امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ہے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے بچا جا سکتا ہے، جبکہ تہران نے کسی بھی حملے کے جواب میں امریکی اڈوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور انہوں نے فوجی کارروائی سے بچنے کا امکان کھلا رکھا ہے، حالانکہ اس سے پہلے انہوں نے خبردار کیا تھا کہ تہران کے لیے وقت ’ختم ہو رہا ہے‘ اور امریکہ خطے میں ایک بڑا بحری بیڑا بھیج رہا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے ساتھ بات چیت کریں گے؟ تو ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا: ’میں بات کر چکا ہوں اور میں اس کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔‘
امریکی صدر نے اپنی اہلیہ میلانیا کے بارے میں ایک دستاویزی فلم کے پریمیئر کے موقعے پر میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا: ’ہمارا ایک گروپ ایران نامی جگہ کی طرف جا رہا ہے اور امید ہے کہ ہمیں اسے استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب واشنگٹن نے اپنے بیانات میں سختی پیدا کی ہے اور ایران نے بھی اس ہفتے سخت دھمکیاں دی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش نے ایٹمی مذاکرات پر زور دیا ہے تاکہ ’ایسے بحران سے بچا جا سکے، جس کے خطے میں تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔‘
ایک ایرانی فوجی ترجمان نے خبردار کیا کہ کسی بھی امریکی کارروائی پر تہران کا ردعمل محدود نہیں ہو گا۔ جیسا کہ گذشتہ سال جون میں تھا جب امریکی طیارے اور میزائل مختصر طور پر ایران کے خلاف اسرائیل کی مختصر فضائی جنگ میں شامل ہوئے تھے۔ بلکہ یہ ایک فیصلہ کن جواب ہو گا ’جو فوراً دیا جائے گا۔‘
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں میں ’سنجیدہ کمزوریاں‘ ہیں اور خلیجی خطے میں متعدد امریکی اڈے ’ہمارے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی زد میں ہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’اگر امریکیوں نے ایسا کوئی غلط اندازہ لگایا، تو یقیناً حالات کا رخ ویسا نہیں ہو گا، جیسا ٹرمپ تصور کرتے ہیں کہ ایک تیز رفتار آپریشن کیا اور پھر دو گھنٹے بعد ٹویٹ کر دی کہ آپریشن ختم ہو گیا ہے۔‘
خلیج میں، جہاں مختلف ممالک میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کے خدشات ’بہت واضح‘ ہیں۔
عہدے دار نے مزید کہا: ’یہ خطے کو افراتفری میں دھکیل دے گا، اس سے نہ صرف خطے میں بلکہ امریکہ میں بھی معیشت کو نقصان پہنچے گا اور تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔‘
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو میں بدلتی ہوئی علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پائیدار مذاکرات اور سفارتی تبادلہ خیال کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق: ’پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے دائرہ کار میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دو طرفہ ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے اعلیٰ سطح کے روابط اور مشاورت کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘
دوسری جانب قطر نیوز ایجنسی (کیو این اے) نے رپورٹ کیا کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ’خطے میں عالمی سطح پر تازہ ترین صورت حال، خاص طور پر موجودہ حالات، کشیدگی کم کرنے اور استحکام قائم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں‘ پر تبادلہ خیال کے لیے فون پر رابطہ کیا۔
ادھر روس نے جمعرات کو کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے فوجی حملوں کی دھمکی کے بعد، اس کے اتحادی تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں مذاکرات کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا، ’یہ واضح ہے کہ مذاکرات کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا۔‘
انہوں نے ’تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور طاقت کے استعمال کے طریقوں سے گریز کرنے‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’طاقت کا کوئی بھی استعمال خطے میں صرف افراتفری پیدا کر سکتا ہے اور بہت خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔‘