امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے 100 دن قبل ایران کی جنگ نے اس ٹورنامنٹ میں ایک نیا پیچیدہ عنصر شامل کر دیا ہے۔
یہ تنازع دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کھیل کے ایونٹ کو کیسے متاثر کرے گا، اس وقت منتظمین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے، جو پہلے ہی میکسیکو کے ایک میزبان شہر میں کارٹل تشدد، امریکہ میں فین فیسٹیولز کے منصوبوں میں کمی اور ٹکٹوں کی مہنگی قیمتوں پر شائقین کی تنقید سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں کے حکام اس ہفتے اٹلانٹا میں فیفا کے عملے کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ یہ ٹورنامنٹ 11 جون کو شروع ہوگا اور میکسیکو سٹی میں جنوبی افریقہ اور میکسیکو کے مابین پہلا میچ ہو گا۔
یہ اب تک کا سب سے بڑا ورلڈ کپ ہوگا، جس میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ قطر میں ہونے والے گذشتہ ٹورنامنٹ میں 32 ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔
کچھ اہم مسائل
جیوپولیٹیکل تناؤ کی بنیاد
بین الاقوامی سیاست کا کسی عالمی کھیل کے ایونٹ پر اثر ہونا غیر معمولی نہیں ہے، کم از کم ابتدائی مراحل میں، جب تک فٹ بال ٹورنامنٹ خبروں میں نہیں آ جاتا۔
2022 میں قطر میں پناہ گزین مزدوروں اور ایل جی بی ٹی کیو پلیس کمیونٹی کے ساتھ سلوک خبروں میں رہا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
2018 میں روس کی میزبانی میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے دوران ایل جی بی ٹی کیو پلیس حقوق، کریمیا کے الحاق اور برطانیہ میں جاسوس کو زہر دینے کے واقعات توجہ کا مرکز تھے۔
برازیل میں 2014 اور جنوبی افریقہ میں 2010 کے دوران جرائم اور سکیورٹی کے خدشات تھے۔
2026 کے فٹ بال ٹورنامنٹ کا آغاز سیاسی تناؤ کے پس منظر میں ہونے والا ہے، جس میں امریکہ اور شریک ممالک شامل ہیں۔
بہت سے ممالک پر ٹیرف کے اثرات پڑے ہیں اور کچھ ممالک کو سفری پابندیوں کا سامنا ہے۔ ڈنمارک، جو مارچ میں پلےآف کے ذریعے ابھی بھی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے مطالبات کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔
اور اب جبکہ 100 دن باقی رہ گئے ہیں، امریکہ ایران کے ساتھ فوجی کشیدگی میں ملوث ہے۔ ایران ان پہلے ممالک میں سے ہے جو ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے۔
ایران کی حیثیت غیر واضح
ایران کے دو گروپ سٹیج میچز انگل ووڈ، کیلیفورنیا اور ایک سیئٹل میں ہونے والے ہیں۔
تاہم یہ غیر واضح ہے کہ ایرانی ٹیم امریکہ آئے گی یا نہیں۔
ایران کے اعلیٰ فٹ بال عہدیدار مہدی تاج نے گذشتہ ہفتے کہا: ’اس حملے کے بعد ہم ورلڈ کپ کو امید کے ساتھ دیکھنے کی توقع نہیں کر سکتے۔‘
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر سینیئر حکام جان سے جا چکے ہیں۔
تاہم اب تک ایران نے ٹورنامنٹ سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا، جو پچھلے 75 سالوں میں کسی اہل ٹیم نے نہیں کیا۔ ایشیا کی دوسری بلند ترین رینکنگ والی ٹیم ایران، بیلجیم، مصر اور نیوزی لینڈ کے گروپ میں شامل ہے۔
فیفا نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا کہ ایران کے فیڈریشن حکام ایٹلانٹا ورکشاپ میں شریک ہوئے یا نہیں۔
فین فیسٹیولز میں کمی
پچھلی دو دہائیوں میں فین فیسٹیولز ورلڈ کپ کا اہم حصہ رہے ہیں، جہاں ہزاروں شائقین بغیر ٹکٹ کے میچز دیکھ کر ماحول کا حصہ بن سکتے ہیں۔
اب امریکہ میں ان منصوبوں کو کم کیا جا رہا ہے۔
نیو یارک، نیو جرسی نے جرسی سٹی میں اپنا فین فیس ختم کر دیا، حالانکہ وہاں ٹورنامنٹ کے ہر دن کے لیے ٹکٹس فروخت کیے جا رہے تھے۔
سیئٹل نے اپنے ابتدائی منصوبے کو چھوٹے مقامات کے لیے دوبارہ ترتیب دیا اور بوسٹن نے اپنے پروگرام کو 16 دن تک محدود کیا۔
میامی کے فیفا ورلڈ کپ میزبان کمیٹی کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے 24 فروری کو ایک کانگریسی سماعت میں کہا کہ اگر انہیں 30 دن کے اندر وفاقی فنڈنگ نہیں ملی تو ایونٹ منسوخ ہو سکتا ہے۔
کینساس سٹی، میزوری کے پولیس ڈپٹی چیف جوزف میبِن نے کہا کہ شہر کو سکیورٹی کی تیاری کے لیے فوری وفاقی فنڈز کی ضرورت ہے۔
فاکس بورو میچز خطرے میں
نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کا سٹیڈیم فاکس بورو، میساچوسٹس میں سات ورلڈ کپ میچز کی میزبانی کرے گا، جس کا آغاز 13 جون کو ہیٹی-سکاٹ لینڈ کے میچ سے ہو گا ور ایک کوارٹر فائنل 9 جولائی کو ختم ہوگا۔
فاکس بورو کے سلیکٹ بورڈ نے میچز کے لیے پرمٹ دینے سے انکار کیا اور 17 مارچ تک 78 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، جو شہر کے مطابق پولیس اور دیگر اخراجات کے لیے ہوں گے۔
شہر نے کہا کہ یہ بوسٹن کے ساتھ فیفا کے میزبان معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔
فیفا کا ٹکٹ قیمتوں پر دباؤ
فیفا کے پاس ورلڈ کپ میچز کے لیے تقریباً 7 ملین سیٹیں ہیں، جس کا کہنا ہے کہ اسے پچھلے مہینے 500 ملین ٹکٹوں کی درخواستیں موصول ہوئیں۔
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اعلان کیا کہ تمام 104 میچز فروخت ہو چکے ہیں، لیکن بعض شائقین کو پچھلے ہفتے ای میل موصول ہوئی کہ وہ اضافی 48 گھنٹے کے لیے ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔
دسمبر میں فیفا کی قیمتیں آٹھ ہزار 680 ڈالرز تک پہنچ گئی تھیں۔ تنقید کے بعد فیفا نے کہا کہ ہر میچ کے لیے 60 ڈالر کے چند سو ٹکٹس 48 قومی فیڈریشنز کو دیے جائیں گے، جو انہیں اپنے وفادار شائقین میں تقسیم کریں گی۔
زیادہ تر سیٹیں فیفا کے ٹکٹ ری سیل پلیٹ فارم پر، جو ثانوی مارکیٹ کو ختم کرنے اور خریدار و فروخت کنندہ سے 15 فیصد اضافی فیس کمانے کے لیے ہے، ایک ہزار ڈالر سے زیادہ کی قیمت پر دستیاب ہیں۔
میکسیکو میں کارٹل تشدد
میکسیکو کے ورلڈ کپ کی میزبانی کے قابل ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر جلیسکو میں گذشتہ ہفتے تشدد کے بعد جب فوج نے ایک طاقتور کارٹل باس کو مار دیا۔
ریاستی دارالحکومت گواڈالاجارا گروپ سٹیج کے چار میچوں کی میزبانی کرے گا۔
میکسیکو کی حکومت کا اصرار ہے کہ ورلڈ کپ متاثر نہیں ہوگا اور صدر کلاڈیا شین بام نے کہا کہ شائقین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
جیانی انفانٹینو نے کلاڈیا شین بام کو یقین دلایا کہ انہیں میکسیکو پر ورلڈ کپ کی میزبانی کا مکمل اعتماد ہے۔
فیفا کے سربراہ نے بار بار وعدہ کیا ہے کہ 2026 کا ورلڈ کپ سب سے بڑا اور اس میں لوگوں کی سب سے زیادہ شمولیت ہو گی۔
© The Independent