جون میں پاکستان کی حکومت نئے مالی سال کے لیے بجٹ پیش کرے گی۔ زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے یہ وقت ریلیف کی توقع کی بجائے خوف کا ہوتا ہے۔
وہ اندازہ لگا رہے ہوتے ہیں کہ نئے ٹیکس اور آمدنی کے اقدامات کے تحت کیا ان کی مہنگائی سے متاثرہ تنخواہیں مہینے بھر چل سکیں گی یا نہیں؟
کیا بجلی کے بل اب بھی ناقابلِ برداشت رہیں گے اور کیا ریاست ایک بار پھر ان لوگوں سے قربانی کا مطالبہ کرے گی جن پر ٹیکس لگانا سب سے آسان ہے، جبکہ ان منظم کاروباری طبقوں کو چھوڑ دے گی جو اتنے طاقت ور ہیں کہ اپنی مرضی سے رعایتیں لے لیتے ہیں۔
اس سال اصل بجٹ سوال یہ نہیں کہ ملک کے اہم قرض دہندگان جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اس مطالبے کو کیسے پورا کیا جائے کہ براہ راست ٹیکس کے ذریعے مزید آمدنی حاصل کی جائے یا وفاق اور صوبوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کیسے سنبھالا جائے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اب بھی یہ دکھاوا جاری رکھ سکتی ہے کہ بجٹ صرف قرض دہندگان اور حکومتوں کے حق میں فیصدی تبدیلیوں کا کھیل ہے یا یہ کہ اسے بنیادی طور پر اس انداز میں دوبارہ ترتیب دیا جائے جو 24 کروڑ شہریوں کے لیے منصفانہ ہو۔
عوامی نقطۂ نظر سے مسئلہ انتہائی واضح ہے۔ ایک بڑی اکثریت صرف یہ چاہتی ہے کہ وہ قابلِ برداشت اور پیداواری زندگیاں گزارے، بجائے اس کے کہ انہیں زیادہ ٹیکس لگا کر زندگی کے بے مزہ اور تنگ دائرے میں دھکیل دیا جائے۔
یقیناً پاکستان کو مالی استحکام کی ضرورت ہے لیکن ریاست اسے سب سے غیر منصفانہ طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے: یعنی ان لوگوں کو دبا کر جو پہلے ہی ٹیکس نظام کی نظر میں ہیں اور بھاری قرض لے کر اپنے بڑے اور غیر ضروری بیوروکریسی اور ایسے نمائشی منصوبوں کو چلانے کے لیے، جن پرعوام کی ملکیت کا کوئی تصور موجود نہیں۔
پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10 فیصد ہے، جو جنوبی ایشیا اور عالمی معیار سے بہت کم ہے۔
تاہم اس محدود ٹیکس دائرے کے اندر بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار گھرانوں پر پڑتا ہے کیونکہ ان کی آمدنی دستاویزی ہوتی ہے اور ٹیکس منبع پر ہی کٹ جاتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار پاکستانیوں نے مالی سال 2024 میں 368 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو ایک سال پہلے کے 264 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔
مالی سال 2025 کے اختتام تک یہ بڑھ کر تقریباً 545 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ یہ برآمد کنندگان کے ادا کردہ ٹیکس سے تین گنا اور ریٹیلرز کے ادا کردہ ٹیکس سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔
اس وسیع البنیاد ٹیکس اصلاحات کے فقدان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کمزور ملازمین سے آسانی سے وصولی کو ترجیح دے رہی ہے بجائے اس کے کہ منصفانہ حکمرانی اختیار کرے۔
کسی ’وِن وِن‘ بجٹ کی توقع اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یہ تسلیم نہ کیا جائے کہ ریاست نے کس طرح حکومت کی ہے۔
پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ کم آمدنی اکٹھی کرتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ مراعات کو تحفظ دیتا ہے اور تعمیل کرنے والوں پر ٹیکس کا بوجھ ڈالتا ہے۔
اکنامک سروے 25-2024 نے بتایا کہ ٹیکس اخراجات 5.8 کھرب روپے تک پہنچ گئے جو ایک سال پہلے 3.8 کھرب روپے تھے۔
اس میں سے صرف سیلز ٹیکس کی چھوٹ ہی 4.2 کھرب روپے سے زیادہ تھی جبکہ امیر طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی چھوٹ اور مراعات 800 ارب روپے سے زیادہ تک بڑھ گئیں۔
ایک ایسی حکومت جو کمی کا رونا روئے لیکن کھربوں روپے چھوٹ کی صورت میں دے دے، وہ یہ دعویٰ ایمان داری سے نہیں کر سکتی کہ تنخواہ دار متوسط طبقے پر زیادہ ٹیکس لگانے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
اور نہ ہی وہ وفاقی پیچیدگی کے پیچھے چھپ سکتی ہے۔ اگر اسلام آباد اور صوبے وسائل کی تقسیم اور سیاسی معاہدوں پر بات چیت کر سکتے ہیں تو یقیناً وہ ٹیکس کے بوجھ اور عوامی ذمہ داری کی منصفانہ تقسیم پر بھی اتفاق کر سکتے ہیں۔
جو چیز غائب ہے وہ انتظامی امکان نہیں بلکہ سیاسی جرات ہے۔ اسی اشرافیہ مرکوز بگاڑ کا اظہار توانائی کے شعبے میں بھی ہوتا ہے، جہاں حکمرانی کی ناکامی براہ راست صارفین پر ڈال دی گئی ہے۔
پاکستان کا بجلی کا بحران اب صرف سپلائی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ مہنگے معاہدوں، پالیسی کی ناکامیوں اور مفادات کا سامنا کرنے سے انکار کا مسئلہ بن چکا ہے۔
صرف کپیسٹی پیمنٹس ہی فی یونٹ لاگت میں 25 فیصد سے زیادہ اضافہ کرتی ہیں۔
سادہ الفاظ میں، شہری صرف استعمال کی گئی بجلی کی نہیں بلکہ برسوں کی ناقص منصوبہ بندی، معاہداتی زیادتی اور ادارہ جاتی ناکامی کی بھی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ وہ جگہ ہے جہاں حکومت کی ناکامی اخلاقی سیاسی طور پر مزید ناقابلِ دفاع بن جاتی ہے۔
ایک ایسی ریاست جو نقصانات کم نہیں کر سکتی، طاقت ور نادہندگان سے ریکوری بہتر نہیں بنا سکتی، کپیسٹی پیمنٹس کو معقول نہیں بنا سکتی یا خراب توانائی معاہدوں کو شفاف طریقے سے ختم نہیں کر سکتی، اسے یہ حق نہیں کہ وہ اپنے مالی معاملات کا بوجھ تنخواہ دار گھرانوں پر ڈالے۔
نہ ہی وہ کفایت شعاری کا راگ الاپ سکتی ہے جبکہ خاندان بڑھتے ہوئے بجلی کے بل، جمود زدہ قوت خرید اور گھٹتی ہوئی قابلِ خرچ آمدنی برداشت کر رہے ہوں۔
پاکستان ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق اوسط ماہانہ گھریلو آمدنی 82,179 روپے ہے جبکہ اوسط گھریلو اخراجات 79,150 روپے ہیں، جس سے کسی بھی جھٹکے کے لیے تقریباً کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
جب یوٹیلیٹی بلز آمدنی کا اتنا بڑا حصہ کھا جاتے ہیں تو ٹیکس ایک شہری ذمہ داری کی بجائے رسمی کام کرنے کی سزا لگنے لگتا ہے۔ یہ اعتماد کا زوال خود ایک حکومتی ناکامی ہے۔
تو کیا ایک ’وِن وِن‘ بجٹ اب بھی ممکن ہے؟ جی ہاں، لیکن صرف اس صورت میں جب حکومت اشرافیہ کی رعایت اور شہریوں سے وصولی کی اپنی خودکار ترجیح کو ترک کرے۔
اس کا مطلب ہے کہ ٹیکس نیٹ کو اُن طبقات تک بڑھانا جو کم یا بالکل ٹیکس نہیں دیتے اور کسی بھی نئے وفاقی-صوبائی معاہدے کو قابلِ پیمائش عوامی خدمات سے جوڑنا۔
سب سے بڑھ کر بجٹ کو ایک سادہ جمہوری حقیقت تسلیم کرنی ہوگی: شہری اس لیے موجود نہیں کہ وہ اشرافیہ کے سودے بازی کے مالی بوجھ اٹھائیں بلکہ حکومتیں اس لیے ہوتی ہیں کہ وہ منصفانہ حکمرانی کریں۔
عدنان رحمت پاکستان میں مقیم صحافی، محقق اور تجزیہ کار ہیں جن کی دلچسپی سیاست، میڈیا، ترقی اور سائنس میں ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
