بی بی سی کو ٹرمپ کے آگے ڈٹ جانا چاہیے

امریکی صدر کی بی بی سی پر مقدمے کی دھمکی ان کے حمایتیوں کو تو خوش کر سکتی ہے، مگر قانونی طور پر اس میں جان نہیں۔ دیکھنا یہ ہے ادارہ اس دھمکی کا جواب کیسے دیتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ چھ جولائی، 2025 کو نیو جرسی کے شہر مورس ٹاؤن کے میونسپل ایئرپورٹ پر ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

بطور وکیل میں نے بڑے بڑے دعوے دیکھے ہیں، مگر ان سب کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنی چھ جنوری والی تقریر کی ایڈیٹڈ نشریات کی بنیاد پر بی بی سی پر ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ کرنے کا اعلان ایک غیر معمولی اور خطرناک قانونی مہم جوئی ہے۔

میرے خیال میں یہ انصاف کی لڑائی سے کم اور ایک پبلک ریلیشنز چال زیادہ لگتی ہے جو ٹرمپ پر الٹی پڑ سکتی ہے۔

ٹرمپ اور بی بی سی کے خلاف کسی بھی ممکنہ کامیابی کے درمیان کئی قانونی رکاوٹیں موجود ہیں۔

سب سے پہلے تو برطانیہ میں ہتک عزت کے دعوے کی قانونی مدت ختم ہو چکی ہے: امریکی صدر کے پاس 28 اکتوبر، 2024 کی نشریات کے بعد ایک سال کا وقت تھا، یعنی آخری تاریخ تقریباً دو ہفتے پہلے یعنی 28 اکتوبر، 2025 کو گزر گئی۔

یہ درست ہے کہ فلوریڈا میں دعویٰ دائر کرنے کی مدت ابھی باقی ہے (دو سال)، مگر کامیابی کے امکانات کم ہیں۔

ٹرمپ کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ پینوراما کا وہ حصہ امریکہ نشر ہی نہیں ہوا، اور بی بی سی آئی پلیئر بھی وہاں دستیاب نہیں، اس لیے وہاں کوئی اسے کیچ اپ پر دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔

اس سے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا امریکی عدالتیں ایسے دعوے کو قابل سماعت سمجھ بھی سکیں گی؟

یہ تکنیکی اعتراض ایک طرف بھی رکھ دیں تو بھی اگر مقدمہ کبھی چلا تو ثبوت اور قانون کے جو بڑے بڑے پہاڑ ٹرمپ کے سامنے آئیں گے وہ کم نہیں۔

ٹرمپ کے وکلا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بی بی سی کے یہ دستاویزی پروگرام نشر کرنے سے پہلے ہی چھ جنوری کے حوالے سے ٹرمپ کی ساکھ تو بری طرح متاثر تھی۔

بی بی سی نے صدر کے نعرے 'fight like hell' کو، جس کا حوالہ انتخابی نتائج سے قانونی لڑائی کے تناظر میں تھا، تقریر کے ایک اور حصے کے ساتھ جوڑ دیا، جو تقریباً ایک گھنٹہ پہلے کہا گیا جملہ تھا کہ وہ اپنے حامیوں کے ساتھ پرامن طور پر کیپیٹل تک چل کر جائیں گے 'to peacefully and patriotically make your voices heard'۔

یہ واضح نہیں کہ پروڈکشن ٹیم نے دو حصوں کو ملانے کا فیصلہ کیوں کیا اور یہ بات ناظرین یا خود بی بی سی کی ایڈیٹوریل ٹیم کو بھی نمایاں طور پر کیوں نہیں بتائی گئی۔

مگر عدالتی فیصلے، کانگریسی سماعتیں اور عالمی میڈیا کی کوریج مدتوں سے یہ بات طے کر چکی ہے کہ اس دن کے واقعات میں ٹرمپ کا مرکزی کردار تھا۔

جب چھ جنوری کے فسادات کی بات آتی ہے تو کیا واقعی ان کے پاس کوئی ایسی ساکھ بچی ہے جسے سنبھالا جا سکے؟

ہتک عزت میں ایک کلیدی سوال یہ ہوتا ہے کہ الزام میں منسوب معنی کس حد تک سچ کے قریب ہیں۔ اگر دعوے کا لب لباب سچ پر مبنی ہو تو ہتک نہیں بنتی۔

دوسرے لفظوں میں، اگر بنیادی بات، کہ ہجوم کو اکسانے میں ان کا مرکزی کردار تھا، پہلے ہی وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ تھی، تو بی بی سی نے انہیں معقول لوگوں کی نظر میں اور نیچا کیسے دکھا دیا؟

متعدد عدالتی مشاہدات اور سرکاری رپورٹوں نے ٹرمپ کی تقریر کو 'plausible incitement' اور چھ جنوری کے حملے کا 'central cause' قرار دیا ہے۔

ڈی سی سرکٹ کورٹ یہ قرار دے چکی ہے کہ فسادات کے متاثرین ان پر تشدد پر اکسانے کا دیوانی دعویٰ کر سکتے ہیں۔ نو مختلف وفاقی جج ان کی تقریر کو بغاوت سے جوڑ چکے ہیں۔

ان پر بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مواخذہ بھی ہوا تھا، اور وہ فوجداری اشتعال کے لیے معروف 'Brandenburg'  معیار کے نہایت قریب آ گئے تھے۔

ٹرمپ کے وکلا کو عدالت کو یہ بھی باور کرانا ہو گا کہ ایک ایسا پروگرام جو فلوریڈا میں نشر ہی نہیں ہوا، اس نے کسی طرح فلوریڈا کے لوگوں کی ان کے بارے میں رائے بدل دی۔

جب ابتدائی ساکھ ہی شدید متاثر ہو تو یہ دلیل دینا انتہائی مشکل ہے۔

مزید یہ کہ ہتک عزت کا مقدمہ ان کی چھ جنوری کی پوری حرکات و سکنات کو عدالت کی باریک بین عینک کے نیچے لے آئے گا۔

پوری تقریر، صرف ایڈیٹڈ ورژن نہیں، چلائی جائے گی، ان عدالتی آرا کے ساتھ جن میں ان کے الفاظ کو اشتعال کہا گیا ہے۔

یہ صدر کی پی آر کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے کیوں کہ اس دن کی ہر ناگوار تفصیل پھر سے زندہ ہو جائے گی اور شہریوں کو صدر کے کردار کی یاد دہانی کرائے گی۔

پھر آتا ہے مقدمہ بازی کا خطرہ۔ اگر ٹرمپ میرے مؤکل ہوتے تو میں ان سے کہتا کہ یہ وہ پہاڑی نہیں جس پر لڑ کر مرنا چاہیے، یہ تو ایک قانونی کھائی کے کنارے کھڑے ہونے کی مانند ہے۔

جی ہاں، وہ کچھ حلقوں میں بی بی سی کو 'fake news' قرار دے کر تاثر بنا چکے ہیں، مگر عدالت میں یہی بیانیہ لے جانا انہیں شرم ناک شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔

انصاف کی بات کریں تو اگر بی بی سی نے ان کے الفاظ کو اس انداز سے ایڈٹ کیا جس سے ایسا ارادہ جھلکتا ہو جو ان کے پاس نہیں تھا، تو انہیں سرزنش یا معذرت کا حق محسوس ہو سکتا ہے۔

مگر اربوں ڈالر کا ہتک عزت دعویٰ؟ یہ کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اور ٹرمپ کے پاس اب ویسی اجارہ داری بھی نہیں جیسی کبھی تھی۔

سی بی ایس جیسے اداروں کے برعکس، جنہیں کبھی کبھی امریکی حکومتی اجازتوں کی ضرورت رہی ہے، بی بی سی کو ان سے ریگولیٹری منظوری نہیں چاہیے۔

وہ بی بی سی کے رپورٹرز کی وائٹ ہاؤس پریس رسائی روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں، مگر یہ چال پہلے بھی ناکام رہ چکی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس ایسی کوشش کو عدالت میں کامیابی سے چیلنج کر چکی ہے۔

آخرکار یہ معاملہ قانونی بنیاد سے کم اور سیاسی تھیئٹر سے زیادہ متعلق ہے۔ ٹرمپ کی ٹیم شاید انہیں ’ٹرمپ مخالف‘ میڈیا سازش کا شکار بنا کر اپنے حامیوں میں غیظ و غضب بھڑکانے کی امید رکھتی ہو۔

مگر قانون میں ہتک عزت کا سوال محض ظلم کا نہیں، بلکہ ایسی غلط بیانی کا ہوتا ہے جو واقعی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ٹرمپ کو ایک اور بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے: وہ انتہائی نمایاں عوامی شخصیت ہیں، اور وہاں قانون 'actual malice' کا ثبوت مانگتا ہے کہ بی بی سی نے جان بوجھ کر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ کوئی سنجیدہ مبصر ایسا نہیں کہہ رہا۔

اس پر مستزاد، ہرجانے کے فرق پر نظر ڈالیں: برطانیہ میں ہتک عزت کا زیادہ سے زیادہ ہرجانہ تقریباً ڈھائی لاکھ پاؤنڈ کے آس پاس ہے، جب کہ ٹرمپ ایک ارب ڈالر مانگ رہے ہیں۔

اور چونکہ پروگرام نشر ہونے کے بعد وہ صدر منتخب ہوئے اور بڑی کمائی بھی کی، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ انہیں حقیقی مالی نقصان ہوا۔

بی بی سی سے الجھ کر ٹرمپ نے اپنی بساط سے بڑا نوالہ نگل لیا ہے۔ لیکن بی بی سی کو پھر بھی احتیاط سے چلنا چاہیے۔

یہ کہنے کو تو آسان ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے قانونی تلوار لہرانے کو ہوا کا جھونکا سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے، مگر یہی لڑائی کی وہ قسم ہے جو ایک باعزت نشریاتی ادارے پر کیچڑ اچھال سکتی ہے۔

بعض اوقات سمجھ داری اسی میں ہوتی ہے کہ آپ بحث جیتنے کے بجائے خاموشی سے ایک طرف ہو جائیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ