دیر میں پختون ثقافت کے ’گم گشتہ دور‘ سے متعلق عجائب گھر

عجائب گھر میں 300 سے زیادہ نوادرات موجود ہیں جن میں گھریلوں اشیا، سامان حرب اور بوض دوسری نادر اشیا بھی شامل ہیں۔

لوہے کی چادروں سے بنی چھت، جسے لکڑی کے شہتیروں نے سہارا دے رکھا ہے، کے نیچے کیٹل ڈرم اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی چمڑے کے مشکیں رکھی ہیں۔ ان کے ساتھ چیزوں کو کوٹنے والے پتھر، نوادرات میں شامل ریڈیو ٹیلی فون سیٹ اور تلواریں اور بندوقیں سجائی گئی ہیں۔

یہ منظر پاکستان کے شمال مغربی ضلع دیر میں عنایت یوسفزئی کے غیر رسمی عجائب گھر کا ہے، جہاں 2014 میں 40 سالہ شہری نے پشتو زبان کے ’قامی ورثے‘ کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد پشتون ثقافت کے ’گم گشتہ دور‘ سے تعلق رکھنے والے نوادرات کو جمع کرنا ہے۔

مانا جاتا ہے کہ پشتون کے نام سے جانا جانے والا نسلی گروہ قندھار اور کوہ سلیمان کے ارد گرد کے علاقے سے آیا، جو کسی حد تک اراکوشیا کے قدیم علاقے کے ارد گرد کا علاقہ ہے۔ یہ نسلی گروہ 13ویں اور 16ویں صدی کے درمیان وہاں سے جدید دور کے افغانستان کے ملحقہ علاقوں اور زیادہ تر پاکستان کے شمال مغرب تک پھیل گیا۔

عنایت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی ثقافت سے جذباتی لگاؤ ہے جس کی وجہ سے انہوں نے دیر کے گاؤں منڈیش میں اپنے گھر کے سامنے دو کنال آبائی زمین پر قومی ورثہ میوزیم قائم کیا۔

میوزیم کے قیام کی دوسری وجہ 2000 کی دہائی میں پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں عسکریت پسندی کے باعث پشتون ثقافت کو پہنچنے والے نقصانات کا اثر زائل کرنا ہے۔

اس میوزیم میں کم از کم 300 نوادرات موجود ہیں، جہاں عنایت یوسفزئی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’2007 سے 2010 تک پورے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر نے جنم لیا جس نے اس علاقے کی ثقافتی زنجیر کو توڑ دیا اور ہماری ثقافت دن بدن مٹتی چلی گئی۔‘

اس موقعے پر عنایت یوسفزئی کے دوست، پشتو شاعر، ادیب اور محقق سعید احمد ساحل نے کہا کہ ’لہٰذا میں نے اور یوسفزئی نے سوچا کہ ان اشیا کو کیسے محفوظ کیا جائے تا کہ وہ آنے والی نسلوں سے محفوظ رہ سکیں۔‘

ساحل میوزیم میں آنے والے لوگوں کو تاریخ اور قامی ورثہ میں رکھی گئی اشیا کے بارے میں بتاتے ہیں۔

عنایت یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے یہ روایتی اشیا رکھنے میں دلچسپی ہے تا کہ آنے والی نسلیں اپنے آبا و اجداد کی ثقافت اور زندگیوں کے بارے میں جان سکیں۔‘

عنایت یوسفزئی کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ انہیں ثقافتی اہمیت کی حامل اشیا تلاش کرنے اور جمع کرنے کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑا اور ان کی خریداری پر رقم بھی خرچ کرنا پڑی۔

ان نوادرات کو قامی ورثہ میں محفوظ رکھنا عنایت یوسفزئی کے لیے ایک اضافی چیلنج رہا ہے۔

عنایت یوسفزئی کے بقول: ’سامان کو محفوط رکھنا مشکل کام ہے کیوں کہ چور اکثر انہیں چرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے پہاڑی تودے نے عجائب گھر کو تباہ کر دیا اور انہیں اسے دوبارہ تعمیر کرنا پڑا۔‘

احمد ساحل کا کہنا تھا کہ زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ خاص طور پر طلبہ میوزیم میں آتے ہیں۔

’ہم انہیں ان چیزوں کی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ہم انہیں ان اشیا کے استعمال کے بارے میں بتاتے ہیں اور وہ ایسی چیزوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔‘

ساحل کا کہنا تھا کہ ان کے میوزیم میں موجود بعض نوادرات ڈھائی سو سال قدیم اور قومی اہمیت کے حامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس وہ ٹیلی فون ہے جو سابق سینیٹر اور قائد اعظم محمد علی جناح کے قریبی دوست بہرہ ور سعید کو 1947 میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے تحفے میں دیا تھا۔‘

احمد ساحل نے مزید بتایا کہ برصغیر کی تقسیم سے پہلے اور بعد میں مقامی قبائلیوں کی طرف سے مختلف لڑائیوں میں استعمال ہونے والی پرانی بندوقیں اور تلواریں بھی عجائب گھر میں رکھی گئی ہیں۔

’یہاں آپ مختلف قسم کی رائفلیں دیکھتے ہیں جو 1895 اور 1897-98 میں انگریزوں کے خلاف مختلف لڑائیوں میں استعمال ہوئیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان