پاکستان کے وفاقی اور وزیر مملکت برائے خزانہ نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ میں وسعت لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اس لیے چھوٹے دکانداروں پر فکسڈ ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسلام میں آباد میں نیوز کانفرنس سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ میں وسعت لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ان کے ساتھ موجود وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے اس موقعے پر میڈیا کو بتایا کہ حکومت نے چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ان پر فکسڈ ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چھوٹے دکانداروں پر ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ
وزیر مملکت برائے خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘اس سکیم کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جو دکاندار اس میں شامل ہوں گے، ان کے جمع کرائے گئے فارم کی بنیاد پر عام طور پر انہیں آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ تاہم، اگر کسی کیس میں بڑا مسئلہ سامنے آئے تو آڈٹ تاجر تنظیموں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، اور اس کے لیے باقاعدہ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔‘
بلال اظہر کیانی کے مطابق ’اس سکیم کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ شامل ہونے والے دکانداروں کو ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم اور اس سے متعلق پیچیدہ مشینری کی شرط سے بھی استثنیٰ مل جائے گا۔ مزید یہ کہ انہیں وِدہولڈنگ ایجنٹ بننے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔‘
ان کے مطابق اس سکیم میں نہ صرف نان فائلرز بلکہ موجودہ فائلرز بھی شامل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ پچھلے تین سالوں میں کسی ایک سال میں ان کی آمدن 20 کروڑ روپے سے زیادہ نہ ہو۔ مزید شرط یہ ہے کہ ٹیکس کی ادائیگی کم از کم گذشتہ سال کے برابر ہو۔‘
اانہوں نے بتایا کہ ’گر کوئی شخص اس سکیم یا عام ٹیکس نظام، دونوں میں شامل نہ ہو تو اس پر جرمانہ عائد ہوگا: پہلے مہینے 10 ہزار، دوسرے میں 25 ہزار اور تیسرے میں 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہو گا۔‘
حکومت ٹیکس نیٹ میں وسعت لانے کے اقدامات کر رہی ہے: وفاقی وزیر خزانہ
اس موقعے پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’جب یہ ریفارمز متعارف کروائی گئیں تو ہمارا مقصد یہ تھا کہ بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات کو اپنے وسائل سے پورا کیا جائے تاکہ ہمیں بیرونی مدد پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ ‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق ’یہ خودانحصاری کے لیے انتہائی اہم قدم ہے۔ اس سلسلے میں ٹیکس نظام کو منصفانہ، متوازن اور پائیدار بنانا ضروری ہے، جس کے لیے حکومت اصلاحات پر کام کر رہی ہے اور وزیراعظم خود اس عمل کی قیادت کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’اب توجہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر ہے، کیونکہ شرح بڑھانے کے بجائے اس کو کم کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے چھوٹے دکانداروں کو اس نظام میں شامل کیا جا رہا ہے، جو تقریباً 30 سے 40 لاکھ افراد پر مشتمل ایک بڑا طبقہ ہیں۔‘
ان کے مطابق: ’یہ سکیم تاجروں کی مشاورت اور ان کے مطالبے پر تیار کی گئی ہے، تاکہ نظام کو آسان اور سہل بنایا جا سکے۔ ہم ان تمام افراد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس عمل میں تعاون کیا اور امید ہے کہ یہ اقدام معیشت کو مضبوط کرے گا۔‘