ہدایت کار انیس بزمی ایک شو میں بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے پہلی بار نانا پاٹیکر کو فون کیا اور کہا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں تو نانا کا مختصر جواب تھا: ’کائے کو؟‘
انیس نے بتایا کہ وہ انہیں اپنی فلم کی کہانی سنانا چاہتے ہیں۔
ملاقات ہوئی تو نانا پاٹیکر نے حیران کن طور پر کہا کہ انہیں کہانی سننے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں، بس انیس اپنی ماں کی قسم کھا کر کہہ دیں کہ یہ فلم ان کے لیے درست ہے تو وہ کر لیں گے۔
انیس نے اصرار کیا کہ کہانی سننا ضروری ہے اور پھر اگلے تین گھنٹے سکرپٹ سناتے رہے۔ کہانی ختم ہوئی تو نانا نے انہیں گلے لگایا اور کہا: ’میں کچی مٹی ہوں۔ تیرے سیٹ پر آؤں گا، جس روپ میں ڈھالنا ہے، ڈھال لینا۔‘
نانا پاٹیکر کے پورے کیریئر کو دیکھیں تو ان کی اداکاری کو شاید اس سے بہتر استعارے میں نہیں سمیٹا جا سکتا۔ وہ واقعی کچی مٹی تھے، ایسی مٹی جسے مختلف ہدایت کاروں نے اپنی مرضی کے سانچوں میں ڈھالا اور ہر بار اس سے ایک نیا نانا پاٹیکر نمودار ہوا۔
لیکن ایسی مٹی جسے ڈھالنے کے لیے کسی کمہار کی ضرورت کم ہی پڑتی تھی۔
تقریباً 13 برس کی عمر میں خاندان کے مالی حالات انہیں سڑکوں پر لے آئے۔ پہلے ٹائم سکول اور پچھلے ٹائم ممبئی میں فلمی پوسٹر پینٹ کرتا یہ بچہ کئی کئی کلومیٹر پیدل چلتا۔ کبھی کام کے بدلے معمولی اجرت ملتی اور کبھی صرف ایک وقت کا کھانا۔
بعد میں وہ ان برسوں کو اپنی اداکاری کی تربیت کا ایک اہم حصہ قرار دیتے رہے۔ بھوک، محرومی اور ذلت نے انہیں لوگوں کو دیکھنا، ان کے رویوں کو سمجھنا سکھایا جو کسی اداکار کو کتاب یا اداکاری کے سکول سے کم ہی ملتی ہے۔
تصور کریں کہ اتنا غریب بچہ کسی اشرافیہ کے سکول میں تو نہیں پڑھتا ہو گا، لیکن انڈیا میں معمولی سکول بھی ٹھیٹر کا ڈھانچہ رکھتے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید ہم نانا پاٹیکر جیسے کتنے ہی بہترین اداکاروں سے محروم ہوتے۔
تھیٹر نے انہیں وہ ہنر دیا جو بعد میں کیمرے کے سامنے ان کی شناخت بنا، آواز پر گرفت، باڈی لینگویج پر کنٹرول، شفاف زبان، مکالمے کا اتار چڑھاؤ، توقف اور خاموشی۔
1989 کی ’پرندہ‘ میں انا کے کردار سے انہوں نے پہلی پہچان بنائی۔ ونود چوپڑا کی بھی یہ پہلی فلم تھی جس میں نانا پاٹیکر نے ایک ایسے انڈرورلڈ ڈان کا کردار ادا کیا جو عام لہجے میں بات کرتا ہے، بظاہر معمولی آدمی لگتا ہے، مگر اس کے اندر تشدد کا لاوا تیار ہو رہا ہوتا ہے جو اچانک پھٹ پڑتا ہے۔
نانا کو اس کردار پر نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ ملا، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ تھا کہ انہوں نے ہندی سینیما کے ولن کی مانوس شبیہ توڑ کر رکھ دی۔
اس کے بعد ’کرانتی ویر‘ آئی۔
’آ گئے میری موت کا تماشا دیکھنے؟‘ والی فلم۔
توہین، بے بسی اور بغاوت سے بھرا کردار جو دوسروں کو بغاوت پر اکساتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
1996 کی ’خاموشی: دی میوزیکل‘ میں وہ ایک ایسے شخص کے کردار میں تھے جو نہ بول سکتا ہے اور نہ سن سکتا ہے۔ وہ اپنے بہترین مکالموں اور غصے کے لیے مشہور ہو چکے تھے، مگر خاموشی میں انہیں خاموش رہ کر اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے تھے۔
لیکن نانا پاٹیکر کو محض غصے، تشدد، محرومی اور خاموشی کے اداکار کے طور پر دیکھنا بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔
ان کی اداکاری کا دوسرا رواں صدی کے آغاز میں نمایاں ہوا جب انہوں نے کامیڈی کی طرف رخ کیا۔ ایسا نہیں کہ نانا پاٹیکر محض مزاحیہ مکالمے بولنے شروع ہو گئے اور کریکٹر کے مطابق مزاح تخلیق کرتے رہ گئے، بلکہ انہوں نے اپنی سنجیدہ اداکاری کی پوری لغت کو کامیڈی میں ڈھال لیا۔ وہی بھاری آواز، چہرے کے تاثرات، اچانک غصہ اور مکالمے سے پہلے کا توقف، جو کسی ولن کو خوفناک بنا سکتا تھا، کامیڈی میں غیر متوقع طور پر ہنسی پیدا کرنے لگا۔ یہ بالی وڈ میں پرفیکٹ کمک ٹائمنگ کی بہترین مثال ہے۔
ان کے مزاحیہ کرداروں کا سب سے مقبول روپ ’ویلکم‘ میں ادے سیٹھی کی صورت میں سامنے آیا۔ ادے سیٹھی بظاہر ایک خطرناک انڈرورلڈ ڈان ہے، لیکن اس کی دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ قتل و غارت نہیں بلکہ محبت، شادی اور خاندان ہے۔
نانا پاٹیکر نے اس کردار کو محض کامیڈی کے طور پر نہیں کھیلا۔ انہوں نے ادے کو پوری سنجیدگی سے ادا کیا اور یہ ہی سنجیدگی کردار کی کامیڈی بن گئی۔
وہ غصے میں چیختے ہیں، اپنے ساتھی کو ڈانٹتے ہیں یا کسی معمولی بات کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیتے ہیں تو ناظرین اس لیے ہنستے ہیں کہ اداکار خود اس منظر کو مذاق نہیں سمجھ رہا ہوتا۔
یہ بالی وڈ میں کامیڈی کا نیکسٹ لیول تھا۔
انہوں نے ثابت کیا کہ اچھا کامیڈی اداکار لازماً مزاحیہ چہرہ بنانے والا شخص نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ شخص زیادہ مضحکہ خیز ثابت ہوتا ہے جو دنیا کی سب سے معمولی بات کو بھی ایسے ادا کرے جیسے پوری کائنات کا فیصلہ اسی پر منحصر ہو۔
یوں نانا پاٹیکر نے اپنے کیریئر کے دوسرے مرحلے میں ایک اور سانچہ توڑا۔
جس اداکار کو ’پرندہ‘ کا خطرناک انا، ’کرانتی ویر‘ کا باغی اور ’خاموشی‘ کا گونگا باپ بنایا گیا تھا، وہی ’ویلکم‘ میں لوگوں کو بے تحاشا ہنساتا ہے۔
کچی مٹی سے بنا نانا پاٹیکر، عمر بھر سانچے توڑتا رہا، مختلف روپ دھارتا رہا، اور وہ مٹی اب ہمیشہ کے لیے اپنے آخری سانچے میں ڈھل گئی۔