ایڈیڈاس کی سپلائر پاکستانی کمپنی کا سعودی عرب میں مینوفیکچرنگ کا منصوبہ

فارورڈ سپورٹس کے سی ای او خواجہ مسعود اختر کہتے ہیں کہ یہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان شراکت داریوں کے لیے بہترین وقت ہے۔

دنیا میں فٹ بال بنانے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک اور عالمی برانڈز کے اہم سپلائر فارورڈ سپورٹس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) خواجہ مسعود اختر کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی اس سال سعودی عرب میں مشترکہ منصوبے (جوائنٹ وینچر) کے ذریعے اپنے آپریشنز شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

سیالکوٹ میں قائم یہ کھیلوں کا سازوسامان بنانے والی کمپنی گذشتہ دو دہائیوں سے عالمی برانڈ ایڈیڈاس کے ساتھ کام کر رہی ہے اور یہ 2022 کے ورلڈ کپ کی آفیشل بال الریحلہ کی دو مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں سے ایک تھی۔

مسعود اختر کے مطابق ان کی کمپنی ہر سال ڈیڑھ کروڑ (15 ملین) فٹ بال تیار کرتی ہے، جنہیں دنیا بھر میں برآمد کیا جاتا ہے۔

کمپنی نے حال ہی میں ایک چینی حریف کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایڈیڈاس کی سب سے بڑی فٹ بال سپلائر کا درجہ حاصل کیا ہے۔

عرب نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں مسعود اختر نے بتایا کہ ان کی کمپنی سعودی عرب میں اپنے آپریشنز کے ابتدائی مراحل میں ہے، جہاں وہ پاکستان سے ’کم سے کم عملے‘ کے ساتھ آغاز کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم ریاض میں کھیلوں کے سامان کے شعبے کی ایک بااثر شخصیت کے ساتھ جوائنٹ وینچر کرنے جا رہے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے سعودی پارٹنر کا نام بتانے سے گریز کیا۔ ’ہم اس سال کے اندر اندر شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ابھی ہم ابتدائی مرحلے میں ہیں اور پہلا مرحلہ صرف مارکیٹنگ کا ہو گا۔‘

گذشتہ سال اکتوبر میں ریاض میں ہونے والے فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو سمٹ کے دوران فارورڈ سپورٹس کے نمائندوں اور سعودی حکام کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔

اسی ماہ فارورڈ سپورٹس کے افسران نے اسلام آباد میں پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے بھی ملاقات کی تاکہ کمپنی کے سعودی عرب میں آپریشنز پر بات چیت کی جا سکے۔

پاکستان اور سعودی عرب سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی شعبوں میں طویل المدتی سٹریٹجک شراکت داری رکھتے ہیں، جو گہرے مذہبی اور ثقافتی رشتوں پر مبنی ہے۔

’جوائنٹ وینچر کے لیے بہترین وقت‘

مسعود اختر نے اسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان شراکت داریوں کے لیے ’بہترین وقت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی سعودی مارکیٹ کو سمجھنے کے بعد وہاں مینوفیکچرنگ کا آغاز کرے گی۔

سرمایہ کاری کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا ’سرمایہ کاری اتنی اہم نہیں۔ ابھی ہمیں معلوم نہیں کہ ہم کتنا حصہ ڈالیں گے اور وہ کتنا حصہ۔ ہم بہت ابتدائی مرحلے میں ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں فارورڈ سپورٹس چھوٹی ٹیم کے ساتھ کام کرے گی اور زیادہ تر اپنے سعودی پارٹنر کے موجودہ انفراسٹرکچر پر انحصار کرے گی۔

’ہم چاہتے ہیں شروع میں پاکستان سے بہت کم لوگوں کو رکھا جائے، شاید دو یا تین افراد۔ باقی ہم سعودی عرب سے ہی رکھنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ کمپنی کی سعودی عرب میں مینوفیکچرنگ کو مقامی قوانین کے مطابق ڈھالا جائے گا، جبکہ زیادہ تر پروڈکشن پاکستان میں ہی ہو گی۔

’یا ہم 80:20 کریں گے یا 70:30۔ یعنی 80 یا 70 فیصد کام پاکستان میں ہو گا، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم کون سا آرٹیکل وہاں بنا رہے ہیں۔‘

’صرف 20 یا 30 فیصد کام سعودی عرب میں ہوگا تاکہ ’میڈ ان کے ایس اے‘ لکھنے کی شرط پوری ہو سکے۔‘

’پاکستان کی برآمدات متاثر نہیں ہوں گی‘

مسعود اختر کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ فارورڈ سپورٹس کی مینوفیکچرنگ، فِنشنگ، پیکجنگ اور لاجسٹکس زیادہ تر پاکستان میں ہی رہے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمپنی کی سعودی توسیع پاکستان کی برآمدات کی جگہ نہیں لے گی اور نہ ہی ملکی روزگار کو نقصان پہنچائے گی۔

انہوں نے کہا ’مجھے نہیں لگتا کہ اس سے پاکستان میں کسی چیز کی جگہ لی جائے گی۔ یہ پاکستان کی برآمدات کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘

سعودی عرب میں کھیلوں کے شعبے میں تجارتی مواقع 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی سے پہلے نمایاں طور پر بڑھنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق سعودی عرب میں آپریشنز کی توسیع کا مقصد نئی طلب پیدا کرنا ہے، تاہم یہ فیصلہ ابھی نہیں ہوا کہ آیا وہ آئندہ ورلڈ کپ کے لیے سعودی عرب میں فٹ بال تیار کریں گے یا نہیں۔

’یہ بھی ہم نہیں جانتے۔ اس کے لیے ہمیں برانڈ کے ساتھ بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر وہ متفق ہوں تو ہم کچھ گیندیں سعودی عرب میں بھی بنا سکتے ہیں۔‘

’صلاحیت کوئی مسئلہ نہیں‘

مسعود اختر نے بتایا کہ اگر طلب بڑھے تو فارورڈ سپورٹس پیداواری صلاحیت بڑھانے کی پوری استعداد رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا ’ہمارے لیے زیادہ پیداوار کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم روزانہ 75 ہزار گیندیں بنانے تک پہنچ چکے ہیں۔‘

موجودہ وقت میں ورلڈ کپ سائیکل ختم ہونے کے بعد پیداوار کم ہو کر 50 ہزار گیندیں روزانہ رہ گئی ہے۔

پاکستان کے لیے یقین دہانی

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کمپنی کا ہیڈکوارٹر پاکستان میں ہی رہے گا اور پاکستانی ملازمین اور سٹیک ہولڈرز کی پوزیشن خطرے میں نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا ’ایسا نہ سمجھیں کہ ہم پاکستان میں کچھ کھونے جا رہے ہیں۔ ہم یہیں رہیں گے اور پاکستان میں اپنی پیداواری صلاحیتیں مزید بڑھائیں گے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال