کاش! ایک دن پھر ایسا آئے کہ سردیوں کی پہلی صبح چترال کی چوٹیاں حسبِ معمول سفید لباس میں ملبوس ہوں، چشمے اطمینان سے بہہ رہے ہوں اور کوئی بزرگ اپنے پوتے سے مسکرا کر کہے: ’دیکھو بیٹا! برف پھر وقت پر گری ہے۔‘
چترال کی یہ توہماتی دنیا محض خوفناک کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تجربے، فطرت کے مشاہدے اور اجتماعی تخیّل کا ایک پیچیدہ نظام ہے۔