سعودی دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے والے دو حوثی میزائل تباہ کر دیے: فوجی اتحاد

فوجی اتحاد کے مطابق رواں ماہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں کم از کم 15 بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔

اس فائل فوٹو میں سعودی عرب کے پیٹریوٹ میزائل کو دیکھا جا سکتا ہے (ایس پی اے)

سعودی عرب کے فوجی اتحاد نے اتوار کو کہا ہے کہ سعودی فضائی دفاع نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے دارالحکومت ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا ہے۔

اس سے قبل سعودی فضائی دفاع نے مشرقی صوبے کو نشانہ بنانے والے ایک میزائل کو بھی فضا میں تباہ کر دیا تھا۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔

فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ان میزائلوں کو روکنے کا اعلان کیا، جو نومبر کے آغاز سے کئی سعودی علاقوں کو نشانہ بنانے والے فضائی خطرات کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ 

دوسری طرف سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے اتوار کو ریاض شہر اور صوبہ نجران میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیے جو کچھ دیر بعد واپس لے لیے گئے۔

اس سے پہلے بقیق اور الاحسا کے علاقوں اور دمام شہر میں بھی خطرے کی وارننگ جاری کی گئی تھی، جسے خطرہ ٹلتے ہی فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔

اتحادی فوج کے مطابق رواں ماہ سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں کم از کم 15 بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔

ہفتے کو فضائی دفاع نے ریاض کے علاقے کی جانب داغا گیا ایک کروز میزائل تباہ کر دیا۔ اس سے ایک دن قبل نجران کو نشانہ بنانے والے دو بیلسٹک میزائل روک لیے گئے تھے۔ ان کا ملبہ زمین پر گرا اور حکام ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا۔

چھ نومبر کو ریاض اور مکہ کے علاقوں میں دو ڈرون بھی تباہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ پانچ نومبر کو مدینہ کے علاقے کو نشانہ بنانے والا ایک بیلسٹک میزائل، تین نومبر کو جنوبی، مشرقی اور مکہ کے علاقوں کی جانب بھیجے گئے تین ڈرون، جب کہ دو نومبر کو ریاض اور جنوبی علاقے کو نشانہ بنانے والے دو ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل روک لیے گئے۔

اتحادی فوج نے یہ بھی بتایا کہ یکم نومبر کو جنوبی علاقے کی جانب بھیجا گیا ایک ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا گیا تھا۔

تازہ حملے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور دوسرے بنیادی ڈھانچے پر حوثیوں کے ان حملوں کے بعد ہوئے ہیں جن سے شہری فضائی سفر بری طرح متاثر ہوا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

اکتوبر میں ان حملوں کے بعد ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔ ان حملوں میں شہری مارے گئے اور زخمی ہوئے تھے۔ حفاظتی معائنے کے لیے ہوائی اڈے کی بندش میں توسیع کی گئی، جس کے بعد پابندیوں کے ساتھ پروازیں مرحلہ وار بحال ہوئیں۔

کئی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے اپنی پروازوں کی معطلی نومبر تک بڑھا دی، جب کہ دمام، ابہا اور نجران کے ہوائی اڈوں پر بھی پروازیں متاثر ہوئیں۔

حوثیوں کی نئی کارروائیاں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران سامنے آئی ہیں۔ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی اور اس کے باعث مشرق وسطی میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے وسیع تر جنگ میں شدت آنے کے ساتھ سعودی اہداف پر حملے بڑھا دیے ہیں۔ اس صورت حال سے شہری تنصیبات، توانائی کی فراہمی اور بحری تجارتی راستوں کو لاحق خطرات پر تشویش بڑھ گئی ہے۔

یکم نومبر کو ترکی المالکی نے بتایا تھا کہ اتحادی افواج نے حوثیوں کی فوجی سرگرمیوں، خاص طور پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگراموں میں استعمال ہونے والے اہم وسائل کو ناکارہ بنانے کے لیے ایک بھرپور اور درست کارروائی کی۔

انہوں نے کہا کہ حوثی ان وسائل کو یمن اور سعودی عرب میں شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے جاری رکھنے کے ساتھ جنوبی بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

اتحادی افواج نے خبردار کیا کہ مزید حملے روکنے اور سعودی عرب سمیت پورے خطے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا