وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی رات قومی سطح پر کفایت شعاری پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے جائیں گے۔
حکومتی فیصلے کے مطابق کفایت شعاری کے اقدامات تمام وزارتوں، محکموں، خود مختار اداروں، دفاعی تنظیموں، عدلیہ اور پارلیمنٹ میں یکساں طور پر نافذ ہوں گے۔
پالیسی کے تحت تمام سرکاری گاڑیوں کو آئندہ دو ماہ کے لیے فراہم کیے جانے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔
تاہم یہ کمی سرکاری بسوں، ایمبولینسز اور موٹر سائیکلوں سمیت آپریشنل گاڑیوں پر لاگو نہیں ہوگی۔
حکومت کے مطابق اس اقدام سے وفاقی سطح پر تقریباً ساڑھے چار ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی 60 فیصد سرکاری گاڑیاں دو ماہ کے لیے گراؤنڈ کر دی جائیں گی۔
کفایت شعاری مہم کے تحت وفاقی اور صوبائی کابینہ کے تمام وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی رضاکارانہ طور پر دو ماہ کی تنخواہیں اور الاؤنسز چھوڑ دیں گے۔
اسی طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں دو ماہ کے لیے 20 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کی جائے گی۔
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ تمام وفاقی و صوبائی محکموں میں گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے ایسے سرکاری افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زائد ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ کٹوتی کی جائے گی۔
مزید برآں تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کے مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کے غیر ترقیاتی بجٹ میں 20 فیصد کمی کی جائے گی جس سے وفاقی سطح پر تقریباً 22 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے جون 2026 تک تمام نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی بھی عائد کر دی ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خطے میں جنگ کے باعث معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے پیٹرول بحران ختم ہونے تک صوبائی وزرا کے لیے سرکاری فیول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں جاری اعلامیے کے اہم نکات یہ ہیں؛
- سرکاری افسران کی گاڑیوں کے پٹرول و ڈیزل الاونس میں فوری طور پر 50 فیصد کمی
- صوبائی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کے پروٹوکول میں شامل اضافی گاڑیوں پر پابندی
- سکیورٹی ضرورت کے تحت وزرا اور افسران کے ساتھ صرف ایک گاڑی رکھنے کی اجازت
- سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی نافذ، صرف ضروری عملہ دفاتر آئے گا
- صوبے بھر میں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند
- تعلیمی اداروں کو آن لائن کلاسز لینے کی اجازت جبکہ امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے
- سرکاری کاموں کے لیے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز منعقد کیے جائیں گے
- تمام سرکاری آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی، ہارس اینڈ کیٹل شو بھی ملتوی
- ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم
- پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا ٹاسک پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو سونپ دیا گیا
ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر اداروں کے نمائندے ٹریک اینڈ ٹریس ٹیم میں شامل ہوں گے۔
حکومت بلوچستان محکمہ تعلیم (سکولز) نے بھی صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے نو مارچ 2026 سے 23 مارچ 2026 تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے میں حالیہ علاقائی صورت حال اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے انتظامی تیاری کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔