ڈونلڈ ٹرمپ کا قافلہ سوئس الپس میں واقع ڈیووس پہنچا تو وہاں جمع کاروباری، ٹیکنالوجی کے بڑے کھلاڑیوں اور سیاست دانوں کو دو متضاد پیغامات دیے گئے۔ پہلا پیغام ٹرمپ کا تازہ ترین جنون تھا یعنی یہ خیال کہ امریکہ کو آرکٹک خطے میں روس اور چین سے لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے گرین لینڈ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہیے۔
اس موقف کی تمہید میں ٹرمپ یورپی اتحادیوں سے ایک بڑی محاذ آرائی کر چکے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یورپی ممالک، بشمول برطانیہ، پر مزید سخت ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تاکہ وہ گرین لینڈ پر ڈنمارک کی خودمختاری کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں۔ اسی دوران نیٹو کو بھی امریکی خواہشات کا محض ایک کھلونا قرار دینے کا تاثر دیا گیا۔
دوسرا اور بظاہر متضاد پیغام امریکی انتظامیہ کے نسبتاً حقیقت پسند عناصر کی جانب سے دیا جا رہا تھا، جن میں خاص طور پر امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ شامل ہیں۔ وہ مختلف عشائیوں میں دنیا کے سرکردہ کاروباری رہنماؤں کو یقین دلا رہے تھے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، حالات کو اپنے طور پر آگے بڑھنے دیا جائے۔
اعصاب شکن ہفتے میں یہ مشورہ درست ثابت ہوا۔ ٹرمپ کی آتش زباں اور جارحانہ تقاریر کے چند ہی گھنٹوں بعد یہ خبر سامنے آئی کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ملاقات میں آرکٹک سے متعلق ایک فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے اور ٹیرف کی دھمکی الپس کی سرد ہوا میں تحلیل ہو گئی۔
منطقی اعتبار سے ٹرمپ کا مؤقف شدید تضادات کا شکار ہے۔ عملی سطح پر یہ نسبتاً اچھی خبر ہے کیونکہ اس سے تلخی پر مبنی کشیدگی کا وہ سلسلہ رک گیا جو ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کی پہچان بنتا جا رہا تھا۔ تاہم جیسے ہی یورپ میں یہ نئی اکثریتی سوچ ابھری کہ ٹرمپ کی تجارتی پابندیوں کے جواب میں سنجیدہ جوابی اقدامات، یعنی امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ کی تیاری ضروری ہے، ویسے ہی امریکہ نے قدم پیچھے ہٹا لیا۔
اس موقعے پر ٹرمپ کو لفظ بہ لفظ سنجیدہ لینا آسان ہے مگر یہ درست نہیں۔ جیسا کہ ڈیلویئر سے ڈیموکریٹک سینیٹر اور ٹرمپ کے پرانے ناقد کرس کونز نے صدر کی تقریر کے بعد مجھ سے گفتگو میں کہا: ’یہ یا تو محض جھنجھلاہٹ اور غیر اہم ثابت ہوگا یا پھر ایک مکمل تباہی۔‘
تباہی ٹل گئی، مگر بے چینی اور اضطراب برقرار ہے۔ یورپی فریق یہ دعویٰ کرے گا کہ ڈنمارک کے دفاع میں ٹرمپ کے دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے سے ہی انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کیئر سٹارمر یہ مؤقف اختیار کریں گے کہ ان کی ٹیم کے امریکی انتظامیہ سے قائم روابط، جن میں ان کے بزنس مشیر ورن چندر بھی شامل ہیں، جنہوں نے ٹرمپ کے گرد موجود سخت گیر ’میگا‘ (میک امریکہ گریٹ اگین) حلقوں، حتیٰ کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مشیر سٹیفن ملر (جو گرین لینڈ کو ضم کرنے کے حامی تھے) سے بھی تعلقات بنا رکھے ہیں، کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوئے۔
اب امریکہ کو آرکٹک میں ایک بڑا اور زیادہ نمایاں کردار دیا جائے گا، مگر نیٹو کے ساتھ کھلی مخالفت کے بغیر۔ کسی نہ کسی طرح ڈنمارک کو مطمئن کیا جائے گا، اگرچہ ٹرمپ اب بھی یہ کہتے ہیں کہ گرین لینڈ امریکہ کے زیر انتظام ہونا چاہیے۔
پسپائی کی ایک وجہ امریکہ میں آئندہ وسط مدتی انتخابات بھی ہیں۔ گرین لینڈ سے متعلق جارحانہ مؤقف امریکی عوام میں مقبول نہیں رہا، کیونکہ گرین لینڈ خریدنے کے خلاف رائے رکھنے والوں کی تعداد حامیوں سے دگنی ہے۔
یوں اس ہفتے کے اتار چڑھاؤ کی سب سے ممکنہ توجیہ یہی ہے کہ ٹرمپ نے اپنی تقریر تبدیل کرنے سے انکار کیا، مستقبل میں مزید جارحانہ اقدامات کا حق محفوظ رکھا، یہاں تک کہا کہ امریکہ چاہے تو طاقت کے ذریعے گرین لینڈ لے سکتا ہے اور پھر یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔ جیسا کہ ایک یورپی یونین کے سابق وزیر خارجہ نے کہا: ’یہ ایسے ہے جیسے کسی بدسلوکی پر مبنی تعلق میں قید ہوں، جہاں آخرکار آپ اس بات پر شکر گزار ہوتے ہیں کہ کم از کم مار سے بچ گئے۔‘
تاہم اس صورت حال نے یورپی رہنماؤں کے لیے یہ سوال مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے کسی بھی غیر متوقع یا دھمکی آمیز منصوبے کو کہاں تک برداشت کیا جائے۔ آج کل خواہشات لمحوں میں مطالبات میں بدل جاتی ہیں۔
یورپ کے لیے ٹرمپ کی تحقیر ان کے بیانات میں بھی جھلکتی ہے جیسے ’میں یورپ سے محبت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ ترقی کرے، مگر وہ درست سمت میں نہیں جا رہا۔‘
یورپی رہنما چاہے کتنے ہی سرکاری دورے کریں، خوشامد کریں یا خوشگوار تعلقات کی کوشش کریں، اس ہفتے کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ ٹرمپ یورپ کو سست رفتار معیشتوں اور ایسے رہنماؤں کا خطہ سمجھتے ہیں جنہیں وہ چھیڑ سکتے اور کمتر دکھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیئر سٹارمر کو ’احمقانہ‘ چاگوس جزائر کی لیز معاہدے پر نشانہ بنانا، جسے ٹرمپ کبھی ایک اچھا نتیجہ قرار دے چکے تھے۔
بعض لمحات میں یہ سب محض تفریحی بھی لگتا ہے جیسے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں پر کیا گیا طنزیہ تبصرہ (یقین کریں یا نہ کریں لیکن مجھے وہ پسند ہے) اور ان کے فیشنی چشمے، جن کے بارے میں شرارتی انداز میں پوچھا گیا: ’آخر یہ سب کیا تھا؟‘
مگر ٹرمپ کے نزدیک یورپ کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان کے امریکہ کی طرح خود مختیار نہیں۔
اسی تناظر میں کینیڈین رہنما اور بینک آف انگلینڈ کے سابق گورنر مارک کارنی نے کانفرنس میں ایک جوابی تقریر کی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا بین الاقوامی اداروں سے منہ موڑنا محض ایک وقتی جھٹکا نہیں بلکہ ایک مکمل ’ٹوٹ پھوٹ‘ ہے اور لبرل اشرافیہ کے لیے ماضی پرستی کا کوئی فائدہ نہیں۔
جیسا کہ انہوں نے کہا: ’پرانا نظام واپس نہیں آنے والا۔‘
الپس کے اس تفریحی مقام پر گزرنے والا یہ بے ترتیب ہفتہ اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ گرین لینڈ کا تنازع یاد دلاتا ہے کہ ٹرمپ کی دنیا میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور پھر اچانک ختم بھی ہو سکتا ہے۔ یہ طرز عمل پہلے سے کہیں زیادہ غیر متوقع اور بے قاعدہ ہوتا جا رہا ہے۔
نتیجتاً وقتی سکون کے ساتھ شدید تھکن کا احساس بھی موجود ہے جیسا کہ ایک نارڈک ملک کی وزیر خارجہ نے مجھ سے رات گئے کہا: ’میں بس یہاں سے نکلنا چاہتی ہوں۔‘
اس ہفتے ان کے بہت سے ہم منصب اسی احساس سے گزرے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
© The Independent