شادیوں کا موسم ہو یا تہواروں کی چہل پہل، رات گئے تک تقریبات، دوستوں کی محفلیں، تاش کے کھیل اور مسلسل جاگنا معمول بن جاتا ہے۔ کئی لوگ ان دنوں صرف دو یا تین گھنٹے کی نیند پر گزارا کرتے ہیں اور پھر اگلی صبح ایک مضبوط کافی کے سہارے دن کا آغاز کرتے ہیں، لیکن جسم کی اپنی حد ہوتی ہے اور ایک وقت کے بعد تھکن، بے ترتیبی اور کمزوری نمایاں ہونے لگتی ہے۔
ووگ انڈیا میگزین کے مطابق رونقیں ختم ہونے کے بعد اکثر لوگ گھنٹوں سوتے رہ کر کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر ماہرین کے مطابق کئی راتوں کی خراب نیند کا ازالہ ایک ہی دن میں لمبی نیند لے کر نہیں کیا جا سکتا۔ صحت مند بحالی کے لیے بہتر حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
پہلا قدم کیا ہونا چاہیے؟
ماہرین کے مطابق بحالی کا آغاز جسم کو مناسب آرام دینے سے ہوتا ہے۔ تھکن کے باوجود روزمرہ کے معمولات کو زبردستی جاری رکھنے کے بجائے جسم کو سنبھلنے کا موقع دینا چاہیے۔
سونے سے کچھ دیر پہلے موبائل فون، ٹیبلٹ اور دیگر سکرینوں کا استعمال کم کر دینا چاہیے تاکہ دماغ سکون کی حالت میں آ سکے۔ آرام دہ ماحول اور سونے کا باقاعدہ وقت نیند کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
نیند کی مسلسل کمی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت، مزاج اور جسمانی نظام پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ اگرچہ کیفین یا میٹھی اشیا فوری توانائی فراہم کر سکتی ہیں، لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں۔
ماہرین کے مطابق نیند ہی یادداشت، جذباتی توازن اور جسم کے مرمتی عمل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
دوبارہ معمول پر کیسے آئیں؟
نیند کا شیڈول بحال کرنے کے لیے روزانہ ایک ہی وقت پر جاگنے کی کوشش کریں، چاہے رات میں نیند کم ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔ صبح بیدار ہونے کے فوراً بعد قدرتی دھوپ میں کچھ وقت گزارنا بھی جسمانی گھڑی کو درست کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ بہت جلد سونے کی کوشش ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتی، خصوصاً اگر آپ کو نیند ہی نہ آ رہی ہو۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنے سونے کے وقت کو آہستہ آہستہ معمول پر لایا جائے۔
شام کے وقت روشنی مدھم رکھنا، پرجوش سرگرمیوں سے گریز کرنا اور پرسکون ماحول بنانا نیند کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے۔
عموماً بالغ افراد کو روزانہ سات سے نو گھنٹے نیند درکار ہوتی ہے، اگرچہ ہر فرد کی ضرورت مختلف ہو سکتی ہے۔
کیا کھائیں اور کیا پئیں؟
شادیوں اور تہواروں میں مرغن اور لذیذ کھانوں سے بچنا آسان نہیں ہوتا، لیکن بعد کے دنوں میں خوراک پر توجہ دینا بحالی کے عمل کو بہتر بنا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق:
- پانی زیادہ مقدار میں پئیں۔
- پروٹین سے بھرپور غذا استعمال کریں۔
- سالم اناج، سبزیاں اور پھل خوراک میں شامل کریں۔
- گریاں اور بیج توانائی برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
- ضرورت سے زیادہ کافی یا میٹھی اشیا پر انحصار نہ کریں۔
اگر جسم میں پانی کی کمی زیادہ ہو گئی ہو تو الیکٹرولائٹ والے مشروبات فائدہ مند ہو سکتے ہیں، تاہم عام حالات میں مناسب مقدار میں پانی پینا کافی ہوتا ہے۔
متوازن ناشتہ اور رات کو ہلکی غذا بھی جسم کو بہتر محسوس کروا سکتی ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی سپلیمنٹ، غذا یا ڈیٹاکس ڈرنک نیند کی کمی کے اثرات کو ختم نہیں کر سکتا۔ اچھی نیند کا کوئی متبادل موجود نہیں۔
کن عادات سے پرہیز کرنا چاہیے؟
کئی راتوں کی کم نیند کے بعد اکثر لوگ دن بھر کافی کے کپ پر کپ پیتے ہیں، مگر یہ عادت بحالی کے عمل کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔
ان چیزوں سے بچیں:
- شام یا رات کے وقت زیادہ کیفین لینا
- سونے سے پہلے شراب نوشی
- رات گئے بھاری کھانا کھانا
- شدید تھکن کے باوجود سخت ورزش کرنا
- غنودگی کی حالت میں گاڑی چلانا
ماہرین کے مطابق اگر توانائی کم محسوس ہو رہی ہو تو ہلکی جسمانی سرگرمیاں، مثلاً چہل قدمی زیادہ موزوں انتخاب ہیں۔
نیند کی کمی کا اثر ایک رات میں ختم نہیں ہوتا۔ جسم کو معمول پر آنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ اس لیے چند دن تک معیاری نیند، متوازن غذا اور ایک مستقل روزمرہ معمول برقرار رکھنا ضروری ہے۔
اگر کافی آرام کے باوجود مسلسل تھکن، کمزوری یا توجہ کی کمی برقرار رہے تو طبی معائنہ کروانا مناسب ہو سکتا ہے۔
مناسب آرام، متوازن غذا، پانی کا استعمال اور معمول کے مطابق نیند ہی صحت مند بحالی کی کنجی ہیں۔