کاش! ایک دن پھر ایسا آئے کہ سردیوں کی پہلی صبح چترال کی چوٹیاں حسبِ معمول سفید لباس میں ملبوس ہوں، چشمے اطمینان سے بہہ رہے ہوں اور کوئی بزرگ اپنے پوتے سے مسکرا کر کہے: ’دیکھو بیٹا! برف پھر وقت پر گری ہے۔‘
ریسکیو 1122 کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک امدادی سرگرمیوں میں 100 سے زیادہ افراد کو طبی معاونت فراہم کی گئی ہے۔