہوئے درجہ حرارت اور بھاری برف باری کے پیش نظر، اس سال اب تک اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی واپسی تشویش ناک ہے۔‘

’یہ آمد پہلے سے جاری بے مثال واپسیوں کا تسلسل ہے، 2025 میں 29 لاکھ افراد واپس آئے، جس سے اکتوبر 2023 سے اب تک واپس آنے والوں کی کل تعداد تقریباً 54 لاکھ ہو گئی ہے۔‘

جمال نے کہا کہ وہ انتہائی مشکل حالات میں واپس آ رہے ہیں، یا انہیں واپس جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

چاہے وہ خاندان کے ہمراہ سرحد پر پہنچیں یا اکیلے، واپس آنے والے افغانوں کو غربت اور ماحولیاتی مسائل میں گھرے ہوئے ملک میں ایک نئی زندگی شروع کرنی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمال نے کہا، ’ان واپسیوں کی رفتار اور پیمانے نے افغانستان کو مزید گہرے بحران میں دھکیل دیا ہے، کیونکہ ملک کو مسلسل بگڑتی ہوئی انسانی اور انسانی حقوق کی صورتحال، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے، ایک کمزور معیشت، اور بار بار آنے والی قدرتی آفات کا سامنا ہے۔‘

یو این ایچ سی آر کے ترجمان بابر بلوچ نے اے ایف پی کو بتایا کہ واپسی کی تعداد پچھلے سال کے اسی وقت کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جب ایک لاکھ سے کچھ کم افراد واپس آئے تھے۔

جمال نے کہا کہ واپس آنے والوں کے ایک یو این ایچ سی آر سروے کے مطابق، بہت سے خاندانوں نے بتایا کہ ان کے ارکان کے پاس شہری دستاویزات نہیں ہیں، اور 90 فیصد سے زیادہ لوگ روزانہ پانچ ڈالر سے کم پر گزارا کر رہے ہیں۔

اور انہوں نے ان واپسیوں کے دیرپا ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ پہلے ہی دوبارہ افغانستان چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’یہ فیصلے ملک چھوڑنے کی خواہش کے تحت نہیں کیے گئے، بلکہ اس حقیقت کی وجہ سے ہیں کہ بہت سے لوگ ایک قابل عمل اور باعزت زندگی دوبارہ بنانے سے قاصر ہیں۔‘

یو این ایچ سی آر اپنی کوششیں واپس آنے والوں کی بحالی اور انہیں معاشرے کا حصہ بنانے پر مرکوز کر رہا ہے۔

ادارے نے کہا کہ اسے اس سال ملک بھر میں بے گھر ہونے والے افراد اور واپس آنے والوں کی مدد کے لیے 2.16  کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے، لیکن اس کی اپیل پر فی الحال صرف آٹھ فیصد فنڈز موصول ہوئے ہیں۔

جمال نے کہا، ’یہ عمل کرنے کا ایک انتہائی اہم وقت ہے جبکہ ان افغانوں کے لیے طویل مدتی حل تلاش کرنے اور اپنے وطن میں ان کی بےدخلی کا مسئلہ حل کرنے کا موقع موجود ہے، جو اکثر برسوں یا دہائیوں کی جلاوطنی کے بعد واپس آئے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا