جنگ، زراعت اور ہمارا قومی مفاد؟

پاکستان میں تیل بھی نہیں نکلتا اور نہ ہی پاکستان میں صنعتوں کا حال کچھ اچھا ہے۔ زراعت کے شعبے میں ہی کچھ اچھے حالات کی امید ہے تو وہاں کی بھی سن لیجیے۔

لاہور میں 9 جون 2025 کو ایک مزدور مارکیٹ میں آلو کی بوری اٹھائے ہوئے ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

ہمارے ملک کے بارے میں ایک بات ہمارے ذہنوں میں بٹھا دی گئی تھی اور وہ یہ کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی آبادی کا ستر فیصد بالواسطہ یا بلا واسطہ زراعت سے منسلک ہے۔

یہ بات ہم نے ذہن نشین کر لی، نہ کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی۔ گھر سے نکلتے تھے تو چاروں طرف کھیت اور ان کھیتوں میں فصلیں اور ان فصلوں میں کام کرتے کسان نظر آتے تھے۔

بازار جاتے تھے تو کھاد بیج، زرعی آلات کی دکانیں، آڑھتی اور منڈیاں نظر آتی تھیں۔ ٹی وی کھولتے تھے تو امریکن سنڈی، سفید تیلا اور لشکری سنڈی کی موت کے لیے بنائے گئے سپرے کے اشتہار چلتے تھے، ریڈیو کھولیں تو کسان بھائیوں کے لیے پروگرام میں میراثی چوہدری جی سے پوچھ رہا ہوتا تھا، ’اج کی پکائیے؟‘

یہ کچھ ایسا متاثر کن ماحول تھا کہ دنیا کے پیشے کو چھوڑ چھاڑ زراعت میں چھلانگ لگا دی، یہ اور بات کہ بوجہ ہڈ حرامی و مکروہات دنیوی سے حد درجہ لگاؤ کہ یہ عشق کچھ ادھورا سا رہ گیا لیکن اب بھی زراعت سے قلبی تعلق اسی طرح قائم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مجھے یاد ہے میرا پہلا کالم جو آج سے 28 برس قبل شائع ہوا تھا، وہ بھی گندم اور آلو پہ ہی تھا۔ آج 28 برس بعد بھی آلو اسی دوراہے پہ کھڑا ہے، جہاں اچھی پیداوار کے باوجود اس کا کوئی خریدار نہیں ہے۔

پاکستان میں تیل بھی نہیں نکلتا اور نہ ہی پاکستان میں صنعتوں کا حال کچھ اچھا ہے۔ زراعت کے شعبے میں ہی کچھ اچھے حالات کی امید ہے تو وہاں کی بھی سن لیجیے۔ 2018 کے انتخابات میں، میں نے اس وقت کی تینوں اہم پارٹیوں سے ان کے مینی فیسٹو (منشور) منگوا کر زرعی پالیسی پڑھنے کی کوشش کی تو کچھ سمجھ نہیں آیا۔

اس زرعی ملک میں انتخابات ہوتے ہیں، کسان ٹرالیوں میں لد لد کے جاتے ہیں اور شخصیات کے ظاہری حلیے، نسل، ذات پات کی بنا پہ ووٹ ڈال کے آجاتے ہیں۔

اس کے بعد کھاد بیج، پیٹرول، بجلی کے بل اور فصل کی فروخت کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں۔ سال کے سال یہ ٹیکس، وہ ٹیکس لگتا ہے، ایک ایسے صوبے میں جہاں زمیندار اور رعیت کا نظام رائج تھا وہاں روس کی طرز کے جاگیردار ہونے کا طعنہ سنتے ہیں اور اپنی جیبیں ٹٹولتے ہیں، جن میں فصل کے اخراجات نکال کے کئی بار اگلی فصل کاشت کرنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے۔

زرعی اصلاحات کا مطلب صرف حد ملکیت کو کم کرنا سمجھا جاتا ہے۔ پر ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے زراعت کو جدید خطوط پہ چلانے کا مقصد کچھ بیوروکریٹس کو سرکاری خرچ پہ بیرون ملک بھیج دیا جاتا ہے جہاں سے واپس آکے وہ صرف ایسے سفرنامے لکھتے ہیں، جو تحفوں میں دیے جائیں تب بھی لوگ گھن کھا کر تقریب رونمائی والے ریسٹورنٹ ہی میں چھوڑ جاتے ہیں۔

زراعت کے شعبے کے بھی دو حصے ہیں، پیداوار اور فروخت۔ کاشت کار، بہترین پیداوار دے سکتا ہے لیکن فروخت کے لیے بیرونی منڈیاں تلاش کرنا اس کے بس سے باہر ہے۔

یہ کام حکومت کا ہے، جسے اپنی زرعی پالیسی میں اس شعبے کے دونوں حصوں کی اصلاح کرنے پہ کوئی لائحہ عمل دینا چاہیے لیکن وہ کسان جسے یہ کہنا نہیں آتا کہ آپ کو اپنا نمائندہ میں تب بناؤں جب آپ میرے مسئلے کو سمجھ کے اس کا کوئی حل بھی پیش کر سکیں، اسے کاشت کے بعد اپنی پیداوار نہ بکنے پہ رونا بھی نہیں چاہیے۔

عالمی صورت حال یہ کہ امریکہ ایران جنگ جاری ہے۔ ایران بہت دن مزاحمت نہیں کر پائے گا۔ عراق کے تباہ کن ہتھیاروں کی طرح، ایران کا ایٹمی پروگرام بھی بہانہ ہی ہے۔

تاریخ پہ نظر ڈالیں، ہر فاتح قوم جارح ہوتی ہے اور اس کے پاس اس کی جارحیت کے ایک سے زائد جواز موجود ہوتے ہیں۔

یہ تو ہوئے دنیا کے حالات، ہمارا حال یہ ہے کہ جس وقت ہم چھت پہ چڑھ کے بو کاٹا، بو کاٹا کر رہے تھے اس وقت پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت کا زمینی رابطہ ختم ہو رہا تھا۔

آلو کی بہترین فصل ہوئی اور ایکسپورٹ نہ ہونے کے باعث، کاشت کار آلو کوڑیوں کے مول بیچ رہا ہے۔

جنگ کی اپنی معیشت ہوتی ہے۔ موجودہ جنگ سے روس کو تیل کی وہ منڈی مل گئی جو کبھی اس کے ہاتھ میں ہی نہیں تھی اور ہم سے وہ منڈی بھی چھن گئی، جسے ہم نے بڑی محنت سے سینچا تھا۔

جنگ اب بھی جاری ہے، اور لگتا ہے کہ اگر ایران کسی بڑی طاقت کی پراکسی بنا تو کافی عرصہ جاری رہے گی۔ آلو، مکئی، گندم، چاول، یہ تو جنگ میں بھی کھائے جاتے ہیں۔

ہم جو ہر جنگ میں دفاع اور حملے کی پہلی لائن ہوتے ہیں، اس جنگ سے پہلے ہی سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کر کے بیٹھے ہیں یعنی اب کی بار بھی ہم جنگ میں حصہ لے سکتے ہیں۔ سو بسم اللہ!

مگر سوال یہ ہے کہ ہماری زرعی پیداوار کو اچھے داموں بیچنا اور عوام کی خوشحالی ہی شاید ہمارا قومی مفاد ہے اور خیر سے ہم ایک زرعی ملک ہیں۔

سوال یہ بھی آتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی یقیناً ہمارے قومی مفاد میں ہی بنائی جاتی ہے تو جب باقی سارے ملکوں کا قومی مفاد ان کی معیشت سے جڑا ہے تو ہمارا قومی مفاد؟

میں یوں بھی خاصی کم عقل بلکہ باقاعدہ غبی واقع ہوئی ہوں۔ تیل کے بڑھتے ہوئے نرخ اور کھیتوں میں گلتے اور منڈیوں میں کوڑیوں کے مول بکتے آلو دیکھ کے خاصی کنفیوز ہو جاتی ہوں۔

اب یہ ہے کہ جنگ کی جو بھی معیشت ہو، ہمارا قومی مفاد یقیناً محفوظ ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے ہمارے بھلے کے لیے ہی ہو رہا ہے۔ مجھ جیسے احمق لوگ سمجھ نہ پائیں تو اس میں کسی کا کیا قصور؟

یوں بھی یہ اعلیٰ سطح کے فیصلے ہیں، کوڑی کے کاشت کار اور دو ٹکے کے صحافیوں کو کیا سمجھ؟

یہ آلو، گندم، مکئی، چاول سب یہیں رہ جائیں گے، انسان کو قناعت سیکھنی چاہیے۔ پس خاموشی سے جنگ دیکھیے اور فیک نیوز سے دل بہلاتے رہیے، اگلی فصل پکنے پہ پھر ملاقات ہو گی، چاہیے وہ سروں کی ہو، دستاروں کی یا پھر آلو کی۔ رب راکھا!

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر