پاکستان-انڈیا تعلقات: دباؤ کی پالیسی ناکام، مکالمہ ناگزیر

مسلسل بحرانوں کے تناظر میں ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ اعتماد کی بحالی، محدود تعاون، تجارت اور مسلسل مکالمہ ہی دونوں جوہری ہمسایوں کے درمیان مستحکم تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص میں فتح اول میزائل استعمال کیے (سکیورٹی ذرائع)

پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ سال مئی کی مختصر جنگ کے ایک سال بعد، جنوبی ایشیا کی سٹریٹجک بحث میں خاموشی سے ایک اہم تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔

ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رہنما دتاتریہ ہوسابالے نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’انڈیا کو پاکستان کے ساتھ مکالمے کی کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔‘

ان کے اس بیان نے نہ صرف انڈیا اور پاکستان دونوں کو حیران کیا بلکہ شدید ردعمل کو بھی جنم دیا تاہم ایک بات اب کافی واضح ہو رہی ہے اور وہ یہ کہ فوجی برتری اور سزا پر مبنی ڈیٹرینس (punitive deterrence) کی بیان بازی آہستہ آہستہ ایک زیادہ سنجیدہ حقیقت پسندی میں بدل رہی ہے۔

 انڈیا اور نہ ہی پاکستان ایک دوسرے کے سٹریٹیجک رویے، سیاسی استحکام یا جغرافیائی اہمیت کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

انڈیا کے سابق سفیر ٹی سی اے راگھون اور شرت سبھروال کی باتوں اور پاکستانی ماہرین کے ردعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں طرف صرف اختلاف نہیں بلکہ ایک بات پر اتفاق بھی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان اور انڈیا جیسے دو جوہری ممالک کے درمیان بار بار بحرانوں کو سنبھالنا کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ کٹر سوچ رکھنے والے لوگ بھی اب سمجھنے لگے ہیں کہ اگر صرف دباؤ ڈالا جائے اور بات چیت نہ ہو تو کشیدگی کبھی ختم نہیں ہوگی بلکہ بار بار یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

آج سب سے بڑی رکاوٹ سفارتی ذرائع کی کمی نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کا خاتمہ اور دونوں جانب اندرونی سیاسی گنجائش کا سکڑ جانا ہے۔

برسوں کی قوم پرستانہ مہم، میڈیا کی تقسیم اور سکیورٹی بیانیے نے محدود رابطوں کو بھی سیاسی طور پر خطرناک بنا دیا ہے۔

تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انڈیا اور پاکستان نے اکثر شدید محاذ آرائی کے بعد ہی مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں جیسے  کارگل کے بعد جنگ بندی کے عمل سے لے کر جامع مذاکراتی فریم ورک اور بعد ازاں بیک چینل مذاکرات تک۔

موجودہ لمحہ ایک بار پھر جذباتی بیان بازی سے نکل کر سٹریٹجک حقیقت پسندی کی طرف جانے کا تقاضا کر سکتا ہے۔

حالیہ بحرانوں سے پہلا سبق یہ ملتا ہے کہ صرف فوجی اشارے سیاسی حل پیدا نہیں کر سکتے۔ آپریشن سندور نے شاید انڈیا کی جانب سے قیمت چکانے پر مجبور کرنے کی صلاحیت دکھائی ہو، جبکہ پاکستان کے ردعمل نے اپنی ڈیٹرینس کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ لیکن ڈیٹرینس صرف مکمل جنگ سے بچاؤ فراہم تو کرتی ہے لیکن یہ پائیدار امن قائم نہیں کر سکتی۔ نہ ہی یہ بنیادی تنازعات حل کر سکتی ہے، علاقائی عدم استحکام کم کر سکتی ہے یا معاشی مواقع کو کھول سکتی ہے۔

دوسرا سبق بھی اتنا ہی اہم ہے۔ عالمی ماحول بدل چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا وہ فریم ورک، جس نے کبھی جنوبی ایشیا کی سفارت کاری کو شکل دی تھی، اب کمزور پڑ چکا ہے۔

بڑی طاقتیں اب ریاستوں کو ایک مسئلے تک محدود بیانیے کے بجائے وسیع تر جغرافیائی و سیاسی تناظر میں دیکھتی ہیں۔

2026 کے ایران-امریکہ بحران کے دوران پاکستان کا کردار اس حقیقت کی مثال ہے۔ اسلام آباد کی ایران، امریکہ، چین، سعودی عرب، ترکی، مصر اور دیگر علاقائی قوتوں کے ساتھ بیک وقت روابط برقرار رکھنے کی صلاحیت اس کی مسلسل جغرافیائی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

لہٰذا سوال یہ ہے کہ مکالمے کے لیے ایسا عملی روڈ میپ کیسے تیار کیا جائے جو ماضی کی ناکامیوں سے بچ سکے۔

ابتدا توقعات کو محدود رکھنے سے ہونی چاہیے۔ ماضی میں انڈیا-پاکستان امن اقدامات کی ایک بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ مذاکرات پر حد سے زیادہ بوجھ ڈال دیا جاتا تھا۔

مخالف ریاستوں کے درمیان پائیدار سفارت کاری عموماً بڑے معاہدوں سے شروع نہیں ہوتی بلکہ چھوٹے، قابلِ حصول اقدامات سے شروع ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ اعتماد اور پیش گوئی کی صلاحیت کو بحال کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہو؟

پہلی اور فوری ضرورت مستقل رابطہ چینلز کی بحالی ہے۔ کشیدگی کے دوران بھی فوجی سطح پر رابطے اور سفارتی تعلقات بحران سے بچاؤ کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

دونوں ممالک کو چاہیے کہ ڈائریکٹرز جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان باقاعدہ رابطے کو ادارہ جاتی شکل دیں اور میڈیا کے دباؤ سے آزاد بیک چینل سفارت کاری کو دوبارہ فعال کریں۔ خاموش سفارت کاری اکثر اسی لیے کامیاب ہوتی ہے کہ یہ عوامی بیانات سے ہٹ کر لچک فراہم کرتی ہے۔

دوسرا، لائن آف کنٹرول پر 2021 کی جنگ بندی کی مفاہمت کی توثیق اور توسیع کی جانی چاہیے۔ یہ حالیہ برسوں میں اعتماد سازی کے چند کامیاب اقدامات میں سے ایک ہے۔ سرحدی کشیدگی میں کمی سے شہریوں کی سکیورٹی بہتر ہوتی ہے اور غیر ارادی تصادم کے خطرات کم ہوتے ہیں۔

تیسرا، انسانی اور عوامی سطح کے اقدامات کو وسیع سیاسی تنازعات سے فوری طور پر جوڑے بغیر بحال کیا جانا چاہیے۔

بٹے ہوئے خاندانوں، مریضوں، ماہرین تعلیم، فنکاروں، تاجروں اور مذہبی زائرین کے لیے ویزا میں نرمی آہستہ آہستہ سماجی روابط کو بحال کر سکتی ہے۔ انسانی رابطہ اسٹریٹجک تنازعات حل نہیں کرتا، لیکن طویل دشمنی سے پیدا ہونے والی دوری کو کم ضرور کرتا ہے۔

چوتھا، تجارت ایک اور عملی راستہ فراہم کرتی ہے۔ دو طرفہ تجارت کے خاتمے سے پہلے دونوں ممالک محدود تجارتی روابط سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔

مخصوص شعبوں، خصوصاً ادویات، زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل اور ضروری اشیا میں تجارت کی بحالی استحکام کے لیے معاشی مفادات پیدا کرے گی۔ جنوبی ایشیا جغرافیائی فوائد کے باوجود دنیا کے کم ترین معاشی طور پر مربوط خطوں میں سے ایک ہے۔

پانچواں، رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) کو طویل مدتی علاقائی وژن کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان کا جغرافیہ اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک پل بنا سکتا ہے۔

انڈیا کی معیشت اور ٹیکنالوجی کی صلاحیت اس نظام کو تقویت دے سکتی ہے۔ توانائی راہداریاں، ٹرانزٹ معاہدے اور علاقائی انفراسٹرکچر منصوبے تنازع کم کرنے کے لیے مشترکہ معاشی مفادات پیدا کریں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ ان اقدامات کے لیے کسی بھی فریق کو اپنے بنیادی سیاسی مؤقف سے دستبردار ہونے کی ضرورت نہیں۔ سفارت کاری کی تاریخ بتاتی ہے کہ ریاستیں اکثر تنازعات کے باوجود عملی تعاون کرتی ہیں۔

دونوں فریقین کے درمیان جموں و کشمیر کا مسئلہ بدستور مرکزی حیثیت رکھے گا۔ تاہم موجودہ سیاسی حالات میں فوری حتمی حل کی توقع غیر حقیقی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زیادہ عملی طریقہ یہ ہوگا کہ سافٹ بارڈرز، لائن آف کنٹرول کے پار روابط، معاشی تعاون اور تدریجی استحکام پر مبنی سابقہ مفاہمتوں کو بحال کیا جائے۔

دہشت گردی کے خلاف تعاون بھی کسی سنجیدہ مکالمے کا حصہ ہونا چاہیے۔ مخصوص سرحد پار خطرات کے حوالے سے منظم انٹیلی جنس شیئرنگ مستقبل میں محدود مگر بامعنی تعاون کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

تاہم فیصلہ کن عنصر سیاسی قیادت ہی رہے گی۔ جہاں وزیر اعظم مودی کو مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی قابلِ قبول جواز درکار ہوگا، وہیں پاکستان کو بھی مسلسل اور بلا تعطل مکالمے کے لیے ماحول تیار کرنا ہوگا۔

جنوبی ایشیا میں سب سے خطرناک غلط فہمی یہ ہے کہ مستقل دشمنی کو غیر معینہ مدت تک سنبھالا جا سکتا ہے۔ اب یہ خطہ جدید فوجی ٹیکنالوجی، سائبر جنگ، ڈرونز، تیز رفتار فیصلوں اور ایٹمی روک تھام کے ماحول میں کام کر رہا ہے۔

آئندہ بحران ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ سکتے ہیں، جہاں کشیدگی کم کرنے کا وقت بہت کم ہوگا۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان مکمل امن شاید ابھی دور ہو۔ لیکن منظم بقائے باہمی ممکن ہے۔ مقصد رومانوی مفاہمت نہیں بلکہ مستحکم حقیقت پسندی ہونا چاہیے۔

یہ عمل اسی وقت شروع ہو سکتا ہے جب دونوں فریق ایک بنیادی حقیقت کو تسلیم کریں اور وہ یہ کہ جغرافیہ نے انہیں مستقل ہمسایہ بنایا ہے، لیکن سٹریٹجک بلوغت یہ طے کرے گی کہ وہ کس نوعیت کے ہمسایہ بننا چاہتے ہیں۔

بشکریہ عرب نیوز

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر