صدر  اور وزیراعظم کا چترال میں برفانی تودہ گرنے سے نو اموات پر افسوس کا اظہار

صدر مملکت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’موسمی تبدیلیوں کے مطابق پیشگی تیاری اور نقصانات کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘

23 جنوری 2026 کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے مضافات میں ایک شخص اپنے گھر کی چھت سے برف ہٹا رہا ہے (سجاد قیوم / اے ایف پی)

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے چترال میں برفانی تودہ گرنے سے ہونے والی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ریسکیو حکام کے مطابق جمعے کو لوئر چترال کے علاقے ڈومیل میں ایک گھر پر برفانی تودہ گرنے سے نو افراد جان سے چلے گئے تھے جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا تھا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے جمعے کو جاری بیان میں جان سے جانے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ’شدید بارش، برف باری اور اچانک شدید سردی موسمیاتی ہنگامی صورت حال کی واضح نشانیاں ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کے مطابق پیشگی تیاری اور نقصانات کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘

انہوں نے وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اقدامات تیز کریں اور عوام سے مسلسل رابطہ رکھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے بروقت معلومات کی فراہمی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی چترال میں برفانی تودہ گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ وفاقی ریسکیو و ریلیف اداروں کو صوبائی حکومت کے تعاون سے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین کو ملک کے پہاڑی علاقوں میں برف باری کے بعد کی صورت حال کی نگرانی اور متعلقہ اداروں سے رابطہ رکھنے کی بھی ہدایت کی تاکہ کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے مختلف علاقوں میں جمعرات سے جاری بارش اور برف باری کے باعث جہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے وہیں سڑکوں کی بندش اور چند ایک مقامات پر حادثات پیش آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ایسے میں محکمہ موسمیات نے اتوار (25 جنوری) کی رات سے منگل (27 جنوری) تک ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارش اور برف باری کی پیشگوئی کی ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کی گئی پیشگوئی کے مطابق مغر بی ہواؤں کا ایک سلسلہ 25 جنوری (اتوار) کو ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے، جو 26 جنوری کو ملک کے بالائی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔

بیان کے مطابق اس موسمی نظام کے زیرِ اثر 25 اور 26 جنوری کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری کا امکان ہے۔ اسی طرح 26 جنوری کو بالائی سندھ میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

مزید بتایا گیا کہ 26 اور 27 جنوری کے دوران گلگت بلتستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں سمیت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری  اور چند مقامات پر شدید برف باری کا بھی امکان ہے۔

 

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 26  جنوری کی رات سے 27 جنوری کے دوران شدید برف باری کے باعث ناران، کاغان، دیر، سوات، کالام، چترال، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، شانگلہ، استور، ہنزہ، سکردو، مری، گلیات، وادی نیلم، باغ، پونچھ، حویلی، کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی اور ژوب میں سڑکوں کے بند ہونے اور پھسلن کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خلل کا اندیشہ ہے۔

اسی طرح بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا بھی خطرہ ہے۔

محکمہ موسمیات نے سیاحوں کو محتاط رہنے اور ان علاقوں کے غیر ضروری سفر سے اجتناب جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان