چین میں ایک 10 سالہ بچہ اس وقت عدالت پہنچ گیا جب اس کے والد نے نئے قمری نئے سال کے موقعے پر اسے تحفے میں ملنے والے تقریباً 80,000 یوان (32 لاکھ 71 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) کی رقم اپنی دوسری شادی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کر لی۔
بچے نے اپنے والد کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ انہوں نے اس کے نئے سال کے ’سرخ لفافے‘ کی رقم ذاتی اخراجات کے لیے خرچ کی، جس پر اس کیس نے عوامی توجہ حاصل کی اور سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔ ایک چینی عدالت نے اب اس شخص کو حکم دیا ہے کہ وہ رقم واپس کرے۔
بچے کی یہ رقم ایک بینک اکاؤنٹ میں جمع تھی جس کا انتظام اس کے طلاق یافتہ والد کے ہاتھ میں تھا اور وہ اس وقت صوبہ ہینان کے شہر ژینگژو میں انہی کے ساتھ رہ رہا تھا۔
والد کی دوبارہ شادی کے بعد جب بچہ اپنی والدہ کے ساتھ رہنے لگا تو انہیں معلوم ہوا کہ اس شخص نے اکاؤنٹ خالی کر دیا ہے، جس میں جمع شدہ سود بھی شامل تھا۔
بعد میں والدہ کو پتہ چلا کہ پوری 82,750 یوان کی رقم اس شخص کی شادی کے اخراجات پورے کرنے میں استعمال کی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بچے اور اس کی والدہ کی جانب سے رقم واپس لینے کی بار بار کوششیں ناکام رہیں کیونکہ والد کا مؤقف تھا کہ یہ تحفے کی رقم برسوں کے دوران اس کے رشتہ داروں اور دوستوں نے دی تھی۔ اس نے کہا کہ وہ بچے کے بالغ ہونے پر رقم واپس کر دے گا۔
والد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بچے کی والدہ مالی فائدے کے لیے اسے اکسا رہی ہیں۔
بالآخر بچے نے رقم کی واپسی کے لیے اپنے والد کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ چین کے دیوانی قانون کے تحت نابالغوں کو دی گئی مالی رقوم منتقلی کے بعد ان کی ذاتی ملکیت شمار ہوتی ہیں اور والدین بطور قانونی سرپرست صرف بچے کے اثاثوں کے منتظم ہوتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ سرپرست اس رقم کو صرف اسی صورت استعمال کر سکتا ہے جب وہ براہِ راست بچے کے مفاد میں ہو، مثلاً تعلیم یا علاج کے لیے۔ سرپرست کی ذاتی ضروریات کے لیے رقم استعمال کرنا بچے کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
چین میں قمری نئے سال پر روایتی طور پر ’لکی منی‘ سرخ لفافوں میں بچوں اور بزرگوں کو خوش بختی اور دعاؤں کے لیے دی جاتی ہے۔ برسوں سے خاندانوں کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ آیا والدین یہ رقم بچوں کے لیے محفوظ رکھیں یا اسے استعمال کریں۔
© The Independent