پاکستان کی وزارت خارجہ نے پیر کو بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عراقچی نے خطے میں حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جن میں لبنان میں اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور بیروت کے بعض علاقوں پر ممکنہ حملوں سے متعلق اسرائیلی حکومت کے احکامات شامل ہیں۔
’عباس عراقچی نے علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان سے درخواست کی کہ وہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوششوں میں سہولت کاری کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے۔‘
بیان کے مطابق ’اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کو ہر صورت برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ موجودہ مفاہمت اور سمجھوتوں کو نقصان پہنچنے سے روکا جا سکے۔‘
دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی نے پیر کو کہا کہ اگر لبنان میں اسرائیلی حملے جاری رہے تو اپریل کے اوائل میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے ختم ہونے کا قوی امکان ہے۔
اس سے قبل ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے اپنی فوج کو لبنان میں مزید پیش قدمی کا حکم دینے کے بعد تہران نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات معطل کر دیے۔
ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی گئی جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی کے ایک رپورٹر سے گفتگو میں کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کیے جانے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس معاملے پر بہت زیادہ عوامی بیانات دیے جا چکے ہیں اور ’میرے خیال میں خاموشی اختیار کرنا بہتر ہوگا۔‘
تسنیم کی رپورٹ کے مطابق ایران کی مذاکراتی ٹیم نے لبنان پر حملوں کے باعث ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ پیش رفت بحران کے جلد خاتمے کی امیدوں کے لیے ایک اور رکاوٹ بن گئی ہے، خاص طور پر جب ایران نے کہا کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
ہفتے کو امریکہ نے ایران کے فوجی اہداف پر حملے کیے تھے، جس سے پہلے ہی نازک جنگ بندی مزید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
تسنیم کی رپورٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں چھ ڈالر فی بیرل سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
لبنان میں اسرائیلی حملے
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے پیر کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں، جو حزب اللہ کے زیر اثر سمجھے جاتے ہیں، پر حملوں کا حکم دیا۔
اس کے نتیجے میں ایک بار پھر لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہو گئی جبکہ اس تنازعے کے باعث لبنان میں پہلے ہی 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے بھی لبنان کی موجودہ صورتحال کو ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا ’ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
’امریکہ اور اسرائیل کسی بھی خلاف ورزی کے نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔‘