پاکستان نے حالیہ کچھ عرصے کے دوران امریکہ، اٹلی، فرانس سمیت دیگر ممالک سے 1100 سے زائد قدیم نوادرات واپس حاصل کیے ہیں، جن میں ہزاروں سال پرانی تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے مجسمے، مٹی کے برتن، سکے، بدھ مت سے وابستہ فن پارے اور گندھارا آرٹ کے نادر نمونے شامل ہیں۔
یہ نوادرات اب اسلام آباد میوزیم میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں، جہاں پاکستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ چین، امریکہ، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے آنے والے غیر ملکی ماہرین اور سیاح بھی ان تاریخی اشیا کو دیکھنے پہنچ رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق ان نوادرات کی واپسی کا عمل کئی برسوں سے جاری تھا اور مختلف ممالک کے انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے ان اشیا کی نشاندہی اور واپسی ممکن ہوئی۔
سبھاش کپور کا کیس اور پاکستان کے نوادرات
پاکستانی وزارت ثقافت سے وابستہ ایک ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک موجود پاکستانی نوادرات کی بازیابی کے سلسلے میں سبھاش کپور کا کیس بھی اہم ہے۔
سبھاش کپور انڈیا سے تعلق رکھنے والا ایک معروف آرٹ ڈیلر اور نوادرات کا کاروبار کرنے والا شخص تھا، جس پر جنوبی ایشیا سے قدیم نوادرات غیر قانونی طریقے سے بیرونِ ملک منتقل کرنے کے الزامات تھے۔
انہیں انڈیا میں گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں عدالت نے انہیں طویل قید کی سزا سنائی۔
پاکستانی حکام کے مطابق امریکہ میں موجود بعض نوادرات کی تحقیقات کے دوران امریکی اداروں نے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا۔
اس کے بعد پاکستان نے قانونی اور سفارتی طریقہ کار مکمل کرتے ہوئے اپنی تاریخی اشیا واپس حاصل کیں۔
ذرائع کے مطابق واپس حاصل کی جانے والی تمام اشیا کسی پاکستانی میوزیم سے چوری نہیں ہوئیں تھیں بلکہ بعض نوادرات ایسی تھیں جو تقسیمِ ہند سے پہلے ہی خطے سے باہر منتقل ہو چکی تھیں، جبکہ کچھ ایسی اشیا بھی تھیں جو طویل عرصے تک بیرونِ ملک نجی کلیکشنز میں موجود رہیں۔
امریکہ سے واپسی
امریکہ کے ساتھ پاکستان نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے تعاون کا باقاعدہ نظام قائم کر رکھا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی املاک کی غیر قانونی تجارت روکنے کے لیے 2023 میں بھی مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
پاکستانی حکام کے مطابق امریکہ میں موجود پاکستانی نوادرات کی نشاندہی کے بعد امریکی اداروں نے پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد قیمتی اشیا واپس پاکستان پہنچیں۔
حکام کے مطابق ان اشیا کی واپسی کے اخراجات بھی پاکستان نے خود برداشت کیے۔
اٹلی، فرانس اور برطانیہ کا تعاون
نوادرات کی واپسی صرف امریکہ تک محدود نہیں رہی۔ پاکستان نے اٹلی، فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعاون کیا ہے۔
ان ممالک کے متعلقہ اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بیرون ملک موجود پاکستانی ثقافتی ورثے کی نشاندہی میں مدد کی، جس کے بعد سفارتی رابطوں اور قانونی کارروائی کے ذریعے انہیں پاکستان واپس لایا گیا۔
پاکستانی وزارت ثقافت کا مؤقف ہے کہ قدیم ثقافتی ورثہ کسی دوسرے ملک کی مارکیٹ میں فروخت یا نجی ملکیت میں رکھنے کے بجائے اسی خطے کے لوگوں کے پاس ہونا چاہیے جہاں سے وہ دریافت ہوا۔
انڈیا کا دعویٰ اور گندھارا آرٹ
ان نوادرات میں گندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والے مجسمے اور دیگر فن پارے بھی شامل ہیں۔
بعض گندھارا فن پاروں پر انڈیا کی جانب سے ملکیت کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ گندھارا تہذیب کا مرکزی خطہ موجودہ پاکستان کے علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا، سوات، پشاور اور ٹیکسلا سے وابستہ رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی لیے پاکستانی حکام انڈین دعووں کو درست نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ان فن پاروں کی اصل تاریخی اور جغرافیائی نسبت پاکستان کے موجودہ علاقوں سے ہے۔
یہ نوادرات کتنے پرانے ہیں؟
اسلام آباد میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی گئی اشیا مختلف ادوار اور تہذیبوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان میں مہرگڑھ کے ہزاروں سال پرانے ٹیراکوٹا مجسمے، وادیٔ سندھ کی تہذیب سے وابستہ اشیا، قدیم سکے، مٹی کے برتن اور گندھارا دور کے بدھ مت سے متعلق مجسمے شامل ہیں۔
بعض اشیا تقریباً ’سات ہزار سال پرانی‘ ہیں، جبکہ گندھارا تہذیب کے کئی فن پارے تقریباً دو ہزار سال پرانے ہیں۔ ان میں بدھا کے مجسمے، بودھی ستوا کے فن پارے، پتھر اور سٹوکو سے بنے مجسمے، قدیم ریلیف اور بدھ مت سے متعلق دیگر فن پارے شامل ہیں۔
گندھارا صرف مجسمے نہیں، ایک تہذیبی رابطہ
ان نوادرات کی نمائش نے ایک مرتبہ پھر گندھارا تہذیب کو عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی فنِ تاریخ کی ماہر ڈاکٹر ایستھر پارک گذشتہ 20 برس سے گندھارا تہذیب پر تحقیق کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق ’گندھارا آرٹ صرف پاکستان کی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ایشیا کی کئی تہذیبوں کے درمیان ایک اہم ثقافتی رابطہ بھی رہا ہے۔ چین، کوریا اور جاپان میں بدھ مت اور اس سے جڑی ثقافتی روایات کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے گندھارا ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ پاکستان کو گندھارا آرٹ اور اس کے تاریخی ورثے کو دنیا بھر میں زیادہ مؤثر انداز میں متعارف کرانا چاہیے۔‘
غیر ملکی سیاحوں کے لیے پاکستان کی ایک مختلف تصویر
اسلام آباد میوزیم میں ان نوادرات کی نمائش کے بعد غیر ملکی محققین اور سیاح بھی ان میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
چین، امریکہ، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے آنے والے افراد ان قدیم فن پاروں کو دیکھنے کے لیے میوزیم کا رخ کر رہے ہیں۔
یہ نوادرات پاکستان کے بارے میں ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو عام سیاسی اور سکیورٹی خبروں سے مختلف ہے۔
ایک طرف پاکستان آج کے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی مسائل سے دوچار ہے، لیکن دوسری طرف اسی سرزمین پر ہزاروں سال پہلے ایسی تہذیبیں موجود تھیں جن کے فن، مذہب اور ثقافت کے اثرات آج بھی ایشیا کے مختلف ممالک میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
گندھارا کے ذریعے پاکستان اپنے قدیم ورثے کو ثقافتی سفارت کاری، سیاحت اور تحقیق کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
1100 سے زائد نوادرات کی بیرون ملک سے واپسی محض قدیم اشیا کی واپسی نہیں، بلکہ پاکستان کی اپنی تاریخ کا ایک حصہ دوبارہ اپنے گھر لانے کی کوشش ہے۔