شمالی امریکہ میں ہونے والا 2026 کا یہ فِیفا ورلڈ کپ اپنی وسعت کے اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فٹ بال ایونٹ ہوگا، جو امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے مختلف شہروں میں منعقد کیا جائے گا۔
امریکہ میں یہ مقابلے 1994 کے بعد پہلی مرتبہ کھیلے جا رہے ہیں، اس لیے کھیل کے ساتھ ساتھ قومی وقار اور عالمی توجہ بھی اس سے وابستہ ہے۔
یہ ورلڈ کپ صرف کھیل کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی تعلقات کا بھی عکاس ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو نے مشترکہ بولی اس لیے دی کیونکہ ماضی میں فِیفا پر بدعنوانی کے الزامات اور امریکی اداروں کی تحقیقات کے باعث صرف امریکہ کے لیے کامیابی یقینی نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
اُس وقت ڈونلڈ ٹرمپ صدر تھے، اور ان کے بعض عالمی بیانات کی وجہ سے فِیفا کے ووٹروں کو قائل کرنا ایک چیلنج تھا، اس لیے تینوں ممالک نے مل کر قدم بڑھایا۔
امریکی جریدے واکس کے ایک مضمون میں ڈونلڈ ٹرمپ اور فِیفا کے صدر جیانی انفانتینو کے غیر معمولی قریبی تعلق پر خاص زور دیا گیا ہے۔ انفانتینو نے ٹرمپ کے اقتدار کے دوران اور اس کے بعد بھی ان سے فاصلہ نہیں رکھا، بلکہ وفاداری نبھائی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد فِیفا کو وائٹ ہاؤس تک غیر معمولی رسائی ملی، اور انفانتینو کی موجودگی وہاں دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی زیادہ دکھائی دی۔
فِیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیا جانے والا نام نہاد ’امن انعام‘ بھی اسی تعلق کی علامت ہے۔ یہ انعام دراصل فِیفا کی روایت کا حصہ نہیں تھا بلکہ اسے خاص طور پر ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
اس کا مقصد یہ یاد دہانی کرانا تھا کہ فِیفا ایک ایسا ادارہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب اسے امریکہ میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی، ویزا سہولتوں اور دیگر سرکاری تعاون کی ضرورت ہو۔
آخر میں مضمون اس تضاد کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایک طرف فِیفا کو ویزا اور سکیورٹی جیسے معاملات میں سہولتیں مل رہی ہیں تو دوسری طرف بعض ممالک کے شائقین سفری پابندیوں کے باعث ورلڈ کپ نہیں دیکھ سکیں گے۔
حالیہ دنوں میں جب امیگریشن پالیسیوں پر سختی کا ماحول ہے، فِیفا نے ایک خصوصی سہولت حاصل کی ہے جسے ’فِیفا پاس‘ کہا جا رہا ہے۔ اس کے تحت اگر کسی شخص نے ورلڈ کپ کا ٹکٹ خرید رکھا ہو تو دنیا کے کسی بھی ملک میں موجود ہونے کے باوجود اسے اپنے ہی ملک میں چھ سے آٹھ ہفتوں کے اندر ویزا انٹرویو کی اپائنٹمنٹ دے دی جائے گی۔
تاہم ان رعایتوں کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی جڑی ہے۔ ہیٹی، ایران، سینیگال اور آئیوری کوسٹ سمیت چار ایسے ممالک ہیں جن پر سفری پابندیاں عائد ہیں، جس کے باعث ان ممالک کے شائقین ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے اس ٹورنامنٹ کا سفر نہیں کر سکیں گے۔
یوں یہ ورلڈ کپ روایت، طاقت، سیاست اور مستقبل کی سمت کے درمیان ایک ایسا سنگم بن کر سامنے آتا ہے جو کھیل سے کہیں بڑھ کر معنی رکھتا ہے۔
ورلڈ کپ دنیا کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کھیلوں کا ایونٹ ہے، جسے دیکھنے والوں کی تعداد سپر باؤل اور ورلڈ سیریز دونوں کو ملا کر بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ اس سال 1994 کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے مقابلے امریکہ میں کھیلے جا رہے ہیں۔