ایران نے پیر کے روز کہا کہ اس نے یورپی یونین کے تمام سفیروں کو طلب کر کے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دینے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکی نے امریکہ کے خصوصی نمائندے سٹیو وِٹکوف اور ایرانی حکام کے درمیان ملاقات کے لیے کوششیں شروع کی ہیں تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔
ترک حکام کے مطابق اس سلسلے میں بات چیت کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیا ہے۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طاقت کے استعمال کا فیصلہ کریں گے یا نہیں، کیونکہ خطے کے ممالک سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ادھر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ ایک معاہدے کے امکانات پر پرامید ہیں جبکہ تہران نے بھی زور دیا کہ وہ سفارتکاری چاہتا ہے اور کسی بھی جارحیت کے جواب میں غیر محدود ردعمل دینے کا عندیہ دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران نے کہا کہ وہ مذاکرات کے طریقہ کار اور فریم ورک پر کام کر رہا ہے جو آنے والے دنوں میں تیار ہو جائے گا، اور دونوں طرف کے پیغامات خطے کے دیگر ممالک کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’چند نکات پر بات ہو چکی ہے اور ہم ہر مرحلے کی تفصیلات کا جائزہ لے کر حتمی شکل دے رہے ہیں، جسے ہم آنے والے دنوں میں مکمل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔‘
تاہم انہوں نے بھی مذاکرات کی نوعیت کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
ٹرمپ اور جوہری پروگرام
اس سے قبل ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے لیے اس کے جوہری پروگرام پر معاہدہ کرنے کا وقت ختم ہو رہا ہے کیوں کہ مغرب کا ماننا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
علاقائی فریقین نے بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری کی کوششیں کی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پچھلے ہفتے ترکی میں تھے اور مصر، سعودی عرب اور ترکی کے ہم منصبوں سے مزید رابطے کیے۔
عراقچی نے سی این این کو اس حوالے سے بتایا: ’صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں، اور ہم اس سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت اچھا معاہدہ ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’یقیناً اس کے بدلے میں ہم پابندیوں کے خاتمے کی توقع رکھتے ہیں، اس لیے یہ معاہدہ ممکن ہے۔ ناممکن چیزوں کی بات نہ کریں۔‘