ہندو جنگجو بادشاہ کی تصویر پر آکسفورڈ پریس کی معذرت

2003 میں شائع ہونے والی امریکی مصنف جیمز لین کی تحریر کردہ کتاب میں سترہویں صدی کے جنگجو بادشاہ چھترپتی شیواجی کے بارے میں بعض ’غیر تصدیق شدہ بیانات‘ شامل تھے، جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔

یکم اکتوبر 2025 کی اس تصویر میں ناگپور میں ایک خاتون شیواجی سکوائر کے قریب سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی)

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی انڈین شاخ نے دو دہائیاں قبل شائع ہونے والی ایک کتاب میں ایک ہندو جنگجو بادشاہ کی متنازع تصویر کشی پر معذرت جاری کی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس انڈیا کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں چھترپتی شیواجی کے بارے میں بعض ’غیر تصدیق شدہ بیانات‘ شامل تھے۔

شیواجی، جن کا پورا نام شیواجی شاہاجی بھوسلے تھا، مغربی انڈیا کے سترہویں صدی کے ایک جنگجو بادشاہ تھے، جن کی مغل سلطنت کے خلاف مزاحمت نے انہیں اپنی زندگی ہی میں ہیرو بنا دیا تھا اور آج وہ بالخصوص ہندو قوم پرست حلقوں میں انتہائی قدر و منزلت رکھتے ہیں۔

انڈیا بھر میں ایئرپورٹس، ریلوے سٹیشن، سڑکیں، شہر، عوامی چوک اور یادگاریں ان کے نام سے منسوب ہیں۔

یہ کتاب، جس کا عنوان ’شیواجی: اسلامک انڈیا میں ہندو بادشاہ (Shivaji: Hindu King in Islamic India) ہے، امریکی مصنف جیمز لین نے تحریر کی اور اسے 2003 میں شائع کیا گیا تھا۔

اس کتاب پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، خصوصاً ریاست مہاراشٹرا میں، جہاں شیواجی کو ایک ثقافتی اور سیاسی علامت کے طور پر انتہائی احترام حاصل ہے۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ عنوان میں انہیں ’ہندو‘ بادشاہ قرار دینا ان کے ورثے کی غلط نمائندگی ہے، کیونکہ ان کے مطابق شیواجی نے کسی مذہبی بادشاہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک علاقائی حکمران کے طور پر حکومت کی، جن کی انتظامیہ میں مسلمان بھی شامل تھے اور جنہوں نے عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اس دور کے انڈیا کو ’اسلامی‘ قرار دینے پر بھی اعتراض کیا۔

2004  میں 150 سے زائد مظاہرین نے پونے میں واقع بھنڈارکر اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پر دھاوا بول دیا، جس پر الزام تھا کہ اس ادارے نے کتاب کے لیے مصنف کی تحقیق میں معاونت کی تھی۔

منگل کو ادارےنے کہا: ’آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اس مواد کے باعث پہنچنے والی کسی بھی اذیت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ استعمال کی گئی زبان نامناسب تھی اور اس احترام و عقیدت کی عکاسی کرنے میں ناکام رہی جو چھترپتی شیواجی مہاراج کو پورے انڈیا میں حاصل ہے۔‘

بیان میں کہا گیا: ’ہم خلوصِ دل سے مہاراشٹرا کے عوام، مراٹھا برادری اور ان تمام افراد سے معذرت خواہ ہیں جو انہیں اعلیٰ ترین مقام پر رکھتے ہیں۔‘

یہ معذرت اس وقت جاری کی گئی جب شیواجی کے تیرہویں نسل کے وارث اودین راجے بھوسلے نے 2005 میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس انڈیا کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر سید منظر خان اور تین دیگر افراد کے خلاف حکمران کی توہین کے الزامات کے تحت شکایت درج کروائی تھی۔

یہ معاملہ 17 دسمبر کو کولہاپور ہائی کورٹ بینچ میں سنا گیا، جہاں سید منظر خان اور تین دیگر افراد کے وکلا نے کہا کہ ان کے مؤکل اودین راجے بھوسلے کو معذرت نامہ جاری کریں گے، جسے وسیع پیمانے پر شائع ہونے والے مراٹھی اور انگریزی زبان کے اخبارات میں بھی شائع کیا جائے گا۔

اشاعتی ادارے نے تسلیم کیا کہ کتاب کے صفحات نمبر 31، 33، 34 اور 93 پر شیواجی سے متعلق بعض بیانات غیر تصدیق شدہ تھے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا