پاکستان میں بارش اور برف باری سے معمولات زندگی متاثر، افغانستان میں 11 اموات

ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں برف باری کے باعث پھنسی 20 گاڑیوں میں سے تقریباً 55 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں جمعرات سے جاری بارش اور برف باری کے باعث سردی کی شدت میں اضافے سے معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں جبکہ افغانستان میں شدید بارش اور برف باری کے نتیجے میں 11 افراد جان سے چلے گئے۔

تیراہ میں پھنسے متاثرین کو ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن جاری 

تیراہ میں ممکنہ فوجی آپریشن کے پیش نظر نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے جن کے لیے پائندہ چینہ میں رجسٹریشن مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں لوگ رجسٹریشن کے لیے آ رہے ہیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق جمعے کو تیراہ سے متاثرین کی گاڑیاں نکلی تھیں، جو برف باری سے سڑک پر پھسلن ہونے کی وجہ سے پھنس گئیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے جمعے کو بتایا کہ جوں ہی کنٹرول کو اطلاع  ملی تو خیبر، پشاور، نوشہرہ اور دیگر قریبی ریسکیو مراکز سے اہلکاروں کو تیراہ روانہ کر دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلال فیضی نے بتایا: ’گذشتہ رات سے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اب تک 20 گاڑیوں میں سے تقریباً 55 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔‘

دوسری جانب محکمہ صحت کی جانب سے خیبر  کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ متاثرین کو بحفاظت ریسکیو کرنے کے لیے ریپڈ ریسپانس کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔

گذشتہ رات صوبائی وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی اور خیبر سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی بھی آپریشن کا جائزہ لینے کے لیے تیراہ پہنچے۔

ریسکیو حکام کے مطابق ابھی تک آپریشن کے دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

تیراہ کے متاثرین کو ضلعی انتظایہ کی جانب سے جمعرات کی صبح سفری ایڈوائزری جاری کی گئی تھی کہ موسم کی خراب صورت حال کی وجہ سے وہ 22 اور 23 جنوری کو نقل مکانی ترک کریں۔

پنجاب میں آج بھی بارش، مری میں برف باری کا امکان

حکام کے مطابق مری میں جمعرات کی شام سے وقفے وقفے سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک تقریباً دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے، جس میں اضافے کا امکان ہے۔

پنجاب ڈیزاسٹر میجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملتان میں سب سے زیادہ 19 ملی میٹر بارش ہوئی، ایئرپورٹ پر 13 ملی میٹر، جوہرآباد میں 11، نورپور تھل میں 9، مری میں 8، سرگودھا اور چکوال میں 7 ملی میٹر بارش ہوئی۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں ہلکی تا درمیانی بارش ہوئی جبکہ زیادہ سے زیادہ 6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

پی ڈی ایم اے نے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے اجتناب اور محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

پی ڈی ایم اے کنٹرول روم سے موسم کی صورت حال کی مسلسل نگرانی جاری ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں 1129 پر رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بلوچستان: بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی 11 تک گر گیا

بلوچستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے بیشتر علاقے برف باری کے بعد شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10 اور قلات میں منفی 11 ریکارڈ کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ تیز اور یخ بستہ سائبیرین ہواؤں کی وجہ سے پانی سڑکوں اور زمین پر جم گیا اور شدید سردی کے باعث لوگوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ گھروں کی ٹینکیوں اور نلوں میں بھی پانی جم گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ، زیارت، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی، توبہ اچکزئی سمیت متعدد علاقوں میں بھی شدید سردی سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔

افغانستان میں بارش اور برف باری کے باعث 11 اموات

افغانستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر پریپریڈنس ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ پروان، بامیان، میدان وردک، قندھار، جوزجان اور فاریاب سمیت متعدد صوبوں میں شدید بارش اور برف باری کے نتیجے میں 11 افراد جان سے گئے جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے۔

طلوع نیوز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو دستیاب وسائل کے ذریعے فوری امداد فراہم کی جا رہی ہے، جس میں خوراک اور غیر خوراکی اشیا کی تقسیم شامل ہے۔

دوسری جانب وزارتِ تعمیراتِ عامہ نے اعلان کیا ہے کہ شدید برف باری، جاری طوفانی موسم اور تیز ہواؤں کے باعث سالنگ شاہراہ سمیت کئی بڑی شاہراہیں اور سڑکیں عارضی طور پر ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔

وزارت کے مطابق خراب موسمی حالات کے باعث گاڑیوں، مسافروں اور مال بردار ٹرانسپورٹ کے لیے سفر انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ برف ہٹانے والی مشینری، عملے کی تیاری اور ٹھیکیدار کمپنیوں کے تعاون سے موسم بہتر ہوتے ہی بند راستے کھولنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

سڑکوں کی بندش نے نہ صرف ٹریفک میں شدید خلل اور مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں بلکہ اس سے مقامی معیشت، اشیا کی ترسیل اور دور دراز علاقوں تک خدمات کی فراہمی بھی منفی طور پر متاثر ہوئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان