امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پشاور میں واقع امریکی قونصل خانے کو امریکی حکام نے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بندش کی وجہ پیسوں کی بچت بتائی گئی ہے اور متعلقہ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کو ایک خط میں لکھا ہے کہ اس بندش سے سالانہ سرکاری خزانے کو 75 لاکھ ڈالر کی بچت ہو گی جبکہ پاکستان میں امریکی مفادات متاثر نہیں ہوں گے۔
تاہم قونصل خانے کی بندش کے حوالے سے باضابطہ طور پر ابھی امریکی حکام کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔
انڈپینڈنٹ اردو نے قونصل خانے کی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے پیغام بھیجا، لیکن اس خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
پشاور میں واقع امریکی قونصل خانہ دراصل افغانستان کے قریب امریکہ کی موجودگی کی ایک جگہ تھی اور اسی قونصل خانے نے 80 کی دہائی اور اس کے بعد 2001 میں نیٹو افواج کے افغانستان آنے کے بعد بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔
کئی دہائیوں سے ایک کوٹھی میں واقع متحرک امریکی قونصل خانہ پشاور میں گورا قبرستان کے بالکل سامنے کے پوش علاقے میں واقع ہے۔
مبصرین کے مطابق اس قونصل خانے نے سوویت یونین کی افغانستان میں شکست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اپنی جغرافیائی قربت کی وجہ سے یہ قونصل خانہ افغانستان اور خیبر پختونخوا کے حالات پر نظر رکھنے کا ایک اہم سفارتی مرکز سمجھا جاتا تھا۔
امریکی سفارت کار رچرڈ ہوگلینڈ 80 کی دہائی میں پشاور قونصل خانے میں ذمہ داریاں سر انجام دے چکے ہیں جبکہ بعد میں 2012 میں اسلام آباد میں امریکہ کے نائب سفیر بھی رہے۔
انہوں نے کیسپیئن پالیسی سنٹر پر شائع اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ پشاور قونصل خانہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکہ کے لیے ’گراؤنڈ زیرو تھا۔‘
حالانکہ رچرڈ کے مطابق پشاور قونصل خانہ 80 کے اوائل میں بے کار پڑا تھا اور رونالڈ ریگن کے امریکی صدر بننے کے بعد اسے بند کرنے کا فیصلہ ہو چکا تھا لیکن سوویت یونین کی جنگ نے اس کو اہم بنا دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رچرڈ نے لکھا ہے کہ ’اس وقت سوویت یونین کے خلاف افغانستان کی مزاحمتی سیاسی و مذہبی جماعتیں تھیں اور اس وقت ہم ہی ان جماعتوں کو جوڑتے اور سوویت یونین کے خلاف معاونت فراہم کرتے تھے۔‘
اپنے مضمون میں ریچرڈ نے قونصل خانے کی حدود میں ’دی امریکن کلب پشاور‘ کی ایک دلچسپ کہانی بھی لکھی ہے جہاں مختلف سفارت کار، غیر ملکی صحافی، خفیہ ایجنسیوں کے لوگ اور کچھ ’فریڈم فائٹرز‘ بھی آیا کرتے تھے۔
افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری جنگ نے جہاں پشاور کو بہت زیادہ بم دھماکوں اور خودکش حملوں سے متاثر کیا، ان میں سے بعض کا ہدف یہ امریکی قونصل خانہ بھی رہا۔
اس کی سکیورٹی بڑھانے کی خاطر اس کے سامنے کی سڑک کو 26 سال قبل عام شہریوں کے لیے بند کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ آج بھی پشاور کے شہریوں کو کھٹکتا ہے۔ اس قونصل خانے کو یہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئیں لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔
قونصل خانہ کے باہر سکیورٹی رکاوٹیں اور جدید سکریننگ مشینیں اسے ایک ناقابلِ تسخیر چھوٹا مغربی قلعہ بنا دیتی تھیں۔
اچھے دنوں میں یہ قونصل خانہ امریکی ثقافت اور آرٹ کے فروغ کا بھی وسیلہ بنا لیکن اس کی بندش سے خطے میں ایک طویل امریکی سفارتی دور کا اختتام ہوا ہے۔
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے انسپکٹر جنرل برائے سفر کی 2011 کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں قائم امریکی قونصل خانہ دنیا میں امریکہ کی جانب سے سب سے خطرناک مقام تھا اور یہاں امریکی سفارت کاروں کے کام کرنے کو بہادری سمجھا جاتا ہے۔
اس رپورٹ میں امریکی حکومت کو تجویز دی گئی تھی کہ پشاور قونصل خانے کو لاہور یا کراچی کی طرح ٹریٹ نہ کیا جائے بلکہ یہ ایسا ہی ہو جیسے امریکہ کا افغانستان کے کسی صوبے میں قونصل خانہ قائم ہو۔
بندش کی وجہ
امریکہ کی جانب سے پشاور قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ مبصرین کے مطابق معمولی فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ اس خطے میں سیاسی تبدیلی کی علامت بھی ہے۔
ایم ریاض خان پشاور میں مقیم صحافی اور پشاور پریس کلب کے صدر ہیں جنہوں نے افغانستان میں سوویت یونین کی جنگ اور اس دوران رونما ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ کی ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پشاور میں امریکی قونصل خانہ دنیا میں امریکہ کی پوسٹوں میں ایک اہم آبزرویشن پوسٹ تھی جہاں سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 80 کی دہائی میں سوویت یونین کو شکست دینے میں کردار ادا کیا تھا۔
|
قونصل خانے کی بندش، پشاور میں امریکی سفارتی دور کا اختتام پشاور کا 11 ہسپتال روڈ شہر کے اہم ترین ایڈریسز میں سے ایک رہا ہے۔ یہ کئی دہائیوں سے ایک کوٹھی میں واقعے اس متحرک امریکی قونصل خانے کا پتہ ہے جس نے سویت یونین کی افغانستان میں شکست میں اہم کردار ادا کیا، تاہم امریکی حکام نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ یہ اب یہ متحرک مرکز ہمیشہ کے لیے بند ہو جا رہا ہے۔
اس کی بندش سے خطے میں ایک طویل امریکی سفارتی دور کا اختتام ہوا ہے۔ |
ایم ریاض کے مطابق،’یہ صرف قونصل خانہ یا سفارتی مقام کی بندش نہیں تاریخ کی اہم باب کی بندش ہے کیونکہ سرد جنگ، سویت یونین کی افغانستان آمد اور اس کے بعد 9/11 کے نتیجے میں خطے میں تبدیلی کی وجہ سے پشاور قونصل خانے نے ایک اہم اور حساس مقام کا کرداد ادا کیا ہے۔‘
ایم ریاض سمجھتے ہیں کہ اس سے بظاہر یہ بھی لگتا ہے کہ امریکہ شاید افغانستان میں مزید دلچسپی نہیں لے رہا جبکہ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جب اسلام آباد کا سفارت خانہ ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ہو تو یہاں اب امریکہ کے مطابق شاید قونصل خانے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’90 کی دہائی میں یہاں سے ویزوں کا اجرا ہوتا تھا لیکن بعد میں بند ہو گیا جبکہ اس قونصل خانے میں ویزا سروس یا ایسی کسی عوامی مفاد کی خدمات فراہم نہیں کی جاتی تھیں۔
’یہ صرف سٹریٹجک مقاصد کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن کبھی کبھی مختلف تقریبات منعقد کر کے صحافیوں اور دیگر اہم شخصیات کو بلاتے تھے۔‘
افغانستان اور پاکستان میں شدت پسندی پر گہری نظر رکھنے وال صحافی و تجزیہ کار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ان کے لیے پشاور قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ حیران کن ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ افغانستان اب بھی اور ہمیشہ کے لیے امریکہ کے لیے اہم ہوگا اور اسی کے لیے پشاور شہر بھی اہمیت کا حامل ہے۔
رفعت اللہ نے بتایا کہ ’مجھے حیرانی ہوئی جب بندش کے فیصلے کے حوالے سے خبر پڑھی کیونکہ اس خطے میں افغانستان اہم ہے اور یہ امریکہ کے لیے اسی طرح اہم ہی ہوگا۔‘