جنوبی کوریا: حکومت کا لاکھوں ڈالر سے جیلوں میں اے سی لگانے کا دفاع

وزارتِ انصاف کا کہنا ہے کہ شدید گرمی سے محفوظ رکھنا قیدیوں کی جان اور جسمانی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

سیئول میں 4 اپریل 2025 کو جنوبی کوریا کی پولیس کے اہلکار سکیورٹی پر تعینات ہیں(تصویر: اے ایف پی)

جنوبی کوریا نے قیدیوں کے لیے جیلوں میں ایئر کنڈیشننگ فراہم کرنے کا منصوبہ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس اقدام پر عوامی سطح پر شدید تنقید سامنے آئی ہے کیونکہ اس کے لیے ٹیکس دہندگان کے پیسے استعمال کیے جائیں گے۔

وزارتِ انصاف نے منگل کو اعلان کیا کہ جیلوں میں کولنگ سسٹم کی اپ گریڈیشن کی لاگت تقریباً 1.2 ارب وون (تقریباً 7 لاکھ 79 ہزار ڈالر) ہوگی۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام شدید گرمی کے دوران حساس قیدیوں اور جیل عملے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کم سے کم ضروری قدم ہے۔

وزارت نے وضاحت کی کہ ایئر کنڈیشنرز براہِ راست قیدیوں کی کوٹھڑیوں میں نہیں بلکہ راہداریوں میں نصب کیے جائیں گے، جس سے بالواسطہ ٹھنڈک فراہم کی جائے گی۔

اس منصوبے میں ترجیح ان وارڈز کو دی جائے گی جہاں بزرگ قیدی، معذور افراد اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد موجود ہیں۔

اسی طرح خواتین کی جیلوں کے کچھ حصوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جہاں گنجائش سے زیادہ قیدی اور خراب حالات کی نشاندہی کی گئی تھی۔

وزارتِ انصاف کا کہنا ہے کہ شدید گرمی سے محفوظ رکھنا قیدیوں کی جان اور جسمانی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جیلوں میں پہلے بھی ٹھنڈک کے مراکز قائم کیے گئے ہیں اور قیدیوں کو ٹھنڈا پانی فراہم کیا جاتا ہے، تاہم بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیش نظر مزید اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔

وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ ’ہم بنیادی طور پر اُن جیل یونٹس میں کولنگ کی سہولیات مضبوط کر رہے ہیں جہاں ایسے قیدی رکھے گئے ہیں جو گرمی سے متعلق بیماریوں کے خطرے میں ہیں، جن میں بزرگ، معذور افراد اور مریض شامل ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارتِ انصاف نے مزید کہا کہ وہ شدید گرمی کا مقابلہ کرنے اور اس سے ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے، جن میں کولنگ شیلٹرز کا قیام اور ٹھنڈا پانی فراہم کرنا شامل ہے۔

اس تجویز کو اُن افراد کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جو اسے عوامی پیسے کا ضیاع سمجھتے ہیں۔

دی کوریا ٹائمز کے مطابق ایک صارف نے کہا کہ ’مجرموں کو ٹیکس کے پیسے سے کھانا کھلانا ہی کافی پریشان کن ہے، کیا اب ہمیں انہی پیسوں سے ایئر کنڈیشنر بھی لگانے ہوں گے۔‘

ایک اور صارف نے آن لائن ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا صرف مجرموں کے انسانی حقوق ہی اہم ہیں؟ وہ ایک وون بھی ٹیکس نہیں دیتے، اور اب انہیں ایئر کنڈیشنر بھی میرے پیسوں سے دیا جا رہا ہے۔‘

دی ایشیا بزنس ڈیلی کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باوجود جنوبی کوریا کی جیلوں میں اس وقت صرف برقی پنکھے موجود ہیں، جنہیں زیادہ گرم ہونے سے بچانے کے لیے 50 منٹ چلانے کے بعد 10 منٹ کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔

گذشتہ سال جولائی میں، جب یومیہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا، ملک کی پانچ جیلوں میں کم از کم سات قیدی گرمی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہوئے تھے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا