پاکستان کی مذہبی سیاسی تنظیم جماعت اسلامی آج یعنی 26 اگست 2026 کو اپنا 85واں یوم تاسیس منا رہی ہے یعنی 85 سال کی ہوگئی لیکن اس جماعت کے بارے میں سب سے اہم سوال اس کی طویل عمر یا نظریاتی یکسانیت نہیں بلکہ اس کی انتخابی محدودیت ہے۔
عام پاکستانیوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے اور ملک کی منظم ترین سیاسی تنظیموں میں شمار ہونے کے باوجود جماعت اسلامی عوامی سطح پر اپنی سرگرمیوں اور نظریاتی اثر و رسوخ کو وسیع انتخابی کامیابی میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
دھرنوں کی سیاست سے لے کر تقریباً روزانہ عام آدمی کے مسائل جیسے کہ مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر احتجاج اور دھرنے اسے کسی حد تک قومی میڈیا میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ آج کل بھی یہ اسی قسم کی ایک احتجاجی مہم چلا رہی ہے اور اب اسلام آباد کی جانب مارچ کی دھمکی دے رہی ہے۔
لیکن 2024 کے متنازع عام انتخابات میں اس نے ووٹ حاصل کرنے کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں میں چھٹا نمبر حاصل کیا۔ یہ قدرے نئی جماعت کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور جعمیت علما اسلام ف سے بھی ووٹوں کے اعتبار سے پیچھے رہی۔
ملک کی سب سے قدیمی اسلامی نظریہ کے ساتھ سیاست کرنے والی اس جماعت کی بنیاد لاہور میں 26 اگست 1941 کو اس کے بانی سید ابولاعلی مودودی نے 74 افراد کے ساتھ مل کر رکھی تھی جو اب انڈیا، بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔
اس جماعت کا مرکز منصورہ لاہور میں موجود ہے جہاں سیاست کے ساتھ دین اسلام کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس تنطیم کا طلبہ ونگ جمعیت سب سے منظم اور مضبوط سمجھا جاتا ہے جبکہ آفات زدہ افراد کی مدد کے لیے متحرک الخدمت فاونڈیشن قائم کی۔
اس جماعت کے جس کا شمار دنیا بھر میں اسلامی احیا کے لیے پر امن طور پر کوشاں چند عالمی اسلامی تحریکوں میں ہوتا ہے اہم ذمہ داران اور شوری کا چُناؤ بذریعہ انتخاب کیا جاتا ہے جس میں صرف اراکین جماعت حصہ لیتے ہیں جبکہ دیگر ذمہ داریاں استصواب رائے کے ذریعے طے کی جاتی ہیں۔
پاکستان کی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے برعکس جماعت میں موروثی، شخصی، خاندانی یا گروہی سیاست کی کوئی مثال نہیں ملتی اور جماعت اپنے اندر نظم و ضبط، کارکنوں کے اخلاص، جمہوری اقدار اور بدعنوانی سے پاک ہونے کا دعوی کرتی ہے۔
تنقید
جماعت اسلامی پر حریف سیاسی جماعتیں مذہب کے نام پر سیاست کرنے کا الزام عائد کرتی آئی ہیں۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کی تحریک میں بھی جماعت اسلامی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جماعت اسلامی کو ایک مذہبی پریشر گروپ قرار دیا۔
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ہمیں 85 سال ہوگئے اصولوں کی سیاست کرتے ہوئے۔ لیکن مذہبی اقدار کے ذریعے سیاسی راستہ اپنانے پر اندرونی و بیرونی قوتوں نے ہمیشہ اقتدار کا راستہ روکا تاکہ ملک میں فرسودہ اور غیر مسلموں کا نظام ختم نہ ہوسکے۔ ہم اسلام کے مطابق معاشرے کا قیام سیاسی جدوجہد کے ذریعے یقینی بنانے پر قائم ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم اسلامی اصولوں کے مطابق جمہوری روایات پر قائم ہیں۔‘
لیاقت بلوچ کے بقول، ’جماعت اسلامی میں آج بھی اعلیٰ ترین تنظیمی سربراہ یعنی امیر کو تمام اراکین کے ذریعے شفاف انتخاب سے منتخب کیا جاتا ہے۔ یہ انتخاب کسی بھی قسم کے نسلی، خاندانی اور علاقائی تعصب سے بالاتر ہوتا ہے۔ امیر جماعت کو پانچ سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انتخابی سیاست کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد ملک میں کوئی بھی ایک الیکشن ایسا نہیں ہوسکا جو شفاف ہو یا اس میں اندرونی و بیرونی قوتوں کی مداخلت نہ رہی ہو۔ یہاں عوامی ترجمانی کرنے والی حکومت ابھی تک اس لیے قائم نہیں ہوسکی کہ طے شدہ اصولوں کے مطابق نہ اقتدار ملتا ہے نہ ہی انتخابی عمل قوانین کے مطابق ہوتا ہے۔ اتنے سالوں سے نظام مسلسل تباہ ہو رہا ہے عوام میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہم آج بھی عوامی حقوق اور مسائل حل کرنے کا مطالبہ لے کر لاہور میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔‘
پارٹی سربراہان کا کردار
یہ پاکستان کی واحد سیاسی تنظیم ہے جس کا بنگلہ دیش اور انڈیا میں بھی موثر تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے۔ اس جماعت کے پہلے سربراہ سید ابوالاعلی مودودی جو قیام پاکستان سے پہلے متحدہ ہندوستان پھر قیام پاکستان کے بعد 1941 سے 1972 تک قیادت کرتے رہے۔ انہوں نے ہر موقع پر اپنا سیاسی اور مذہبی کردار کافی موثر انداز میں نبھایا۔ وہ اپنی قیادت میں 31 سال کے دوران اس جماعت کو دور دراز چھوٹے بڑے علاقوں تک پھیلانے میں کامیاب ہوئے۔
ان کے بعد 1974 میں میاں طفیل کو اس جماعت کی قیادت کے لیے شوری نے منتخب کیا۔ انہوں نے 1987 تک اس جماعت کی قیات کی۔ پھر 1987 میں انتخاب ہوا تو قاضی حسین احمد امیر منتخب کیے گئے۔ وہ 2009 تک امیر جماعت اسلامی کے عہدے پر براجمان ہوئے۔ ان کا دور بھی کافی سیاسی اور مذہبی محاذوں پر کارکنوں کو متحرک رکھنے کا سبب بنا۔ مزاحمتی، سڑکوں پر سیاست میں انہیں کافی پزیرائی ملی اور ان کے بارے میں جملہ بھی شاید ہمیشہ کے لیے مشہور ہو گیا کہ ’ظالموں قاضی آ رہا ہے‘۔
قاضی حسین نے نہ صرف پاکستان بلکہ کئی دوسرے ممالک میں بھی جماعت اسلامی کو متحرک کرنے میں کردار ادا کیا۔ انتخابی سیاست اور طلبہ یونین جمعیت کو بھی کافی عروج ملا۔ جب سابق جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا میں مذہبی جماعتیں متحد ہوئیں اور متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) بنی تو جماعت اسلامی بھی خیبر پختونخواہ اور پارلیمان میں کافی بہتر پوزیشن میں آئی۔
قاضی حسین احمد کے بعد 2009 میں منور حسن کو منتخب کیا گیا جو 2014 تک امیر رہے۔ انہوں نے بھی کافی فعال کردار ادا کیے رکھا۔ ان کے دور میں افغان طالبان کے لیے مذہبی بنیادوں پر ہمدردی رکھنے کا الزام بھی لگایا گیا۔
پھر 2014 سے 2024 تک 10 سال تک سراج الحق امیر جماعت اسلامی رہے۔ ان کے دور میں جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کیا اور حکومت میں شراکت دار بن گئے جو بعد میں اختیارات کی رسہ کشی کی وجہ سے ختم ہوگیا۔
ان کے بعد 2024 میں کراچی کے حافظ نعیم الرحمن کو امیر جماعت اسلامی کا عہدہ مل گیا۔ وہ بھی کافی متحرک سیاسی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان دنوں بھی ان کی قیادت میں جماعت اسلامی پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس کے لیے لاہور سمیت بڑے شہروں میں دھرنے دے رہی ہے۔
انتخابی سیاست
ویسے تو اس جماعت نے پاکستان کے اکثر انتخابات میں حصہ لیا۔ لیکن کبھی انہیں اتنی عددی اکثریت حاصل نہیں ہوسکی کہ وہ کسی صوبے یا وفاق میں حکومت بنا سکے۔ البتہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ کراچی میں میئر کا عہدہ اور پختونخوا میں کئی وزارتیں حاصل کر چکی ہے۔
آج کل کراچی کا میئر تو پیپلز پارٹی کا ہے لیکن جماعت اسلامی کافی سیٹوں کے ساتھ مضبوط اپوزیشن میں ہے۔
ریکارڈ کے مطابق 1970 کے انتخاب میں جماعت اسلامی کو قومی اسمبلی کی چار جبکہ پنجاب، سندھ اور کے پی کے اسمبلی میں ایک ایک نشست پر کامیابی ملی۔ اسی طرح 1977 کے الیکشن میں جماعت اسلامی پاکستان نیشنل الائنس کا حصہ بن کر انتخابات لڑی اور قومی اسمبلی کی 36 نشستیں جیتیں۔
1990 میں پارٹی نے پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کا حصہ بن کر انتخابات لڑے لیکن یہ اتحاد کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکا اور مشکل سے پنجاب اسمبلی کی ایک سیٹ حاصل کی۔
1993 میں جماعت اسلامی نے پاکستان اسلامک فرنٹ کے بینر تلے انتخابات میں حصہ لیا اور قومی اسمبلی کی تین، پنجاب کی دو اور خیبر پختونخوا کی چار نشستیں جیتیں۔ 1997 میں پارٹی نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا انتخاب کرتے ہوئے حکمرانوں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
سال 2002 میں جماعت اسلامی، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کا حصہ تھی جس نے قومی اسمبلی کی 45 نشستیں سمیٹیں۔ اس اتحاد نے خیبر پختونخوا میں 48 نشستیں حاصل کرکے حکومت قائم کی۔
2008 کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی نے آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) کا حصہ بننے کا انتخاب کیا جس نے انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا۔ پھر 2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس نے قومی اسمبلی کے 166 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے تھے جہاں سے اسے 9 لاکھ 67 ہزار 651 یا 2.13 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔
جماعت اسلامی نے ضیا الحق کے آمرانہ دور حکومت میں، امریکی و پاکستانی سرپرستی میں افغانستان اور بعد ازاں کشمیر میں مسلح جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔ اس حوالے سے جہاد کے لیے مالی وافرادی کی فراہمی اور رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے جماعت اسلامی نے بیشمار فنڈ سٹالز، کانفرنسز، مذاکرے اور مباحثوں کا اہتمام کیا۔
جماعت نے جنرل ضیا کے اسلامائزیشن کے ایجنڈے کی بھی حمایت کی اور ان کی کابینہ میں تین وزارتوں پر رہی۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اس کا تعلق آج تک واضح نہیں۔
جماعت اسلامی کے سیاسی ارتکا پر اثرات
جماعت اسلامی کے سیاسی نقطہ نظر کے جہاں حامی موجود ہیں وہیں ناقدین بھی کئی پہلووں پر معترض رہے۔
تجزیہ کار وجاہت مسعود نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’جماعت اسلامی کے طرز سیاست کو ہی پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے کسی نہ کسی صورت میں اپنایا ہے۔ جس میں مسلم لیگ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی بھی شامل ہیں۔
’سب جماعتوں نے تنظیموں سطح پر ڈھانچے اسی جماعت کو دیکھتے ہوئے بنائے۔ نظریہ بھی دائیں بازو والا ہی اپنایا گیا، انہیں کی طرح مذہبی پہلو بھی شامل رکھے۔ لیکن جماعت اسلامی سیاسی ارتکا میں اپنا کردار منفی ہونے سے نہیں روک سکی کیونکہ اس خطے کے لوگوں کے مزاج نظریے کی بجائے سیاسی نعروں کے مطابق بدلتے ہیں۔‘
وجاہت مسعود کے بقول: ’جمہوری راستے پر چلتے ہوئے جو لوگوں کی امنگوں کی سیاست میں ترجمانی ہوتی ہے اس میں جماعت اسلامی اپنا کردار ادا نہیں کر سکی۔ یہی وجہ ہے جماعت عوامی توقعات پر پورا نہیں اتری۔‘
’پاکستان کے لوگ مستقل مزاج نہیں ہیں اس لیے کسی خاص نظریے پر مستقل مزاج ہوکر قائم نہیں رہ سکتے۔ اسی لیے جماعت اسلامی کا جتنا بھی سیاسی کردار رہا مگر وہ کبھی اقتدار کے ایوانوں میں اکثریتی حیثیت حاصل نہیں کر پائے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستانی عوام نے مستقل ایک ہی طریقے پر چلنے کی وجہ سے کبھی جماعت اسلامی اس طرح اکثریتی عوامی نمائندہ جماعت کے طور پر نہیں سمجھا جو ان کے مسائل کا حل کر سکے۔‘