’پرائیڈ آف بریٹن‘ ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر آصف حسن 30 سالہ خدمات کے بعد ریٹائر

اپنے طویل طبی کیریئر کے دوران ڈاکٹر آصف نے تقریباً 400 ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیے اور پیدائشی طور پر دل کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا بچوں کے علاج میں اہم پیش رفت کی۔

’پرائیڈ آف بریٹن‘ ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصف حسن برطانیہ کے شہر نیو کاسل کے فری مین ہسپتال میں بچوں کے شعبہ قلب کے سربراہ کی حیثیت سے 30 سال خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہو گئے۔

اپنے طویل طبی کیریئر کے دوران ڈاکٹر آصف نے تقریباً 400 ہارٹ ٹرانسپلانٹ کیے اور پیدائشی طور پر دل کی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا بچوں کے علاج میں اہم پیش رفت کی۔

ان کی خدمات کے نتیجے میں ہزاروں مریضوں کو نئی زندگی ملی۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

ڈاکٹر آصف پنے لیے منعقدہ ایک تقریب کے دوران اپنے ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نیو کاسل میں ایسے غیر معمولی طبی ماہرین کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جو مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے پوری طرح وقف تھے۔

ان کے مطابق ان کے ساتھی اس وقت تک اپنی ڈیوٹی ختم نہیں کرتے تھے جب تک کام مکمل نہ ہو جائے اور مریضوں کی ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت واپس ہسپتال آ جاتے تھے۔

ڈاکٹر آصف نے برطانیہ کے قومی ادارۂ صحت (این ایچ ایس) کے تحت دستیاب طبی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں معمولی علاج سے لے کر دل اور جگر کی پیوندکاری تک کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی ایسے آپریشن بلا معاوضہ کرتے رہے ہیں۔

تقریب کے دوران ڈاکٹر آصف کے ایک صحت یاب مریض سیب نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب ڈاکٹر آصف نے پہلی بار ان کا آپریشن کیا تو ان کی عمر محض 16 ہفتے تھی۔

سیب کے مطابق ان کے والدین نے انہیں بتایا کہ ڈاکٹر آصف رات بھر مریضوں کے بستروں کے پاس موجود رہتے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر ان کی مدد کر سکیں۔

انہوں نے ڈاکٹر آصف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انہیں زندگی کا دوسرا موقع دیا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی صحت