پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لودھراں میں جنسی زیادتی سے متاثرہ بچوں کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا خصوصی طبی و نفسیاتی مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں بچوں کو محفوظ اور دوستانہ ماحول میں طبی معائنے، علاج اور نفسیاتی بحالی کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) لودھراں بینش فاطمہ کے مطابق چائلڈ سینسیٹو میڈیکو لیگل سینٹر کے قیام کا مقصد جنسی زیادتی سے متاثرہ بچوں کو طبی اور قانونی مراحل کے دوران ذہنی دباؤ سے بچانا اور انہیں نفسیاتی صدمے سے نکلنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں جنسی زیادتی سے متاثرہ بچوں کو جسمانی مسائل کے ساتھ شدید نفسیاتی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ان کی ذہنی کیفیت والدین کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنتی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
ڈی پی او بینش فاطمہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم نے پنجاب میں پہلا علیحدہ چائلڈ سینٹر قائم کر دیا ہے جہاں بچے بلا خوف و جھجھک اپنا طبی معائنہ اور ضروری علاج کروا سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق اس سے قبل جنسی زیادتی سے متاثرہ بچوں کو ہسپتالوں کے عام وارڈز میں لے جایا جاتا تھا، جہاں انہیں دیگر مریضوں کی طرح طبی مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’لیکن اب بچوں کی نفسیاتی کیفیت اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ماحول فراہم کیا گیا ہے۔‘
بینش فاطمہ کے مطابق مرکز میں متاثرہ بچوں کو قانونی کارروائی کے ساتھ ضروری طبی سہولتیں، نفسیاتی معاونت اور خصوصی نگہداشت بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
متاثرہ بچوں کی نفسیاتی بحالی کیسے ہوتی ہے؟
ڈی پی او کے مطابق مرکز میں بچوں کے طبی معائنے کے ساتھ ماہرین نفسیات کے خصوصی سیشنز بھی کروائے جاتے ہیں۔
ان سیشنز کا مقصد جنسی زیادتی سے متاثرہ بچوں کو ذہنی صدمے اور خوف سے نکلنے، ان کا اعتماد بحال کرنے اور دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف آنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بینش فاطمہ نے بتایا کہ ’اس عمل میں بچوں کے والدین کو بھی شامل کیا جاتا ہے اور انہیں رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی بہتر دیکھ بھال اور نفسیاتی بحالی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔‘
ان کے مطابق مرکز میں اب تک 10 سے زائد بچوں کے نفسیاتی سیشنز مکمل کیے جا چکے ہیں۔
مزید مراکز کا منصوبہ
بینش فاطمہ کا کہنا تھا کہ لودھراں سمیت جنوبی پنجاب میں جنسی زیادتی سے متاثرہ بچوں کے نفسیاتی مسائل پر مناسب توجہ نہ دیے جانے کے باعث ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق ایسے بچوں کو صرف طبی معائنے اور قانونی کارروائی کی نہیں بلکہ خصوصی نفسیاتی معاونت اور محفوظ ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ متاثرہ بچوں کی ضروریات کے پیش نظر مزید ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے تاکہ انہیں بروقت طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد متاثرہ بچوں کو ذہنی سکون اور اعتماد فراہم کرنا اور انہیں باعزت انداز میں معمول کی زندگی کی طرف واپس آنے میں مدد دینا ہے۔