ترکی کی ثالثی کی کوششیں تیز، ایران پر امریکی حملے کا خطرہ ٹل گیا؟

تہران اور واشنگٹن کے درمیان دھمکیوں کا تبادلہ اس وقت سے جاری تھا جب ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کے خلاف ہونے والے خونی کریک ڈاؤن پر فوجی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔

ایک ایرانی خاتون 27 جنوری 2026 کو تہران کے فلسطین سکوائر میں ایک عمارت پر آویزاں امریکہ اور اسرائیل مخالف بینر کے سامنے سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی)

ایران کے وزیر خارجہ جمعے کو ترکی پہنچے جہاں انقرہ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کی دھمکیوں میں نرمی کے بعد سامنے آئی ہے۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان دھمکیوں کا تبادلہ اس وقت سے جاری تھا جب ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کے خلاف ہونے والے خونی کریک ڈاؤن پر فوجی کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔ یہ مظاہرے دسمبر کے آخر میں معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہوئے تھے اور آٹھ اور نو جنوری کو شدت اختیار کر گئے تھے۔

امریکہ کی جانب سے خطے میں بحری بیڑہ بھیجنے کے بعد دباؤ بڑھ گیا تھا اور ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ تہران کے پاس ’وقت کم رہ گیا ہے‘۔ وہ ایران پر اس کے جوہری پروگرام پر معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے، جس کے بارے میں مغرب کا خیال ہے کہ اس کا مقصد ایٹم بم بنانا ہے۔

تاہم امریکی صدر نے جمعرات کو دیر گئے صورتحال کی شدت کم کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوجی کارروائی سے بچنے کی امید رکھتے ہیں اور ایران کے ساتھ مذاکرات کا امکان موجود ہے۔ اپنی اہلیہ میلانیا کے بارے میں ایک دستاویزی فلم کے پریمیئر کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’ہمارا ایک گروپ ایران نامی جگہ کی طرف جا رہا ہے، اور امید ہے کہ ہمیں اسے (فوجی طاقت کو) استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔‘

اس کشیدگی نے علاقائی فریقین اور حریف ممالک کے اتحادیوں کی جانب سے سفارت کاری کے مطالبات کو جنم دیا۔ ایران کے پڑوسی ملک ترکی نے جمعے کو سفارتی محاذ سنبھالتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی۔

صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان کو ایک کال میں بتایا کہ ترکی ’کشیدگی کم کرنے اور مسائل حل کرنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے‘۔ دوسری جانب ایرانی صدر کے دفتر کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ سفارت کاری کی کامیابی کا انحصار ’فریقین کی نیک نیتی اور خطے میں جارحانہ اور دھمکی آمیز اقدامات کے خاتمے‘ پر ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق یہ ٹیلی فونک رابطہ اس وقت ہوا جب تہران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات اور صدر اردوغان سے ملاقات کے لیے استنبول پہنچے تھے۔

فوری ’جوابی اقدامات‘

خلیجی ریاستوں نے، جن میں سے بعض امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرتی ہیں، بھی پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے، جبکہ تہران کے اتحادی روس نے مذاکرات پر زور دیا ہے۔

امریکی اتحادی یورپی یونین نے بھی فوجی کارروائی کی مخالفت کی لیکن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر تہران کے لیے مذمتی پیغام بھیجا۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد مارے گئے ہیں، جس پر یورپی یونین نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران نے اس اقدام پر فوری ردعمل ظاہر کیا۔ عباس عراقچی نے اسے ’غلطی‘ قرار دیا جبکہ فوج نے اسے ’غیر ذمہ دارانہ اور تعصب پر مبنی‘ کہا۔ جمعے کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر علی شمخانی نے ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا کہ اس نامزدگی کے جواب میں ’فوری جوابی اقدامات کیے جائیں گے‘۔

انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ پر مغرب پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’امریکی اور یورپی بیانیے میں دہشت گردی کے معنی بدل چکے ہیں‘۔ یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا تھا، ’جو حکومت اپنے ہی لوگوں کے مظاہروں کو خون میں ڈبو دیتی ہے اسے واقعی دہشت گرد ہی کہا جاتا ہے۔‘

انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کا خیرمقدم کیا، جس کے بارے میں کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس نے مظاہروں کو کچلنے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔

امریکہ میں قائم ’ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی‘ (HRANA) نے کہا کہ اس نے مظاہروں میں 6,479 افراد کی اموات کی تصدیق کی ہے، جن میں 6,092 مظاہرین اور 118 بچے شامل ہیں۔

آٹھ جنوری کو لگائی گئی انٹرنیٹ پابندیاں ملک کے اندر معلومات تک رسائی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے، اور اندازوں کے مطابق یہ دسیوں ہزار میں ہو سکتی ہے۔

ایرانی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران ہزاروں لوگ مارے گئے (تین ہزار سے زائد اموات کا اعتراف)، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اکثریت سکیورٹی فورسز کے ارکان کی تھی یا پھر وہ راہ گیر تھے جو ’شرپسندوں‘ کے ہاتھوں مارے گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا