’ایک اور خوبصورت بحری بیڑا اس وقت خوبصورتی سے ایران کی طرف تیر رہا ہے۔‘ امریکی صدر نے یہ اطلاع امریکی ریاست آئیووا میں ایک جلسے کے دوران دی اور حسبِ معمول اپنے سوشل میڈیا میگا فونز کے ذریعے دنیا کو بھی آگاہ کیا۔
جو لوگ ان معاملات پر نظر رکھتے ہیں، انہوں نے نقشے جاری کیے ہیں جن میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی سازوسامان، بالخصوص بحری طاقت، کو خطے کی جانب بڑھتے دکھایا گیا ہے۔
اس کا ممکنہ پیغام یہ ہے کہ ’اے ایرانی رہبر، تیار رہو‘، ایک ہمہ گیر امریکی فوجی حملہ اور تمہاری حکومت کے خاتمے کا امکان۔
ایران کے وزیر خارجہ کی جانب سے اسی شدت کے ساتھ جواب آیا کہ ملک کی مسلح افواج ’انگلیاں ٹریگر پر رکھے ہوئے ہیں۔‘ اس کے ساتھ ہی پورے خطے میں اور امریکہ کے یورپی اتحادیوں میں ایران امریکہ جنگ کے خدشے کے سائرن بجنے لگے۔
اس قدر ڈرامائی اور ممکنہ طور پر عدم استحکام پیدا کرنے والے نتیجے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ ایران کی قیادت کو فوراً ’میز پر آنا ہو گا‘ اور ’ایک منصفانہ اور مساوی معاہدے پر مذاکرات کرنا ہوں گے — کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں۔‘
یعنی ایرانی حکومت وقتی طور پر برقرار رہ سکتی ہے مگر اس کی قیمت یہ ہو گی کہ اس کی پہلے ہی محدود علاقائی طاقت پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔
یہاں کئی نکات اٹھائے جا سکتے ہیں، سب سے واضح یہ کہ ایران کے بین الاقوامی کنٹرول میں نہ آنے کا قصور کم از کم جزوی طور پر، بلکہ بڑی حد تک، خود ٹرمپ پر عائد ہوتا ہے۔
وہی تھے جنہوں نے اپنی پہلی مدت کے دوران اقوامِ متحدہ اور یورپی ممالک کے تحفظات کے باوجود ایران کے جوہری معاہدے، یعنی جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) سے امریکہ کو نکال لیا۔
اس فیصلے کے بعد پابندیاں دوبارہ عائد کی گئیں جنہوں نے بظاہر ایران میں حالیہ احتجاجی لہر کے پیچھے معاشی بے چینی کو جنم دیا۔
ٹرمپ پر یہ الزام بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ایک اور یو ٹرن لے رہے ہیں۔ مظاہرین کو ’بچانے‘ کی پیشکش کرنے کے بعد، جنہیں بے رحمی سے کچل دیا گیا، وہ اب انہی رہنماؤں سے مخاطب ہیں جنہیں مظاہرین ہٹانا چاہتے تھے، تاکہ ایران کو ایک فوجی خطرے کے طور پر غیر مؤثر بنایا جا سکے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر ہے کیا؟ حکومت گرانے کی دھمکی یا ایرانی قیادت کو سہارا دینا؟ اور کیا یہ ایک اور ٹرمپ یو ٹرن نہیں؟
اس کا جواب دینے کے لیے میں دو اصطلاحات پیش کرتی ہوں: ’امریکہ فرسٹ‘ اور ’دی آرٹ آف دی ڈیل‘۔ اس کے بعد دو حالیہ امریکی سرکاری دستاویزات کا مطالعہ ضروری ہے جو ٹرمپ دور کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کے بنیادی اہداف بیان کرتی ہیں۔
ایران کے معاملے میں ہم ایک بار پھر ٹرمپ کا طریقۂ کار دیکھ رہے ہیں۔ یہ وہ انداز ہے جسے ان کے ناقدین ’ٹیکو‘ یعنی ’ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں‘ کہتے ہیں، مگر خود ٹرمپ اس کی تردید کرتے ہوئے ایک لفظ استعمال کرتے ہیں: ’مذاکرات۔‘ ایسے مذاکرات جن کا آغاز اکثر پرانی طرز کی گن بوٹ سفارت کاری سے ہوتا ہے، یعنی طاقت کا مظاہرہ، ڈرانا اور باز رکھنا۔
مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھتے ’بحری بیڑے‘ کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ ایران کو وینزویلا کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ وہاں انہوں نے پہلے مذاکرات کی پیشکش کی، پھر دھمکیاں دیں اور آخرکار صدر اور ان کی اہلیہ کو زبردستی گرفتار کر لیا، جس کے بعد ایک بے سر اور خوف زدہ انتظامیہ واشنگٹن کے لیے زیادہ قابلِ کنٹرول بن گئی۔
اگر اب بھی شک ہو تو یاد رہے کہ ٹرمپ خود فخر سے کہہ چکے ہیں کہ خلیج میں موجود بحری طاقت وینزویلا بھیجے گئے بیڑے سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔
یورپی ممالک کے اس دعوے کے باوجود کہ انہوں نے گرین لینڈ پر ٹرمپ کے دعوے سے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، یہ واضح نہیں کہ طاقت یا نئے محصولات کی دھمکیاں محض مذاکرات کے ابتدائی داؤ نہ تھیں، جیسا کہ گذشتہ برس دنیا بھر پر عائد کیے گئے ٹیرف کے معاملے میں ہوا۔
ٹرمپ کی واحد حقیقی معذرت وہ تھی جو انہوں نے نیٹو کے تحت افغانستان میں خدمات انجام دینے والے برطانوی اور دیگر فوجیوں کے بارے میں ’توہین آمیز‘ بیان کے بعد کی، جب بعد میں انہوں نے برطانوی فوجیوں کو ’بہادر سپاہی‘ کہا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عمومی طور پر ٹرمپ ایسے فوجی آپریشنز سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں، جن میں زمینی افواج کی تعیناتی، طویل المدتی وابستگی اور غیر یقینی نتائج شامل ہوں۔ ان کی دوسری مدت میں فوجی طاقت کا استعمال محدود اور ناپ تول کے ساتھ کیا گیا ہے۔ وینزویلا میں بھی حکومت نہیں گرائی گئی بلکہ صرف اس کا سر قلم کیا گیا۔
ایران کی طرح وینزویلا میں بھی ٹرمپ نے کسی جلاوطن اپوزیشن رہنما کو اقتدار میں لانے سے انکار کیا، یہ کہہ کر کہ نہ ماریا کورینا ماچادو اور نہ ہی ایران کے ولی عہد رضا پہلوی کے پاس عوامی حمایت کا واضح ثبوت ہے۔ اگر یہ سبق افغانستان، عراق اور لیبیا سے سیکھا گیا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے۔
ٹرمپ کے پہلے دور میں کہا جاتا تھا کہ ان کے الفاظ کو سنجیدگی سے لیا جائے مگر لفظی طور پر نہیں۔ شاید یہ کہنا بہتر ہو کہ وہ بات تو انتہائی انداز میں کرتے ہیں مگر عمل میں حقیقت پسندی اختیار کرتے ہیں۔
ایران، وینزویلا، ٹیرف، گرین لینڈ اور اب یوکرین، ہر جگہ دھمکیاں قابلِ یقین رکھی جاتی ہیں اور نتائج امریکہ کے مفاد میں دکھائے جاتے ہیں۔
چین کے بارے میں ٹرمپ کا مؤقف بھی ماضی کے مقابلے میں کم جارحانہ ہے۔ امریکی نیشنل ڈیفنس سٹریٹیجی کے مطابق چین سے ’تصادم نہیں بلکہ طاقت‘ کے ذریعے نمٹا جائے گا اور امریکہ چین کو ’ذلیل یا گھونٹنے‘ کا خواہاں نہیں بلکہ ایک ایسا امن چاہتا ہے جو امریکیوں کے لیے موزوں ہو اور جسے چین بھی قبول کر سکے۔
ان تمام نکات کو یکجا کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ طاقت کے تعلقات فیصلہ کن ہیں اور ٹرمپ کے نزدیک امریکی مفادات سب سے مقدم ہیں۔
یہ مفادات بدل بھی سکتے ہیں، جیسا کہ ایران کے معاملے میں ہوا، جہاں حکومت نے فی الحال اقتدار میں رہنے کی صلاحیت دکھائی۔ ایسے فیصلے یو ٹرن نہیں بلکہ ٹرمپ طرزِ حقیقت پسندی کی عکاسی ہیں، جس کا مستقل اصول ایک ہی ہے: امریکہ سب سے پہلے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
© The Independent