بازار میں کتابوں کی دکانوں کی تعداد سمٹ کر محض دو رہ گئی ہے۔ ان کی جگہ کبابوں، بریانی اور دوسرے پکوانوں کی دکانیں لے چکی ہیں۔
حیدرآباد کے نظام میر عثمان خان نے پہلی مرتبہ جوزی حلوے کا ذائقہ چکھا تو اس کے دیوانے ہو گئے اور یہ میٹھا محل کے شاہی دسترخوان کا اہم حصہ بنا دیا گیا۔