کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ خطے صرف جغرافیہ نہیں ہوتے، وہ اپنے اندر ایک مکمل تہذیب، ایک مکمل احساس، ایک مکمل طرزِ حیات سموئے ہوتے ہیں۔ چترال بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے۔
برف پوش پہاڑوں، نیلگوں دریاؤں، سرسبز وادیوں اور خاموش مگر باوقار فضا میں لپٹا ہوا ایک ایسا دیس جہاں زندگی محض گزاری نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔ یہاں کے لوگ موسموں سے باتیں کرتے ہیں، پہاڑوں سے رشتہ رکھتے ہیں اور موسیقی کو محض تفریح نہیں بلکہ روح کی غذا سمجھتے ہیں۔
چترال کی شامیں جب آہستہ آہستہ پہاڑوں کے پیچھے اترتی ہیں اور دریائے چترال کا پانی دھیمی روشنی میں چمکنے لگتا ہے تو دور کہیں ستار کے تار چھیڑے جاتے ہیں۔ یہ محض ایک ساز کی آواز نہیں ہوتی بلکہ یہ نسلوں کے حافظے کی صدا ہوتی ہے، ایک تہذیب کا تسلسل اور ایک خطے کا اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ ستار کی یہی دھنیں چترال کے گھروں، حجروں، شادیوں، خاندانی محفلوں اور اجتماعی تقریبات میں زندگی کی حرارت پیدا کرتی ہیں۔
چترالی ستار کی دنیا میں مرزا محمد سِیر ایک درخشاں ستارے کی مانند ہیں۔ ان کی شخصیت میں شاعری اور ستار نوازی گویا ایک دوسرے میں تحلیل ہو گئی تھی۔ وہ لفظوں سے بھی دھن پیدا کرتے تھے اور انگلیوں سے بھی۔ ان کے ہاں محبت محض ایک ذاتی جذبہ نہیں بلکہ کائناتی تجربہ بن جاتی ہے۔ ان کے اشعار میں محبوب کا ذکر آتا ہے تو ساتھ ہی پہاڑوں کی خاموشی، چشموں کی روانی اور موسموں کی لطافت بھی شریک ہو جاتی ہے۔ شنید ہے کہ جب وہ ستار چھیڑتے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پہاڑوں کے سینے میں چھپی کوئی قدیم کہانی زبان پا گئی ہو۔
بجانی لال نے چترالی کلاسیکل ستار کو جو وقار عطا کیا، وہ محض فن نہیں ایک روایت کی بنیاد تھی۔ ان کے بعد ان کے بیٹے شاہ گلِ زار نے اس روایت کو سنبھالا اور اپنے انداز سے اسے نئی لطافت بخشی۔ پھر ان کے بیٹے افسر خان نے اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ثابت کیا کہ موسیقی صرف سُر کی منتقلی نہیں، ذوق اور تہذیب کی بھی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں ستار ایک ساز نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ مکالمہ بن جاتا، جس میں ماضی، حال اور مستقبل ایک ساتھ ہم کلام ہوتے۔
علی ظہور خان کی میٹھی دھنوں میں ایک عجیب مانوسیت ہے۔ ان کے ساز میں وہ نرمی اور حلاوت ہے جو کسی ماں کی لوری یا کسی گاؤں کی پگڈنڈی پر بچپن کے قدموں کی چاپ یاد دلاتی ہے۔ ان کی دھنیں سن کر یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے وقت ذرا دیر کو ٹھہر گیا ہو اور انسان اپنے اندر کے شور سے باہر نکل آیا ہو۔
موجودہ دور میں چیئرمین شوکت علی، سلطان غنی، صادق الرحمٰن، نادر شاہ حجاب، آفتاب عالم، ضیا بیگ اور شاہد شہاب جیسے فن کار اس روایت کے امین ہیں۔ ان کی انگلیوں کی نزاکت اور ستار کے تاروں سے برآمد ہونے والی لے گویا محبت، فراق، یاد اور وصل کے الگ الگ رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔
ان کے ساز میں چترال کے موسم سانس لیتے ہیں: کہیں برف باری کی خاموشی ہے، کہیں بہار کی تازگی، کہیں خزاں کا اداس حسن اور کہیں گرمیوں کی روشن دوپہریں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اور پھر کھوار شاعری: یہ چترال کی روح ہے۔ اشور جان کی شاعری میں داخلی کرب اور جمالیاتی شعور ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ مرزا محمد سِیر کے اشعار میں عشق کا وقار ہے۔ میر ولی کے ہاں تہذیبی حافظہ اور انسانی تعلقات کی نزاکت ملتی ہے۔ سردار نظام الملک اور محترم شاہ ثانی نے زبان کو وقار اور معنی کی وسعت عطا کی۔
رستم خان (اِستچ) کے اشعار میں مٹی کی خوش بو ہے، جب کہ گل اعظم خان کے ہاں جذبے کی شدت اور لفظوں کی موسیقیت حیران کن ہے۔ شیرِ ملک، امیر گل اور خدا رحمت نے انسانی تجربے کے عام مگر گہرے پہلوؤں کو اپنی شاعری میں جگہ دی۔ شہزادہ فخر الملک، حبیب گل، شیرین اور غلام نبی کے ہاں محبت اور ہجرت کے رنگ نمایاں ہیں۔
رستم خان (چرنو لال) اور اقبال الدین سحرؔ نے کلاسیکی روایت کو عصری شعور سے جوڑا۔ میرزہ علی جان پروانہؔ کے اشعار میں تخیل کی پرواز اور زبان کی لطافت دونوں ملتی ہیں اور چیئرمین شوکت علی جو محض ستار نواز ہی نہیں بلکہ ایک حساس شاعر بھی ہیں، اپنے لفظوں اور دھنوں کے ذریعے گویا چترال کے اجتماعی احساس کو آواز دیتے ہیں۔
چترال کی سماجی زندگی میں موسیقی اور شاعری محض فنون نہیں، باہمی تعلق کا ذریعہ ہیں۔ یہاں دکھ اور خوشی کبھی تنہا نہیں رہتے۔ کسی گھر میں شادی ہو تو پورا گاؤں شریک ہوتا ہے۔ کسی کے ہاں غم آ جائے تو لوگ اپنے کام چھوڑ کر اس کے دروازے پر آ بیٹھتے ہیں۔ یہاں رشتے کیلنڈر اور گھڑی کے محتاج نہیں۔ یہاں انسان انسان کے لیے وقت نکالتا ہے۔
خاندانی اجتماعات میں جب بزرگ پرانی داستانیں سناتے ہیں، نوجوان ستار اٹھا لیتے ہیں اور کھوار لوک گیت فضا میں تحلیل ہونے لگتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ محبت ایک زندہ روایت ہے۔ کوئی بوڑھی ماں خاموشی سے چائے انڈیل رہی ہوتی ہے، بچے آنگن میں کھیل رہے ہوتے ہیں اور پس منظر میں ستار کی مدھم لے گویا زندگی کو ایک معنی عطا کر رہی ہوتی ہے۔
چترال کے لوگ شاید اسی لیے اتنے ہم درد اور نرم دل ہیں کہ انہوں نے فطرت سے قربت میں جینا سیکھا ہے۔ بلند پہاڑ انہیں وقار سکھاتے ہیں، دریا سخاوت، برف صبر اور بہار امید۔ یہاں کے لوگ جانتے ہیں کہ زندگی کی اصل خوب صورتی جمع کرنے میں نہیں، بانٹنے میں ہے:محبت بانٹنے میں، وقت بانٹنے میں، غم بانٹنے میں اور خوشیاں بانٹنے میں۔
کھوار زبان کی مٹھاس، اس کے لوک گیتوں کی گہرائی، ستار کی دھنوں کی لطافت اور شاعری کی فلسفیانہ وسعت مل کر چترال کو محض ایک خطہ نہیں رہنے دیتیں بلکہ ایک زندہ احساس بنا دیتی ہیں۔ ایسا احساس جو سننے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور بتاتا ہے کہ دنیا ابھی پوری طرح بے حس نہیں ہوئی۔ کہیں نہ کہیں پہاڑوں کے پار اب بھی لوگ محبت سے جیتے ہیں، محبت سے گاتے ہیں اور محبت ہی سے ایک دوسرے کو یاد رکھتے ہیں۔
شاید اسی لیے چترال کو یاد کرنا کسی مقام کو یاد کرنا نہیں، ایک کیفیت کو یاد کرنا ہے۔ ایک ایسی کیفیت جس میں ستار کی ایک دھن، کھوار کا ایک شعر اور پہاڑوں پر اترتی شام مل کر انسان کے اندر چھپی ہوئی کسی گہری خاموشی کو آواز دے دیتے ہیں۔
مصنف ماہرِ تعلیم، محقق اور کالم نگار ہیں۔ وہ گذشتہ دو دہائیوں سے شعبۂ تعلیم سے وابستہ ہیں اور اس وقت آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ، کراچی سے منسلک ہیں۔