عبدالمالک الحوثی عوامی تقریبات میں دکھائی نہیں دیتے، انٹرویو نہیں دیتے اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں بھی بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔
ان کی شخصیت کا زیادہ تر تعارف ان تقریروں اور تصاویر کے ذریعے ہوتا ہے جو یمن میں حامیوں اور مخالفین دونوں کے سامنے ان کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔
اکتوبر 2009 میں صعدہ کے پہاڑوں پر شدید فضائی حملوں کے بعد صنعا میں ان کی موت کی خبریں گردش کرنے لگیں، تاہم بعد میں ایک مختصر ویڈیو میں وہ یہ کہتے دکھائی دیے کہ وہ اب بھی حیات ہیں۔
عبدالمالک بدرالدین الحوثی یمن کی حوثی تحریک کے، جسے انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، سربراہ ہیں۔
انہوں نے 2004 میں اپنے بڑے بھائی اور تحریک کے بانی حسین بدرالدین الحوثی کی موت کے بعد تنظیم کی قیادت سنبھالی۔
اس وقت پہاڑوں میں چھپ کر رہنے والا نوجوان آج اس حوثی تحریک کا سربراہ ہے جو صنعا پر قابض ہے اور جس کے پاس ڈرونز اور بیلسٹک میزائل بھی ہیں۔
بحیرہ احمر میں حملوں کے بعد ان کا نام ایک بار پھر علاقائی سیاست، بحری نقل و حمل اور جنگ کے مباحث میں نمایاں ہوا ہے۔
مذہبی خاندان میں پرورش
عبدالمالک الحوثی 1979 میں یمن کے صوبے صعدہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بدرالدین الحوثی زیدی مذہب کے معروف عالم تھے اور ان کا خاندان اہل بیت سے نسبت کی بنا پر ’سید‘ کہلاتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جائن کریں
بدرالدین نے چار شادیاں کیں اور ان کی اولاد کی تعداد مختلف روایات کے مطابق 13 یا 14 بتائی جاتی ہے۔
اس خاندان نے شادیوں اور رشتوں کے ذریعے شمالی یمن کے مختلف علاقوں اور قبائل میں اپنے روابط قائم کیے۔ ان کی نجی زندگی مکمل رازداری میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے۔
اس کے خاندان کے بارے میں معلومات محدود ہیں اور عوامی حلقوں میں اس کے خاندان کی موجودگی تقریباً موجود نہیں ہے۔
ان کی بیویوں اور بچوں کے بارے میں شاید ہی کوئی تصویریں یا دستاویزی تفصیلات موجود ہوں جبکہ ان کی رہائش کی صحیح جگہ قیاس آرائیوں اور متضاد رپورٹوں کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
زیدی مذہب کے احیا کے لیے خاندان نے 1990 کی دہائی کے آغاز میں ’الشباب المؤمن‘ کے نام سے سرگرمیاں شروع کیں، جن میں گرمیوں کے کیمپ، مذہبی اسباق اور دیگر سرگرمیاں شامل تھیں۔ ان کیمپوں سے ہزاروں نوجوان گزرے۔
عبدالمالک نے باقاعدہ سکول میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ انہوں نے مسجد کے حلقوں میں قرآن، لکھنا پڑھنا، حدیث، نحو، فقہ اور زیدی مذہب کے مطابق وراثت کے احکام سیکھے۔
ان کے والد نے 18 برس کی عمر میں انہیں ان علوم کی اجازت دی۔
1990 کی دہائی کے وسط میں وہ اپنے بڑے بھائی حسین الحوثی کے ساتھ رہنے کے لیے صنعا منتقل ہوئے۔
حسین ان سے تقریباً 20 سال بڑے تھے۔ عبدالمالک نے ان کے ذاتی محافظ کے طور پر کام کیا اور اسی دوران انہیں شہر کی سیاست، اخبارات، جماعتوں اور مختلف نظریات سے واقفیت ہوئی۔
محافظ سے تحریک کے سربراہ تک
10 ستمبر 2004 کو یمنی فوج اور حوثی تحریک کے درمیان پہلی جنگ میں حسین الحوثی مارے گئے۔
اس کے بعد تحریک کی قیادت عبدالمالک کو سونپی گئی حالاںکہ ان سے زیادہ عمر اور عسکری تجربہ رکھنے والے دوسرے افراد بھی موجود تھے۔
ان کے والد بدرالدین الحوثی نے اس انتخاب میں اہم کردار ادا کیا۔ بدرالدین نے خود کچھ عرصے تک قیادت سنبھالی اور ان کی وفات کے بعد عبدالمالک نے یہ ذمہ داری سنبھال لی۔ اس وقت عبدالمالک کی عمر 25 برس تھی۔
بعد میں انہوں نے اپنے گرد ایسے ساتھیوں کا حلقہ بنایا جو ان کی عمر کے یا ان سے کم عمر تھے۔
ان میں ایسے افراد شامل تھے جن سے ان کے تعلقات گرمیوں کے مذہبی کیمپوں اور جنگوں کے دوران قائم ہوئے تھے، جب کہ بعض ان کے رشتہ دار بھی تھے۔
2005 کے موسم بہار میں دوسری جنگ کے دوران عبدالمالک اور ان کے ساتھیوں نے نقعہ کے علاقے میں پناہ لی۔ وہاں تقریباً 200 افراد مارے گئے۔
یمنی صدر علی عبداللہ صالح نے ہتھیار ڈالنے کے بدلے معافی کی پیش کش کی لیکن حوثیوں نے اسے قبول نہیں کیا اور لڑائی جاری رہی۔
چھ جنگوں نے تحریک کو مضبوط کیا
2004 سے 2010 کے درمیان حوثیوں نے علی عبداللہ صالح کے دور حکومت میں یمنی فوج کے ساتھ چھ مرتبہ لڑائی کی۔
یہ جنگیں صعدہ اور اس کے گردونواح کے پہاڑی علاقوں میں ہوئیں۔ تحریک نے ابتدا میں چند سو جنگجوؤں سے سفر شروع کیا لیکن چھ جنگوں کے اختتام تک اس کے جنگجوؤں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی تھی۔
یمنی حکومت کی کارروائیوں میں شہریوں اور آبادی والے علاقوں کو نقصان پہنچنے کے الزامات بھی لگے۔
ان کارروائیوں اور قبائلی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں بعض لوگ تحفظ یا انتقام کی خواہش میں حوثیوں کے ساتھ شامل ہوئے۔
حوثیوں نے بھی وقت کے ساتھ اپنی جنگی حکمت عملی تبدیل کی۔ انہوں نے گھات لگا کر حملوں، نشانہ بازی اور بارودی سرنگوں سے آغاز کیا، پھر قصبوں کے دفاع اور فوج کی رسد روکنے کی کارروائیوں کی طرف بڑھے۔
آخری جنگ میں وہ صعدہ شہر کے بعض حصوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔
ان جنگوں کے دوران حوثیوں پر حکومت کے حامی قبائل کے افراد کو یرغمال بنانے کے الزامات لگے جب کہ حکومت پر آبادی والے دیہات پر بمباری کے الزامات عائد ہوئے۔ ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہوئیں۔
صنعا پر قبضہ اور عسکری طاقت
ستمبر 2014 میں حوثیوں نے صنعا پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد انہیں یمنی فوج کے کیمپوں اور اسلحے کے ذخائر تک رسائی ملی، جن میں ٹینک، توپ خانہ، فضائی دفاعی نظام اور سکاڈ سمیت مختلف میزائل شامل تھے۔
اس پیش رفت کے بعد حوثیوں کے زیر اثر محاذ تقریباً 700 کلومیٹر سے بڑھ کر 1,500 کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا، جب کہ ان کے زیر قبضہ علاقے کا رقبہ چار گنا بڑھ گیا۔
تحریک کی بنیادی ساخت خاندان، سابق جنگجو ساتھیوں اور شمالی یمن کے قبائل کے حلقوں پر مشتمل ہے۔
حوثی قیادت کے اعلیٰ عسکری فیصلے ایک ایسے کونسل نما ڈھانچے کے ذریعے کیے جاتے ہیں جس کی سربراہی عبدالمالک کرتے ہیں۔
اس میں ایرانی پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کے مشیروں کی موجودگی کا بھی ذکر ہے، تاہم حوثی تحریک اور ایران اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ تہران فیصلے کرتا ہے۔
تحریک نے سرکاری اداروں کے اندر بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے۔ وزارتوں، صوبوں، سکولوں اور پولیس مراکز میں حوثی نگران موجود ہیں جو باضابطہ عہدہ نہ رکھنے کے باوجود عملی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
خاندانی روابط اور اقتدار
عبدالمالک کی ذاتی زندگی کے بارے میں معلومات محدود ہیں۔ ان کی اہلیہ کا نام اور ان کے خاندانی حالات کے بیشتر پہلو عوامی طور پر معلوم نہیں۔
قریبی لوگوں سے منسوب بعض روایات میں انہیں پابندی سے زندگی گزارنے، مطالعہ کرنے، چہل قدمی اور تیراکی کرنے، لطیفے پسند کرنے اور شاعری لکھنے والا شخص بتایا گیا ہے۔
تاہم ان تفصیلات کی تصدیق یا تردید کے لیے شواہد موجود نہیں۔
اس کے برعکس ان کے بڑے خاندان کے سیاسی اور عسکری کردار زیادہ نمایاں ہیں۔
ان کے چچا عبدالكریم الحوثی وزیر داخلہ ہیں، بھائی عبدالخالق صنعاء اور اس کے اطراف میں فورسز کی قیادت کرتے ہیں جب کہ ان کے چچا زاد محمد علی الحوثی اعلیٰ انقلابی کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
ان کے بھتیجے علی پولیس کی قیادت کرتے ہیں اور بھانجی فاطمہ خواتین کی اس فورس کی نگرانی کرتی ہیں جسے ’الزینبیات‘ کہا جاتا ہے۔
خاندان کے دوسرے افراد کے بھی سرکاری اور عسکری عہدوں سے روابط ہیں۔
اس میں زیدی مذہب کے اس تصور کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے جس کے مطابق امامت محض وراثت کی بنیاد پر منتقل نہیں ہوتی جب کہ حوثی تحریک میں قیادت ایک ہی خاندان کے اندر منتقل ہوتی رہی ہے۔
ایران سے تعلقات اور علاقائی کردار
بدرالدین الحوثی کے ایران میں قیام اور ان کے بڑے بیٹے حسین الحوثی کی جانب سے 1994 کے بعد طلبہ کو ایران بھیجنے کا ذکر ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض طلبہ نے وہاں تربیت حاصل کی۔
حسین الحوثی کے ایران اور سوڈان کے سفر سے واپسی پر ایک نعرہ تحریک کی شناخت بن گیا ’اللہ اکبر، امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد، یہودیوں پر لعنت، اسلام کو فتح نصیب ہو۔‘
بعد میں حوثی تحریک کے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ تعلقات مزید نمایاں ہوئے۔
عبدالمالک نے حزب اللہ کے سابق رہنما حسن نصراللہ کو تقریر اور شخصیت کے اظہار کے حوالے سے ایک نمونے کے طور پر دیکھا۔
بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں نے ان کی تحریک کو یمن سے باہر بھی نمایاں کیا۔
مضمون میں جولائی 2025 میں لائبیریا کے پرچم تلے چلنے والے جہاز ’ایٹرنٹی سی‘ پر حملے کا ذکر ہے، جس میں چار ملاح مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد بحیرہ احمر میں حوثی حملوں میں مارے جانے والے ملاحوں کی تعداد آٹھ بتائی گئی۔
اس سے قبل حوثیوں نے ایک اور جہاز ’میجک سیز‘ کو ڈبونے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی، تاہم اس واقعے میں کسی کے مارے جانے کی اطلاع نہیں تھی۔
انسانی حقوق سے متعلق الزامات
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کی بنیاد پر حوثی تحریک پر بچوں کو بھرتی کرنے، خواتین کی نقل و حرکت محدود کرنے اور کارکنوں کو حراست میں رکھنے کے الزامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
حوثی تحریک ان رپورٹوں میں شامل بہت سے الزامات کی تردید کرتی ہے یا انہیں جنگی حالات سے جوڑتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق انہیں ایسی فہرستیں موصول ہوئیں جن میں 2020 کے دوران بھرتی کیے گئے اور لڑائی میں مارے جانے والے 1,406 بچوں کے نام شامل تھے۔
ایک دوسری فہرست میں جنوری سے مئی 2021 کے دوران مارے جانے والے 562 بچوں کا ذکر تھا، جن کی عمریں 10 سے 17 برس کے درمیان تھیں۔
بچوں کو گرمیوں کے کیمپوں اور ایک مسجد میں نظریاتی تعلیم اور عسکری سرگرمیوں سے متعارف کرایا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اپریل 2022 سے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں خواتین کے سفر کے لیے محرم کی موجودگی یا سرپرست کی تحریری اجازت کی شرط عائد کی گئی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پابندی کو خواتین کی نقل و حرکت اور انسانی امداد کے کام میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔
جون میں جاری ایک مشترکہ بیان میں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور قاہرہ انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن رائٹس سٹڈیز نے کہا کہ فروری تک 73 اقوام متحدہ کے ملازمین اور درجنوں یمنی امدادی کارکن حراست میں تھے۔
تنظیموں نے حراست کے دوران تشدد اور اعترافات لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزامات بھی بیان کیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یمن کے زکوٰۃ قانون میں 2020 کی ترامیم کا بھی ذکر ہے، جن کے تحت قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کا 20 فیصد حصہ مخصوص مستحقین کے لیے مختص کرنے کی شق شامل کی گئی۔
ناقدین کے مطابق اس اقدام سے ہاشمی خاندانوں کو امتیازی حیثیت ملتی ہے جبکہ حوثی حکام اسے زکوٰۃ کے قانون میں توسیع قرار دیتے ہیں۔
جانشینی کا سوال
عبدالمالک الحوثی کی جگہ کون لے گا، اس بارے میں کوئی باضابطہ طریقہ کار سامنے نہیں آیا۔ ان کے چچا عبدالكریم الحوثی، چچا زاد محمد علی الحوثی، بھائی عبدالخالق اور بھائی یحییٰ کے نام ممکنہ جانشینوں کے طور پر زیر بحث آئے ہیں۔
عسکری قیادت میں یوسف المدانی اور ابو علی الحاکم کے نام بھی لیے گئے ہیں، تاہم ان میں سے کسی کے پاس بیک وقت مذہبی جواز اور عسکری اختیار موجود ہونے کے شواہد نہیں۔
جانشینی کے تین ممکنہ منظرنامے بیان کیے گئے ہیں: خاندان کے کسی فرد کو نسبتاً آسانی سے قیادت منتقل ہونا، تحریک کے مختلف دھڑوں میں اختیارات تقسیم ہونا، یا عبدالمالک کی غیر موجودگی میں دھڑوں کے درمیان کھلی کشمکش شروع ہو جانا۔
تاہم ان میں سے کسی ایک امکان کو یقینی قرار دینے کے لیے شواہد نہیں دیے گئے۔ حوثی تحریک کو دیگر دباؤ کا بھی سامنا ہے۔
اسرائیلی حملوں میں 2025 کے دوران ان کی حکومت کے سربراہ، چیف آف سٹاف اور میزائل و ڈرون یونٹ کے سربراہ کی اموات کے بعد اندرونی سطح پر جاسوسی کے شبہات میں کارروائیاں کی گئیں۔
اس کے علاوہ ایندھن سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی، غزہ جنگ بندی کے بعد یکجہتی کے نعرے کی کم ہوتی قوت اور پرانی قیادت کے اندر دولت جمع ہونے جیسے مسائل بھی بیان کیے گئے ہیں۔
عبدالمالک الحوثی نے اپنی قیادت کو ایک ایسی شخصیت کے گرد مرکوز رکھا ہے جس کی موجودگی تصاویر اور تقریروں میں نمایاں ہے مگر جس کی ذاتی زندگی اور اصل ٹھکانے کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔
ان کی تحریک کا مستقبل اس بات سے بھی جڑا ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں اقتدار کس کے ہاتھ میں جائے گا اور کیا خاندان اور عسکری قیادت کے درمیان موجود تعلقات اسی طرح قائم رہ سکیں گے۔
یہ تحریر اس سے قبل انڈپینڈنٹ عربیہ پر تفصیل سے شائع ہو چکی ہے۔