آج سے چھ برس قبل کی بات ہے، سترہ سالہ زاہد اپنی ماں کی گود میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ اس کی والدہ نے قدرے حیران ہوتے ہوئے اس کے آنسو پونچھے اور ا س طرح رونے کی وجہ شفقت سے پوچھی۔
زاہد پہلے تو ہچکچایا پھر اس نے کانپتے ہوئے ماں کو بتایا کہ ان کا برسوں پرانا ڈرائیور اس کو ’اکثر فرنٹ سیٹ پر ساتھ بٹھا لیا کرتا اور اس کی ٹانگ کو ہاتھ سے ملتا رہتا تھا۔‘
زاہد اس بات سے کافی عرصہ انتہائی خوفزدہ رہتا لیکن والدین کے اس ڈرائیور پر اعتبار کے باعث منہ نہ کھول سکا۔ اب وہ وقت تھا کہ جب وہ ڈرائیور ان کا ملازم نہیں تھا تو زاہد نے ہمت کر کے والدہ کو سب کچھ بتا دیا۔ والدہ جیسے شاک میں چلی گئیں لیکن خود کو سنبھالا اور بیٹے کے آنسو پونچھے۔
دیگر والدین کی طرح انہوں نے بھی خاموشی سے ڈرائیور سے قطع تعلق کیا اور زاہد نے تھیراپی میں جانا شروع کر دیا تاکہ وہ اس تکلیف دہ تجربے سے مثبت طور پہ باہر نکل سکے۔
کیا ایسے یا اس سے بھی سنگین نوعیت کے جسمانی ہراسانی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں اور اس حوالے سے طبی اور لیگل مدد فراہم کی جاتی ہے؟
بچوں کے تحفظ سے جڑی غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کی سینیئر عہدیدار محترمہ منیزے نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’تھانے میں سب سے پہلے ایف آئی آر درج کی جاتے ہے۔ کیا کچھ ہوا، دن تاریخ، جگہ، کپڑے ہر چیز تھانے سے شیئر کرنا انتہائی اہم ہوتا ہے۔ ان سب ثبوتوں کا سنبھالا جانا ضروری ہے۔ اس پر رپورٹ درج ہوتی ہے، پھر متاثرہ بچے کی میڈیکو لیگل جانچ کی جاتی ہے اور اس کا طبی معائنہ ہوتا ہے۔ پھر تفتیشی افسر اس واقعے کی جگہ کا معائنہ کرتا ہے اور ملزم کو گرفتار کرتا ہے۔‘
معاشرتی رویوں کے مطابق اگر دیکھا جائے تو صرف وہی کیس رپورٹ ہو پاتے ہیں، جن کے لواحقن اتنی ہمت کر سکیں کہ اپنے معصوم بچے یا نوجوان بچی کی ساتھ ہوئی زیادتی پہ بات کرنے کو ترجیح دیں۔ ورنہ ہمارا معاشرہ ایسے واقعات پہ مٹی ڈال دیتا ہے اور مجرمان کو کھلی چھوٹ ملی رہتی ہے۔
سندھ حکومت کے ساتھ پولیس اصلاحات پر کام کرنے والی سینیئر پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے انڈپینڈنٹ اردو کے رابطہ کرنے پر بچوں کے حوالے سے میڈیکو لیگل طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پولیس پروٹوکول کیا ہوتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ ’کم از کم اے ایس آئی رینک کے افسر کے پاس روزنامچے میں اندراج کروایا جانا جانا چاہیے۔ اگر متاثرہ بچے یا بچی کی حالت نازک ہے تو اسے فوراً اے ایس آئی کے ہمراہ میڈیکو لیگل جانچ کے لیے روانہ کرنا چاہیے۔ اگر متاثرہ بچی ہے تو لیڈی کانسٹیبل کا ساتھ ہونا لازمی ہے۔‘
بقول ڈاکٹر سمعیہ یہ مقدمات ایسے نہیں ہوتے جن پر کسی قسم کا سمجھوتہ لاگو ہوتا ہو، پولیس کا فرض ہے ایسے مقدمات میں ’مک مکا یا لے دے کے‘ بات ختم نہ کی جائے بلکہ ملزم کو اس کے انجام تک پہنچایا جائے۔ اکثر ملزمان خاندان کے ہی افراد نکلتے ہیں جو معافی تلافی سے بات کو دبا دینا چاہتے ہیں لیکن یہ پولیس کا فرض ہے کہ وہ رپورٹ درج کرے، طبی اور قانونی جانچ کرے اور ایکشن لے۔
کیا ہمارے تھانے بچوں کو ساتھ ہونے والے سانحات کو جانچنے کے لیے دوستانہ ماحول فراہم کرتے ہیں؟ افسوس کے ایسا نہیں ہے۔ ایک متاثرہ بچہ تھانے کے ماحول سے مزید خوف کا شکار ہو جاتا ہے اور شاید اپنے ساتھ ہوئے حادثے کو بیان بھی نہیں کر پاتا۔ ایسے میں تھانوں میں اصلاحات کو متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔
ساحل کی ڈاکٹر منیزے نے بتایا کہ ’ہمارے تھانے ایسا ماحول نہیں فراہم کرتے کہ متاثرہ بچہ اور اس کے والدین اطمینان سے اپنی آپ بیتی سنا سکیں، اس لیے ضروری ہے کہ تھانوں میں ایسی رپورٹوں کے اندراج کا سیکشن علیحدہ ہو اور ایسا ماحول ہو جہاں بچے بات کر سکیں۔ ایسی تصاویر نصب ہوں جن کی مدد سے بچہ ایک مثبت ماحول میں اپنی کیس ہسٹری بیان کر سکے۔ ساحل کا کام بھی یہی ہے کہ وہ ان خاندانوں کو طبی اور قانونی مدد میں بلا معاوضہ ایک برج یا پل کا کردار ادا کر سکے۔‘
حال ہی میں سندھ حکومت نے محکمہ صحت کے ساتھ بچوں کے لیے تھانوں میں ’چائلڈ فرینڈلی‘ اصلاحات کا ماڈل تیار کیا ہے۔ بقول ڈاکٹر منیزے: ’اب سندھ کے مرکزی ہسپتالوں میں ون ونڈو سسٹم ایسے معصوم متاثرین کے لیے رائج کیا جائے گا، جس کے تحت وہیں شکایت کے اندراج کے ساتھ ساتھ طبی اور قانونی مدد فراہم کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ سندھ کے تھانوں میں بھی الگ سیکشن متعارف کروائے جائیں گے جو خصوصی طور پر بچوں بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے اندراج اور طبی و لیگل امداد فوری ممکن بنائیں گے۔‘
یہ تو وہ اصلاحات ہیں جو ابھی متعارف ہوں گی لیکن بقول ڈاکٹر سمعیہ: ’ہمارا تھانہ کچہری کا نظام اور معاشرہ سبھی مل کر متاثرہ بچوں کے والدین کے قدم منجمد کر دیتے ہیں کہ وہ کس طرح پہلے تھانے افسران سے نمٹیں، ساتھ ہی سماجی بھید بھاؤ اور پھر ہماری عدالتیں سبھی متاثرین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کاش ان اصلاحات کی بدولت کوئی مثبت تبدیلی جنم لے سکے۔‘
بقول ڈاکٹر سمعیہ اس ماڈل نظام کو بنانے میں انہوں نے اہم کردار تو ادا کیا ہے لیکن ان تعارفی اصلاحات کا ملک بھر کے تھانوں میں باقاعدہ سے نفاذ ابھی باقی ہے۔
ایسے واقعات تو روزانہ ہوتے ہیں لیکن ان سے نمٹنے کے دوران سامنے آنے والی کمزوریوں کو دور کر کے ہی ہم ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔