پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ: حکومت

نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا ہے۔ تاہم اس اچانک بڑے اضافے پر حکومت کی اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے تنقید کی ہے۔

 7 مارچ 2026 کو کراچی میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان ایک پیٹرول پمپ پر شہریوں کا رش (رضوان تبسم / اے ایف پی)

حکومت پاکستان نے جمعے کو پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے کے اضافے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قیمتوں میں 17 فیصد کا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اس اعلان کے بعد ملک میں اس ہفتے کے لیے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت 266.17 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 321.17 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

یہ اعلان وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ جمعے کی شب اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ 

نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا ہے۔ تاہم اس اچانک بڑے اضافے پر حکومت کے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے تنقید کی ہے۔

مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت یہ اضافہ مسترد کرتی ہے۔

ایک بیان میں شازیہ مری کا کہنا تھا کہ ’پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ اضافہ عوام پر بڑا معاشی بوجھ ہے۔ رمضان المبارک میں دوسری بار قیمتوں میں اضافہ انتہائی افسوس ناک ہے۔‘

انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس اضافے سے مہنگائی کی نئی لہر آئے گی اور عوام کی مشکلات بڑھیں گی۔

بقول شازیہ مری: ’حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔‘

پیپلز پارٹی رہنما شازیہ مری نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع پھیل چکا ہے جس کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف نے ’احتیاط سے کام لیا ہے اور پچھلے دو سے تین ہفتوں سے مشاورت جاری ہے۔‘ 

ان کا کہنا تھا کہ ایک مستقل کمیٹی ہے جو علی پرویز ملک اور محمد اورنگزیب کی قیادت میں باقاعدگی سے صورت حال کا جائزہ لیتی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو کم کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ کام کرنے کی کوششیں کر رہی ہے، ’لیکن خدا جانتا ہے کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔‘ 

حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ قیمتوں کا جائزہ اب ہفتہ وار بنیادوں پر لیا جائے گا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے تشکیل شدہ کمیٹی پچھلے پانچ دنوں سے روزانہ ملاقات کر رہی ہے، جہاں صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ معیشت پر جنگ کے وسیع اثرات پر بھی غور کر رہے ہیں اور کوئی بے چینی کی بات نہیں ہے۔‘ 

شہری تحمل سے کام لیں: اسلام آباد انتظامیہ

ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ تمام پیٹرول پمپس پر بڑی مقدار میں پیٹرول و ڈیزل دستیاب ہے لہذا شہری تحمل سے پیٹرول و ڈیزل ڈلوائیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قلت کے حوالے سے چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں، تاہم ’چند پمپس پر زیادہ رش ہونے کی وجہ سے پیٹرول کی قلت رپورٹ ہوئی ہے۔‘

ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی پمپ پر پیٹرول دینے سے انکار کیا جائے تو اسے لازمی آگاہ کیا جائے۔

اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعے کو اسلام آباد میں پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ جو بھی پیٹرول پمپ مصنوعی قلت کے اس مذموم عمل میں ملوث ہو، اسے فوراً بند کیا جائے اور اوگرا اس کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کرے۔

شہباز شریف نے وزیر پٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پٹرولیم مصنوعات کے تحفظ اور ان کی عوام کو بلاتعطل فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کریں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل سے متعلق ایک ڈیش بورڈ بنایا جائے، جس کے ذریعے صوبوں کے ساتھ ریئل ٹائم میں ڈیٹا شیئر ہو اور پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق اس اچانک بڑے اضافے کی ایک وجہ لوگوں میں خوف کی وجہ سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی حوصلہ شکنی بھی ہوسکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت