وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جب سے 10 ارب روپے مالیت کا گلف سٹریم جہاز خریدا ہے تب سے وہ مسلسل خبروں میں ہیں۔ لوگ ہر وقت فلائٹ ریڈار کھول کر بیٹھے رہتے ہیں اور جب بھی گلف سٹریم کا کوئی جہاز کسی ایئرپورٹ سے پرواز کرتا ہے تو اسے مریم نواز کا جہاز سمجھ کر پوسٹیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اگر کہیں یہ جہاز ملک سے باہر چلا جائے تو پھر پوسٹیں آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ اس کا کرایہ کون دے گا؟ اس کی پارکنگ فیس کتنی ہو گی؟ وغیرہ وغیرہ۔ ممکن ہے کسی روز وہ تنگ آ کر یہ کہہ دیں کہ ’اے پیا جے جہاز، جس جس نوں تکلیف اے او پیٹرول پائے تے جتھے مرضی جائے۔‘
خیر یہ ابتدائیہ تو شگفتہ کلامی کے طور پر لکھا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آج بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ لاہور میں ایک ایسا کاروباری خاندان بھی گزرا ہے، جس کے پاس کم وبیش ایک صدی پہلے اپنے تین ذاتی جہاز تھے۔ وہ خاندان کون تھا اور اس نے یہ دولت کیسے کمائی تھی؟ اس بارے میں جانتے ہیں۔
رائے بہادر میلا رام کون تھے؟
لاہور کو تقسیم سے پہلے سکھوں کا دارالحکومت کہا جاتا تھا، اگرچہ مسلمان شہر میں اکثریت میں تھے لیکن شہر کے کاروبار پر ہندو اور سکھ چھائے ہوئے تھے۔ ان ہی میں ایک نمایاں نام رائے بہادر میلا رام کا ہے جو 1832 میں لاہور کے با اثر دیوان خاندان میں دھن پت رائے کے ہاں پیدا ہوئے۔
ان کے دادا دیوان داس مل بھنگی مثل کے کمانڈر تھے مشہور توپ ’زمزمہ‘ بھی ان کی کمان میں تھی۔
وہ بھنگی مثل اور رنجیت سنگھ کے درمیان ایک معرکے میں مارے گئے۔ یہ ذات کے کھشتری تھے۔ ان کا پوتا میلا رام لکڑی کے کاروبار سے منسلک ہوا۔ جب ہندوستان میں ریلوے لائن بچھائی جانے لگی تو میلا رام کا کاروبار چمک اٹھا۔
امرتسر پٹھان کوٹ ریلوے کا پورا کنٹریکٹ انہوں نے حاصل کیا۔ بعد میں لاہور امرتسر ریلوے لائن کے ٹھیکوں میں بھی وہ بڑے حصہ دار تھے۔ نیلمہ لامبا جو کہ رائے بہادر میلا رام کی پڑپوتی ہیں، ان کی کتاب Rai Bahadur Ram Saran Das of Lahore جس کا اردو ترجمہ ’لاہور کے رائے بہادر سرم داس‘ کے نام سے فیضان عباس نقوی کے ادارے لاہور شناسی پبلیکیشنز نے حال ہی میں شائع کیا ہے۔ پروفیسر شعیب رضا اس کتاب کے مترجم ہیں۔
میلا رام کے دو بیٹے تھے جن میں بڑے سرن داس نے اپنے باپ کے کاروبار کو ایک ایمپائر میں بدل دیا۔
نیلمہ لامبا لکھتی ہیں کہ 1872 میں میلا رام نے لارنس گارڈن موجودہ باغِ جناح کی جگہ 32 ایکڑ کا رقبہ لاہور میونسپل کارپوریشن کو عطیہ کر دیا۔ اس وقت لیفٹیننٹ سر رابرٹ ڈیوس پنجاب کے گورنر تھے۔ انہوں نے 1886 میں میلا رام کو عوامی فلاح و بہبود میں دلچسپی لینے پر ’رائے بہادر‘ کے خطاب سے نوازا۔
لاہور ریلوے سٹیشن کے تین کنٹریکٹروں میں میلا رام بھی شامل تھے۔ جہاں آج واپڈا ہاؤس ہے، وہاں کبھی میلا رام بلڈنگ ہوا کرتی تھی جس میں متعدد دکانیں تھیں۔ اس کے ساتھ نیڈو ہوٹل تھا جو میلا رام کی ملکیت تھا جہاں آج آواری اور ہلٹن ہوٹل ہیں۔
لاہور ریلوے سٹیشن کے ساتھ مسافروں کے لیے انہوں نے پانی کا ایک شاندار حوض بھی تعمیر کروایا۔ بھاٹی گیٹ کے تاجروں کے لیے سرائے بنوائی۔ ملتان اور منٹگمری میں وسیع زرعی اراضی کے بھی مالک تھے۔ 10 اپریل 1890 کو جب ان کا انتقال ہوا تو اسے ہندوستانی پریس میں نمایاں کوریج ملی۔
سرن داس صنعتی ایمپائر کا مالک
رائے بہادر میلا رام کے تین بچے تھے۔ بیٹی لکشمی، پھر دو بیٹے سرن داس اور ہر کشن داس۔ سرن داس 26 نومبر 1876 میں پیدا ہوئے۔ سرن داس نے اپنے باپ کے کاروبار کو ایک بڑے صنعتی ادارے میں بدل دیا۔ انہوں نے 1898 میں لاہور میں میلا رام کاٹن مل قائم کی، جہاں اس زمانے میں 576 ملازمین کام کرتے تھے۔ 1940 کی دہائی میں یہ مل سالانہ 72 لاکھ روپے کا کپڑا فروخت کر رہی تھی۔
1912 میں جب لاہور میں پہلا بجلی گھر قائم ہوا تو سرن داس نے پہلا کنکشن میلا رام ٹیکسٹائل مل اور کراؤن سینیما کے لیے حاصل کیا۔ 1937 میں جارج ششم کی تاج پوشی کے موقعے پر انہیں لندن میں مدعو کیا گیا۔
وہ ایمپیریل بینک آف انڈیا کے ڈائریکٹر، سینٹرل بینک آف انڈیا کی ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز کے چیئرمین، برٹش انڈیا کارپوریشن لمیٹڈ کان پور کے وائس چیئرمین، ٹرانس کانٹی نینٹل ایئرویز کے ڈائریکٹر، ناردرن انڈیا چیمبر آف کامرس کے چیئرمین، سن لائٹ انشورنس کارپوریشن آف انڈیا کے چیئرمین ہونے کے علاوہ کئی کاروباری اداروں سے وابستہ تھے۔
وہ مسلسل 25 برس وائسرائے کی کونسل آف سٹیٹ کے رکن بھی رہے۔ وہ فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتے ایک وقت آیا کہ ان کی مجموعی خیرات دس لاکھ روپے سالانہ سے تجاوز کر گئی جس سے تعلیمی ادارے، ہسپتال اور فلاحی ادارے مستفید ہوتے تھے۔ ان کی ذاتی رہائش گاہ 24 ایکڑ پر مشتمل تھی جو ایجرٹن روڈ پر فلیٹیز ہوٹل کے سامنے واقع تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے انڈین نیشنل ایئر ویز میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی جو دہلی، لاہور اور کراچی کے روٹس پر پروازیں چلاتی تھی۔ یہ ہی نہیں بلکہ ملک کے اندر اپنی کاروباری اور سماجی مصروفیات کے لیے وہ اپنے ذاتی جہاز پر سفر کرتے تھے۔
ان کے دونوں بیٹے گوپال داس اور روپ چند بھی اپنے ذاتی طیاروں کے مالک تھے۔ روپ چند نے ہی لاہور فلائنگ کلب کی بنیاد رکھی۔ گوپال نے اپنا ذاتی چار نشستوں والا جہاز مارک ڈی سوٹیئر1923 میں فرانس سے خریدا جبکہ روپ چند نے برطانوی کمپنی ڈی ہالینڈ سے لیپرڈ موتھ نامی جہاز خریدا تھا۔
جے آر ڈی ٹاٹا جن کا خاندان آج ایئر انڈیا کا مالک ہے۔ انہوں نے اپنا پہلا جہاز 1932 میں خریدا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاہور کی میلا رام فیملی کا شمار اس وقت ہندوستان کے بڑے کاروباری خاندانوں میں ہوتا تھا۔ 23 نومبر 1945 کو لاہور میں 69 برس کی عمر میں سرن داس کا انتقال ہوا۔
داتا دربار سے عقیدت
یہ اگرچہ ایک ہندو خاندان تھا لیکن داتا دربار سے گہری عقیدت رکھتا تھا۔ نیلمہ لامبا لکھتی ہیں کہ ’ہماری خاندانی روایات کے مطابق میلا رام اور بعد ازاں سرن داس کی داتا دربار سے گہری عقیدت کی دو وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی یہ کہ سرن داس بچپن میں شدید بیمار ہوئے تو میلا رام نے مزار کی سیڑھیوں پر منت مانگی کہ اگر بیٹا صحت یاب ہو گیا تو مزار پر وہ دودھ چڑھائیں گے اور لنگر کا اہتمام کریں گے۔ بیٹے کے شفایاب ہونے پر انہوں نے اپنی منت پوری کی اور ہر سال عرس کے موقعے پر لنگر اور قوالیوں کا اہتمام کیا۔
’دوسری روایت 1918 کے انفلوئنزا کی وبا سے متعلق ہے جب سرن داس کے تین بیٹے شدید بیمار ہو گئے، مگر ایک روحانی کرامت کی وجہ سے وہ صحت یاب ہوئے، جسے خاندان نے حضرت داتا گنج بخش کی کرامت سے منسوب کیا۔‘
داتا دربار سے ان کی خاندانی عقیدت نسل درنسل چلی آتی تھی، اسی لیے مزار پر بجلی کا کنکشن انہوں نے ہی لگوایا تھا۔
لگ بھگ ایک صدی پہلے لاہور میں ایسے لوگ بستے تھے جن کی کاروباری وسعت اتنی تھی کہ ان کے پاس تین تین ذاتی جہاز تھے۔ شاید لاہور میں آج سو سال بعد بھی تین جہاز رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔
ملکوں کو آگے لے کر جانے والے کاروباری لوگ ہوتے ہیں، جن کے کاروبار ترقی کرتے ہیں تو ملک ترقی کرتے ہیں۔ جہاں کاروبار ترقی نہیں کرتے، وہاں کوئی ترقی نہیں ہوتی۔