بڑی عمر کی خواتین کو ’نظر انداز‘ کیے جانے کی شکایت کیوں نہیں کرنی چاہیے؟

جو خواتین ’نظر نہ آنے‘ کو محسوس کرتی ہیں، انہیں شاید ذرا رک کر خود سے یہ سوال کرنا چاہیے: ’کس کے لیے غائب؟‘ 74 سالہ ایورل ملر کہتی ہیں کہ وہ اس عمر میں ایک متنوع پیشہ ورانہ کیریئر سے بھرپور لطف اندوز ہو رہی ہیں اور اگر کچھ بدلا ہے تو یہ کہ وہ پہلے سے کہیں

چوہتر سالہ ایورل ملر جو اس عمر میں اپنے کیریئر سے بھرپور لطف اندوز ہو رہی ہیں (سپلائیڈ)

مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار ’غائب یا ان وزیبل خواتین‘ کی اصطلاح سنی تھی۔ میں الجھن میں پڑ گئی تھی۔ آج بھی ہوں۔ یہ بہت پہلے کی بات ہے؛ 2013 میں سیلون نے تیرا ہارپاز کا ایک مضمون شائع کیا تھا، جو پہلے فیمنسٹنگ پر شائع ہوا تھا، اور جس کا دعویٰ تھا کہ ’50 سال سے زیادہ عمر کی خواتین غائب ہو جاتی ہیں۔‘

یہ ان دنوں سے بھی بہت پہلے کی بات ہے جب سابق فیشن ایڈیٹر سٹیسی ڈیوگڈ کی، جو ملازمت تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی تھیں، سوشل میڈیا پوسٹس وائرل ہوئیں۔ 52 سالہ ڈیوگڈ نے ’ملازمت کے قابل نہ رہنے‘ کی ’خاموش شرمندگی‘ پر بات کی اور بتایا کہ گذشتہ 16 ماہ میں انہوں نے 150 ملازمتوں کے لیے درخواستیں دیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ نہ صرف ان کی درخواستیں مسترد ہوئیں بلکہ بیشتر کا جواب تک نہیں دیا گیا اور انہیں بھرتی کرنے والوں کی نظر میں خود کو مکمل طور پر غائب پایا۔

انہوں نے کہا: ’پیسہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور میں خوفزدہ ہوں۔ اور اگر میں اس صورت حال میں ہوں تو شاید آپ بھی ہوں۔‘

اسی طرح ہارپاز بھی ایک سابق کارپوریٹ وکیل تھیں جو بعد میں کالج کونسلر بن گئیں۔ وہ گھر بیٹھنے والی یا دبک کر رہنے والی خاتون نہیں تھیں، اور ان کا مضمون بھی ذاتی تجربات اور مشاہدات پر مبنی تھا۔ لیکن ان کی توجہ زیادہ اس بات پر تھی کہ ٹرین میں ایک نوجوان نے ان کی طرف تعریفی نگاہ سے نہیں دیکھا اور ایک ریڈیالوجسٹ نے یہ پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی کہ کہیں وہ حاملہ تو نہیں۔ انہیں اس بات پر شدید غصہ تھا کہ لوگ انہیں ان کی حقیقی عمر کے مطابق دیکھ رہے تھے۔

انہوں نے لکھا: ’جب میں سڑک پر چلتی تھی تو راہ گیر مجھے دیکھتے ہی نہیں تھے۔ پارٹیوں میں جن لوگوں سے میری ملاقات ہوتی، وہ ہلکی سی مایوسی کے ساتھ میری طرف دیکھتے اور پھر نظریں ہٹا لیتے، اور آہستہ آہستہ میں اندر سے سکڑنے لگی۔‘

اس مضمون کے بعد ردعمل سامنے آیا۔

ایک گروہ نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ خواتین اور مردوں کو دیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ مردوں کو عموماً ’باوقار‘ سمجھا جاتا ہے جبکہ خواتین کو ان ہی برسوں کے گزرنے پر زیادہ سختی سے پرکھا جاتا ہے۔ اس موقف کے حق میں کارپوریٹ دنیا میں عمر کی بنیاد پر امتیاز کی واضح مثالیں بھی پیش کی گئیں۔ بات مناسب تھی۔ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔

دوسرا گروہ، جس میں میں شامل تھی، حیران تھا۔ اس وقت میں سوچتی تھی کہ کیا واقعی سڑک پر کوئی مجھے دیکھتا ہے؟ اگر نہیں دیکھتا تو کیوں نہیں؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ ہارپاز صرف، معاف کیجیے گا، ذرا بورنگ ہوں؟

لیکن ہف پوسٹ کی ایریکا جیگر نے، جو اس وقت 52 برس کی تھیں، شاید سب سے بہتر انداز میں بات کی: ’یہ ایک فلسفیانہ سوال ہے: اگر معاشرہ بڑی عمر کی خواتین کو یہ نہ بتائے کہ وہ غیر مرئی ہیں، تو کیا وہ پھر بھی خود کو غائب محسوس کریں گی؟ مجھے اس طاقت سے نفرت ہے جو اس باسی بیانیے، یعنی ’بڑی عمر کی خواتین غیر مرئی ہیں‘، کو حاصل ہے۔‘

جب ہارپاز نے اپنا مضمون شائع کیا تو میری عمر 60 سال تھی۔ اور میں خود کو نظروں سے اوجھل محسوس کرنے سے کوسوں دور تھی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں خوش قسمت تھی۔ لیکن آپ شاید یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ 50 برس کی عمر میں میں ایک طویل بیماری کے بعد اپنی ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کی چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کے طور پر کام پر واپس آئی تھی۔ اس بیماری کے دوران میں اپنا گھر، اپنی جمع شدہ ملکیت اور اپنا سارا سرمایہ کھو چکی تھی۔

اس کے بعد سے آج تک، 74 سال کی عمر میں، میں نے اپنی پچاس کی دہائی میں شروع کیے گئے کاروبار کو بڑھایا اور کامیابی سے فروخت کیا، ایک عالمی ہیڈ ہنٹنگ فرم کی سی ای او رہی، اور ایک ایسا متنوع کیریئر بنایا جو طبی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری کے انتظام، فارن ایکسچینج ٹریڈنگ اور کھیلوں کی کارکردگی جانچنے والی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں پر محیط ہے۔

اس وقت میرے پاس دو ایگزیکٹو ڈائریکٹرشپس، چار نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے اور کئی مشاورتی ذمہ داریاں ہیں۔ میری مانگ پہلے کبھی اتنی زیادہ نہیں رہی، اور نہ ہی میں نے زندگی سے کبھی اتنا لطف اٹھایا ہے۔

74 برس کی عمر میں بھی میں کام کر رہی ہوں، طویل عرصے سے خوش و خرم تنہا زندگی گزار رہی ہوں، سپین میں اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ گہرا رابطہ رکھتی ہوں، اپنے سابق پیشہ ور سائیکلسٹ بیٹے کے، جو اب ایک برانڈ ڈائریکٹر ہیں، قریب ہوں، اور اپنی مصروف سی ای او بیٹی کے ساتھ مضبوط رشتہ رکھتی ہوں۔ میں لکھنے کی شوقین ہوں اور اگر حقیقت دیکھی جائے تو آج میں پہلے سے کہیں زیادہ ’نمایاں‘ ہوں۔

لیکن اصل سوال یہ ہے: نظر کس کو نہیں آتیں؟

مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ کسی عورت پر تنقید کرنی پڑے، لیکن یہاں شاید ایسا کرنا ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ جب ہارپاز نے 50 سال سے زائد عمر کی خواتین کی ’نظر نہ آنے‘ کی کیفیت پر اپنا اصل مضمون لکھا تھا، تو ممکن ہے کہ وہ اس ٹرین میں دوسروں کو نہیں بلکہ خود کو اپنے لیے غیر مرئی محسوس کر رہی تھیں۔ ایسا ہم میں سے اکثر کے ساتھ ہوتا ہے۔ ایک دن، ایک مہینہ یا کبھی ایک سال ایسا آتا ہے جب ہم خود کو پہلے سے کم محسوس کرتے ہیں، پھر دوبارہ اپنے آپ کو پا لیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میرا استدلال یہ ہے کہ بڑھاپے کا یہ ایک بالکل معمول اور فطری حصہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ مردوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہوگا، جب ان کے بال کم ہونے لگتے ہیں اور ان کے طاقتور نوجوان بیٹے ان سے لمبے نظر آنے لگتے ہیں۔ انہیں اور ہمیں اپنے بارے میں اپنا تصور بدلنا پڑتا ہے، اور یہ تبدیلی آسان نہیں ہوتی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ہی ہماری پوری شناخت بن جائے۔ جب ایک بار ہم خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لیں تو پھر آگے بڑھ جانا چاہیے۔

ہارپاز کے مضمون سے پہلے ایک نسبتاً کم معروف علمی کتاب بھی شائع ہوئی تھی: جینیٹ کنگ کی Discourses of Ageing in Fiction and Feminism: The Invisible Woman، جو ہارپاز کے مضمون سے ایک سال پہلے منظر عام پر آئی تھی۔

جہاں ہارپاز بلند آواز میں اپنے احساسات بیان کر رہی تھیں، جو کہ بالکل جائز بات تھی، وہیں کنگ ایک مضبوط اور ضروری دلیل پیش کر رہی تھیں کہ عمر رسیدگی کا اثر خواتین پر غیر متناسب طور پر پڑتا ہے۔ دونوں میں سے کسی کا مقصد اس کیفیت کو بیماری قرار دینا نہیں تھا۔ وہ صرف اس کا مشاہدہ کرنا چاہتی تھیں، نہ کہ اسے اپنی شناخت کا مرکز بنانا۔

یہ معاملہ اس وقت ایک ’موضوع‘ بن گیا جب آسٹریلیا کے نیشنل ایجنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی محقق میلانیا جوستن نے Invisible Woman Syndrome: Do You Have It? کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کیا۔

زبان غیرجانبدار نہیں ہوتی۔ ’سنڈروم‘ جیسے لفظ کا اثر لمحاتی احساس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ سنڈروم ایسی چیز ہے جس کے علاج کی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ اور پھر خواتین کو اس سے بچانے کے لیے کون میدان میں آیا؟ دوا ساز کمپنیاں، بیوٹی برانڈز، غذائی سپلیمنٹ بنانے والے، اور ویسے بھی ہر مسئلے کا حل بیچنے والی ویلنَس انڈسٹری، جو ایسی طاقتور اصطلاح ملنے پر بے حد خوش تھی۔ اربوں ڈالر اس کام پر خرچ کیے گئے کہ خواتین کو بڑھتی عمر کے بارے میں فکرمند رکھا جائے، ان کی توجہ ان کی ترقی، کامیابیوں اور مستقبل سے ہٹا کر اس ایک چیز پر لگا دی جائے جسے وہ تبدیل نہیں کر سکتیں: وقت۔ تھراپی کی صنعت بھی اس میں شامل ہو گئی۔ کسی بھی سنڈروم کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے تشخیصی معیار اور طبی توثیق درکار ہوتی ہے، تاکہ اسے ماہرینِ نفسیات کی تشخیصی کتاب DSM جیسے کسی مستند حوالہ میں شامل کیا جا سکے۔

لیکن ’انویزیبل ویمن سنڈروم‘ کبھی اس کے قریب بھی نہیں پہنچا۔ نہ کسی کلینیکل ٹرائل کے قریب گیا، نہ کسی طبی توثیق کے۔ یہ بس ایک سرخی اور مارکیٹنگ کے منصوبے تک محدود رہا، اگرچہ Frontiers in Psychology میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مقالے میں ’Age-related Gendered Diminishment‘ کو ایک باقاعدہ نظریاتی تصور کے طور پر پیش کرنے کی تجویز دی گئی ہے، سو اب اس پر بھی نظر رکھیے۔ کیا ہو اگر ہم اس کے برعکس اس بات پر توجہ دیں کہ ہم اپنے بارے میں کیسے بات کرتے ہیں، اور ان خواتین کو دیکھیں جو عمر کے ساتھ ساتھ ترقی کر رہی ہیں، بڑھ رہی ہیں، اور مزید وسیع امکانات حاصل کر رہی ہیں؟

’سنڈروم‘ کا لفظ اپنا کام کر دیتا ہے۔ یہ ایک غیر ثابت شدہ مشاہدے کو باقاعدہ تشخیص کی سی حیثیت دے دیتا ہے۔ ’کبھی کبھی آپ خود کو کچھ اداس محسوس کرتی ہیں، اور بڑھتی عمر کے ساتھ ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے‘ کوئی فروخت ہونے والی سروس نہیں۔ لیکن ’آپ کو انویزیبل ویمن سنڈروم ہے، یہ آپ کی غلطی نہیں، اور میں آپ کو دوبارہ نمایاں ہونے میں مدد دے سکتی ہوں‘ ایک 12 ہفتوں کے پروگرام کی بہترین تشہیر بن جاتی ہے۔

اس اصطلاح کو صنعت نے ایجاد نہیں کیا تھا۔ جوستن نے ایک سمجھے جانے والے سماجی رجحان کی نشاندہی کی، اور میڈیا نے فوراً اسے اپنا لیا۔ ایک بار جب ’سنڈروم‘ کا تصور قبول کر لیا گیا تو اس نے پورے معاملے کو ایک مخصوص زاویے سے پیش کرنا شروع کر دیا، کیونکہ سنڈروم کا علاج کیا جاتا ہے، اور اکثر مہنگا علاج۔ چنانچہ 2012 سے لے کر آج تک خواتین نے ’انویزیبل ویمن سنڈروم‘ کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ یہ اصطلاح ان سے بھی دہرائی جاتی ہے اور وہ خود بھی اسے دہراتی ہیں، اور یہ نہایت نقصان دہ ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمر کی بنیاد پر امتیاز اور جنس کی بنیاد پر امتیاز دونوں موجود ہیں۔ برطانیہ کے ایکویلیٹی ایکٹ 2010 کے تحت عمر نو محفوظ خصوصیات میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود مزید ساختی تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ عمر اور زیادہ تجربہ رکھنے والے، اور اسی وجہ سے نسبتاً مہنگے، ملازمین تنظیمی تبدیلیوں کے دوران سب سے پہلے فارغ نہ کیے جائیں۔

اگرچہ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں۔ مرد کسی حد تک ’بوائز کلب‘ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن پچاس برس کی عمر کے بہت سے مرد بھی ملازمتوں سے فارغ کیے جاتے ہیں اور انہیں نئی نوکری کے لیے بہت بوڑھا جبکہ ریٹائرمنٹ کے لیے بہت جوان سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی توجہ طلب امر ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی بھرتی کے نظام بعض اوقات ایسے سی وی مسترد کر دیتے ہیں جن میں بہت زیادہ سینیئر تجربہ درج ہو، کیونکہ اس سے عمر زیادہ ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ یہ ہی وہ بات ہے جس پر ڈگڈ خاص طور پر برہم ہیں۔

تاہم جس لمحے کسی عورت کو یہ سکھایا جائے کہ وہ اپنی قدر و قیمت کا تعین دوسروں کی نظروں سے کرے، اسی لمحے وہ ہار جاتی ہے۔ ہارپاز اور ان جیسی خواتین کے لیے یہ ایسی جنگ بن جاتی ہے جو جیتی نہیں جا سکتی۔

زبان حقیقت کی صرف عکاسی نہیں کرتی، وہ حقیقت تخلیق بھی کرتی ہے۔ جب بھی ہمارے لیے ’نہ دکھائی دینے‘ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، ہم اسے حقیقت کے طور پر قبول کر لیتے ہیں اور اس کے ثبوت تلاش کرنے لگتے ہیں۔ انسانی ذہن معنویت تلاش کرنے کے لیے بنا ہے، اور ایسے شواہد ڈھونڈنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ پھر ہماری توجہ اندر سے ہٹ کر باہر کی طرف چلی جاتی ہے، جہاں ہم توثیق تلاش کرتے ہیں مگر اکثر وہ ناکافی محسوس ہوتی ہے۔

تو پھر کیا ہو اگر ’50 کے بعد عورت اِنوزیبل ہو جاتی ہے‘ والا بیانیہ کبھی وجود میں ہی نہ آتا؟ کیا ہو اگر ہم اس کے بجائے اس بات پر توجہ دیں کہ ہم اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں، اور ان خواتین کو نمایاں کریں جو عمر کے ساتھ پھل پھول رہی ہیں، ترقی کر رہی ہیں اور نئی سمتوں میں آگے بڑھ رہی ہیں؟ کیا ہو اگر ہم اس بارے میں زیادہ بات کریں کہ ہم کیا کر رہے ہیں، بجائے اس کے کہ ہم کیسا محسوس کر رہے ہیں؟

اور کیا ہو اگر یہ ’ اِنوزیبل‘ کا بیانیہ درحقیقت حالات کو حقیقت سے کہیں زیادہ خراب بنا رہا ہو؟

اختتامی نوٹ: نہ ہارپاز غائب ہوئیں اور نہ ہی جینیٹ کنگ۔ جینیٹ کنگ یونیورسٹی آف ایبرڈین میں انگریزی کی ایمیریٹس پروفیسر کے طور پر ایک طویل اور نمایاں کیریئر کے بعد ریٹائر ہوئیں۔ جبکہ ٹیرا ہارپاز آج بھی لکھ رہی ہیں اور اب Better After 50 میں مضامین شائع کرتی ہیں۔ وہ اب بھی نظر آتی ہیں۔

ایورل ملار، جو Management Today کی سابق کالم نگار، کاروباری شخصیت اور سی ای اوز کی رہنما ہیں، 74 برس کی ہیں اور اپنی زندگی میں پانچ مختلف پیشہ ورانہ کیریئر اختیار کر چکی ہیں۔ ان کی نئی کتاب Feral: A Grown Woman’s Guide to a Free and Ferocious Life دو ستمبر 2026 کو ریتھنک پریس سے شائع ہو رہی ہے۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فٹنس