یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے پیر کو پاکستان کے اس کردار کو سراہا جو اس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی سفارتی کوششوں نے کئی مواقع پر صورتحال کو ’مکمل جنگ‘ میں تبدیل ہونے سے روکا اور ان اقدامات کو پورے یورپ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
کالاس نے یہ گفتگو اسلام آباد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کی۔
کالاس پیر کو اسلام آباد پہنچیں تاکہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھویں سٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کر سکیں۔
اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، انسانی حقوق، افرادی قوت کی نقل و حرکت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کا جائزہ لیا گیا۔
فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے شروع ہونے کے بعد سے پاکستان نے خود کو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر منوایا ہے۔
اسلام آباد نے اپریل میں دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل بھی جاری رکھی۔
اس جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کالاس نے کہا ’پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور آپ کی سفارتی کوششوں نے کئی مواقع پر صورتحال کو دوبارہ مکمل جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ان کوششوں کو پورے یورپ میں بہت زیادہ سراہا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘
فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے عملاً آبنائے ہرمز میں آمدورفت محدود کر دی، جس کے باعث پیٹرولیم مصنوعات اور کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل گزرتی ہے۔
کالاس نے کہا پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان نازک جنگ بندی کو توسیع دینے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ’نازک سفارتی موقع‘ پیدا ہوا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 met with the EU HR/VP Ms. Kaja Kallas @kajakallas, today in Islamabad.During the meeting, both sides acknowledged the positive trajectory of Pakistan-EU ties and agreed to further strengthen the… pic.twitter.com/xJAVuE3MG0— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) June 1, 2026
انہوں نے کہا ’تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی عارضی مفاہمت کے بعد ایران کے جوہری ذخائر اور دیگر اہم معاملات پر مزید گہرے مذاکرات ناگزیر ہوں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’پائیدار استحکام کے لیے زیادہ جامع اور ہمہ گیر حل درکار ہوں گے۔‘
اس موقعے پر اسحاق ڈار نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اعتراف پر کالاس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے جامع اور دیرپا حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں فریقوں نے پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان 2019 کے تحت مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، ترقیاتی تعاون، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، ہجرت و نقل و حرکت، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی شامل ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ ڈائیلاگ ہر سال منعقد ہوتا ہے اور اس کا آخری اجلاس نومبر 2025 میں اسلام آباد میں ہوا تھا۔
اسحاق ڈار نے کہا ’یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور دونوں کے درمیان تجارتی حجم تقریباً 12 ارب ڈالر ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ماڈل ہے۔‘
جی ایس پی پلس سکیم کے تحت مستفید ممالک کو یورپی منڈی تک ڈیوٹی فری رسائی دی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ انسانی و شہری حقوق سمیت 27 بنیادی بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کے لیے رضاکارانہ طور پر اتفاق کریں۔
یورپی یونین کی سفارتی سروس (ای ای اے ایس) نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران کالاس، صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کریں گی۔
وہ اپنے دورے کے دوران پاکستان میں تھنک ٹینکس اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گی۔