مجھے اپنے بچپن کی تقریباً ہر برف باری یاد ہے۔ یہ محض ایک یاد نہیں، ایک پورا عہد ہے جو آج بھی میرے اندر زندہ ہے۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو ہندوکش کی برف پوش چوٹیاں، دیودار کے خاموش جنگل، پہاڑوں کے دامن میں پھیلے سرسبز کھیت، بل کھاتی نہریں اور برف کی دبیز چادر میں لپٹا ہوا میرا گاؤں ایک ایک کرکے نگاہوں کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔
یوں لگتا ہے جیسے وقت نے وہاں چلنا ہی چھوڑ دیا ہو لیکن جب آنکھیں کھلتی ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ دراصل وقت نہیں، موسم بدل گئے ہیں اور موسموں کے ساتھ ہماری پوری زندگی بھی۔
میرے بچپن میں اکتوبر کے آخری دنوں یا نومبر کے آغاز کے ساتھ ہی آسمان کا مزاج بدلنے لگتا تھا۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کی پہلی لکیر نمودار ہوتی تو بزرگ مسکرا کر کہتے: ’اب سردی آ گئی۔‘ چند ہی دنوں میں پورا چترال سفید چادر اوڑھ لیتا۔ ایک بار جو برف گرتی، وہ پانچ پانچ اور چھے چھے ماہ تک زمین کا ساتھ نہیں چھوڑتی تھی۔ اس دوران مزید برف پڑتی رہتی، راستے دب جاتے، درخت خاموش ہو جاتے اور پوری وادی ایک ایسی پرسکون دنیا میں بدل جاتی جسے بیان کرنے کے لیے شاید لفظ بھی ناکافی ہوں۔
فروری کے آخری ہفتوں میں جب سورج کی حدت ذرا بڑھتی تو ہمارے لیے ایک نیا موسم شروع ہوتا۔ ہم کھیتوں میں جا کر زمین کھودتے، مٹی نکالتے اور اسے برف پر بکھیرتے تاکہ برف جلد پگھلے اور اس کے نیچے دبی ہوئی گندم دوبارہ روشنی دیکھ سکے۔ اس وقت یہ ایک معمول تھا، لیکن آج محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض کاشت کاری نہیں تھی۔ وہ انسان اور فطرت کے درمیان اعتماد کا ایک خاموش معاہدہ تھا۔ ہم زمین سے رزق لیتے تھے، مگر اس کی حرمت بھی جانتے تھے۔
پھر نہ جانے کب موسموں نے اپنی صدیوں پرانی ڈائری بند کر دی۔
اب نومبر اکثر خشک گزر جاتا ہے۔ دسمبر بھی برف کے انتظار میں بیت جاتا ہے۔ جنوری بھی کئی بار خالی ہاتھ لوٹ جاتی ہے۔ اگر برف آتی بھی ہے تو فروری کے آخر یا مارچ میں اور کبھی اپریل تک اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جو برف کبھی مہینوں زمین پر ٹھہری رہتی تھی، وہ اب چند دنوں میں پگھل کر بہہ جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پہاڑوں کی پیشانی سے سفید دستار آہستہ آہستہ سرک رہی ہو۔
صرف برف نے اپنا وقت نہیں بدلا، پانی نے بھی اپنا مزاج بدل لیا ہے۔
میرے بچپن میں سیلاب بھی ایک ترتیب کا پابند تھا۔ لوگ جانتے تھے کہ جولائی کے وسط سے اگست کے پہلے عشرے تک اگر بارشیں زیادہ ہوں تو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ مگر اب سیلاب نے موسموں کی پابندی چھوڑ دی ہے۔ مارچ، اپریل، مئی، اگست یا ستمبر، کوئی مہینہ یقین سے محفوظ نہیں کہا جا سکتا۔ دریا جیسے اپنے کناروں سے ناراض ہو گئے ہوں۔
حالیہ دنوں میں چترال کی مختلف وادیوں میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھی، بلکہ ایک اجتماعی سانحہ تھا۔ غیر معمولی گرمی نے گلیشیئروں کو بے چین کیا، بعض مقامات پر گلیشیائی جھیلیں پھٹیں، پھر موسلا دھار بارشوں نے ان بے قابو پانیوں کو ایسی قوت دے دی کہ چند گھنٹوں میں برسوں کی آبادیاں اجڑ گئیں۔ رابطہ سڑکیں مٹ گئیں، پُل پانی میں تحلیل ہو گئے، نہریں ٹوٹ گئیں، کھڑی فصلیں کیچڑ میں دفن ہو گئیں، دکانیں اور گاڑیاں بہہ گئیں، مال مویشی پانی کے ریلوں میں گم ہو گئے اور کئی خاندان اپنی عمر بھر کی جمع پونجی کو اپنی آنکھوں کے سامنے بکھرتا دیکھتے رہ گئے۔
ان دنوں سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصویروں اور ویڈیوز میں مجھے صرف ٹوٹے ہوئے پل نظر نہیں آئے، مجھے ان پلوں کے ساتھ ٹوٹتے ہوئے لوگوں کے حوصلے بھی دکھائی دیے۔ مجھے صرف بہتے ہوئے گھر دکھائی نہیں دیے، مجھے ان گھروں کے ساتھ بہتی ہوئی نسلوں کی یادیں بھی دکھائی دیں۔ پہاڑ خاموش تھے، مگر ان کی خاموشی میں ایک ایسی چیخ تھی جسے صرف وہی سن سکتا ہے جس نے کبھی ان پہاڑوں کی گود میں زندگی بسر کی ہو۔
لیکن کیا یہ سب صرف قدرت کا فیصلہ ہے؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میرے دل میں یہ سوال بار بار اٹھتا ہے۔
قدرت نے پہاڑوں کو جنگلات اس لیے دیے تھے کہ وہ مٹی کو تھامے رکھیں، چشموں کی حفاظت کریں اور بارش کے پانی کو نرمی سے زمین میں جذب ہونے دیں۔ اس نے پہاڑی ڈھلوانوں پر خود رَو جھاڑیاں اور نباتات اس لیے اگائی تھیں کہ وہ زمین کو بکھرنے نہ دیں۔ مگر ہم نے ترقی، تجارت اور فوری مفاد کی دوڑ میں اس قدرتی حصار کو کمزور کر دیا۔ برسوں سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی، پہاڑی ڈھلوانوں پر قدرتی نباتات کی تباہی، بے ہنگم چرائی، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور آبی گزرگاہوں پر انسانی دباؤ نے ان وادیوں کی قوتِ مدافعت کو آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر سیلاب کی ایک ہی وجہ ہے، مگر یہ ضرور سچ ہے کہ جب موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی غیر معمولی گرمی، تیزی سے پگھلتے گلیشیئر، شدید بارشیں اور ہماری اپنی بے احتیاطیاں ایک جگہ جمع ہو جائیں تو قدرتی آفت کئی گنا زیادہ ہولناک بن جاتی ہے۔ ہم اکثر قدرت سے شکوہ کرتے ہیں، مگر شاید ہمیں ایک بار اپنے گریبان میں بھی جھانک لینا چاہیے۔
ہم نے شاید یہ سمجھ لیا تھا کہ پہاڑ ہر زخم سہہ لیں گے، جنگلات ہر کلہاڑی برداشت کر لیں گے اور دریا ہر زیادتی خاموشی سے اپنے سینے میں سمو لیں گے۔ مگر فطرت کی خاموشی کو اس کی کمزوری سمجھنا ہماری سب سے بڑی غلطی تھی۔
چترال کی بلند چوٹیوں پر اگنے والی گھاس، جھاڑیاں اور ننھے ننھے پودے بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر یہ ہی اس خطے کے سب سے خاموش محافظ ہیں۔ ان کی جڑیں مٹی کو باندھے رکھتی ہیں، برف کے پانی کو آہستہ آہستہ زمین میں جذب کرتی ہیں، چشموں کو زندگی دیتی ہیں اور پہاڑوں کے جسم کو بکھرنے سے بچاتی ہیں۔ جب ان قدرتی محافظوں کو بے دریغ چرائی، غیر محتاط انسانی سرگرمیوں اور مسلسل دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پہاڑ آہستہ آہستہ اپنی گرفت کھونے لگتے ہیں۔ پھر ایک دن بارش معمول سے کچھ زیادہ ہوتی ہے یا گرمی معمول سے کچھ شدید اور ہمیں لگتا ہے کہ اچانک کوئی آفت آ گئی، حال آں کہ اس آفت کی بنیاد ہم برسوں سے اپنے ہی ہاتھوں رکھ رہے ہوتے ہیں۔
دنیا کے موسمیاتی ماہرین بھی یہ ہی کہہ رہے ہیں۔ بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) کے مطابق انسانی سرگرمیوں نے کرۂ ارض کے درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) مسلسل خبردار کر رہی ہے کہ دنیا بھر کے گلیشیئر تیزی سے سکڑ رہے ہیں جبکہ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے خطے پر تحقیق کرنے والا ادارہ ICIMOD کئی برسوں سے اس جانب توجہ دلا رہا ہے کہ اگر گلوبل وارمنگ کی رفتار کم نہ ہوئی تو اس پورے خطے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلابوں اور آبی نظام کی بے ترتیبی میں مزید اضافہ ہوگا۔
یہ تمام رپورٹیں اپنی جگہ، مگر میرے لیے سب سے بڑی تحقیق میری اپنی آنکھیں ہیں۔
میں نے برف کو وقت پر گرتے دیکھا ہے۔
میں نے نہروں کو گنگناتے سنا ہے۔
میں نے کھیتوں کو لہلہاتے دیکھا ہے۔
اور اب میں ان ہی نہروں کو ٹوٹتے، ان ہی کھیتوں کو بہتے اور ان ہی پہاڑوں کو زخمی ہوتے دیکھ رہا ہوں۔
کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم صرف ماحول نہیں کھو رہے، ہم اپنی تہذیبی یادداشت بھی کھو رہے ہیں۔ کل کا بچہ شاید کبھی یہ نہ جان سکے کہ برف کے نیچے سوئی ہوئی گندم کو جگانے کے لیے اس کے بزرگ برف پر مٹی ڈالا کرتے تھے۔ شاید اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کسی زمانے میں دریا سے زیادہ نہریں لوگوں کی زندگی کا مرکز تھیں اور درخت صرف لکڑی نہیں بلکہ خاندان کے ایک بزرگ کی طرح سمجھے جاتے تھے، جن کے سائے میں نسلیں پروان چڑھتی تھیں۔
جب فطرت بدلتی ہے تو صرف منظر نہیں بدلتے، تہذیب بھی بدل جاتی ہے۔
رسمیں بدل جاتی ہیں۔
لوک کہانیاں بدل جاتی ہیں۔
بچپن بدل جاتا ہے۔
اور جب بچپن بدل جائے تو قوموں کی اجتماعی یادداشت بھی بدل جاتی ہے۔
شاید اسی لیے مجھے حالیہ سیلابوں سے زیادہ خوف آنے والے زمانوں کا ہے۔ اگر یہ ہی سلسلہ جاری رہا تو ممکن ہے کہ آئندہ نسلیں چترال کو صرف تصویروں میں برف پوش دیکھیں، صرف کتابوں میں گلیشیئر پڑھیں اور صرف داستانوں میں سنیں کہ کبھی یہاں دریا زندگی بانٹا کرتے تھے۔
ہر سال ماحولیات کے حوالے سے سرکاری تقریبات ہوتی ہیں، سیمینار منعقد ہوتے ہیں، چند پودے لگائے جاتے ہیں، ماحول دوست نعروں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہے، مگر میرے خیال میں ماحولیات کا سب سے بڑا سبق کسی کانفرنس ہال میں نہیں بلکہ ان ہی ٹوٹے ہوئے پلوں، اجڑی ہوئی بستیوں، خاموش نہروں اور زخمی پہاڑوں کے درمیان ملتا ہے، جہاں قدرت انسان سے کوئی تقریر نہیں کرتی، صرف اپنا فیصلہ سناتی ہے۔
میں جب بھی اپنے گاؤں کی طرف دیکھتا ہوں تو دل میں ایک ہی خواہش جاگتی ہے کہ آنے والی نسلیں بھی وہی پہلی برف دیکھ سکیں جس کا ہم نے انتظار کیا تھا، وہی شفاف نہریں سن سکیں جن کا ترانہ ہمارے بچپن کی موسیقی تھا، وہی کھیت دیکھ سکیں جن پر بہار اترتی تھی اور وہی درخت جن کے سائے میں انسان خود کو زمین سے جڑا ہوا محسوس کرتا تھا۔
قدرت نے ہمیں ایک بے مثال امانت سونپی تھی۔
اگر ہم نے آج بھی اس امانت کی حفاظت نہ کی تو کل تاریخ شاید ہمیں ترقی یافتہ قوم کے طور پر یاد نہ رکھے بلکہ اس نسل کے طور پر یاد کرے گی جس نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے پہاڑ ننگے کر دیے، اپنے دریا بے قابو کر دیے اور اپنے بچوں سے ان کا سب سے خوب صورت بچپن چھین لیا۔
مجھے اپنے بچپن کی تقریباً ہر برف باری یاد ہے۔
میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ آنے والی نسلوں کے پاس بھی ایسی ہی کوئی یاد ہو۔ کاش! ایک دن پھر ایسا آئے کہ سردیوں کی پہلی صبح چترال کی چوٹیاں حسبِ معمول سفید لباس میں ملبوس ہوں، چشمے اطمینان سے بہہ رہے ہوں اور کوئی بزرگ اپنے پوتے سے مسکرا کر کہے: ’دیکھو بیٹا! برف پھر وقت پر گری ہے۔‘
مصنف ماہرِ تعلیم، محقق اور کالم نگار ہیں۔ وہ گذشتہ دو دہائیوں سے شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہیں اور اس وقت آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ، کراچی سے منسلک ہیں۔ وہ تعلیم، زبان، ادب، ثقافت اور معاشرتی موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔
یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔