گرین لینڈ کے معاملے پر آٹھ یورپی ممالک کی امریکہ کو تنبیہ

امریکہ کے قریبی اتحادیوں میں شامل آٹھ ممالک نے غیر معمولی طور پر سخت مشترکہ بیان میں کہا کہ ڈینش فوجی مشق ’آرکٹک اینڈیورنس‘ کے لیے گرین لینڈ بھیجے گئے فوجی دستے ’کسی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔‘

فلوریڈا کے شہر پام بیچ میں مارا لاگو کے بال روم میں 16 جنوری 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شرکا کا استقبال کر رہے ہیں (اینڈریو کیبریرو رینولڈز / اے ایف پی)

یورپ کے آٹھ ممالک نے، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی مخالفت پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، اتوار کو اس اقدام کی شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ امریکی صدر کے یہ بیانات ’ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو کمزور کرتے ہیں اور ایک خطرناک تنزلی کے عمل کو جنم دے سکتے ہیں۔‘

امریکہ کے قریبی اتحادی ممالک کی جانب سے غیر معمولی طور پر سخت مشترکہ بیان میں ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ نے کہا کہ ڈینش فوجی مشق ’آرکٹک اینڈیورنس‘ کے لیے گرین لینڈ بھیجے گئے فوجی دستے ’کسی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔‘

ہفتے کو صدر ٹرمپ کے اعلان نے یورپ میں امریکہ کے شراکتی تعلقات کے لیے ایک سنجیدہ امتحان کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ریپبلکن صدر نے عندیہ دیا کہ وہ گرین لینڈ کی حیثیت پر مذاکرات کے لیے ٹیرف کو دباؤ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ گرین لینڈ نیٹو کے رکن ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے، جسے ٹرمپ امریکی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا، ’ہم ڈنمارک کی سلطنت اور گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، تاہم ٹیرف کی دھمکیاں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہیں اور ایک خطرناک تنزلی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔‘

اس بات پر بھی فوری سوالات اٹھ رہے ہیں کہ وائٹ ہاؤس ان ٹیرفس کو عملی طور پر کیسے نافذ کرے گا، کیونکہ یورپی یونین تجارتی اعتبار سے ایک واحد اقتصادی بلاک ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ امریکی قانون کے تحت ٹرمپ یہ اقدام کیسے کریں گے، اگرچہ وہ ہنگامی اقتصادی اختیارات کا حوالہ دے سکتے ہیں، جو اس وقت امریکی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات کا فائدہ چین اور روس کو ہوگا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’اگر گرین لینڈ کی سلامتی کو کوئی خطرہ ہے تو اس پر نیٹو کے اندر بات ہو سکتی ہے۔ ٹیرف یورپ اور امریکہ دونوں کو غریب کریں گے اور ہماری مشترکہ خوشحالی کو نقصان پہنچائیں گے۔‘

امریکہ کے اندر بھی اس اقدام پر تنقید کی گئی۔ ایریزونا سے ڈیموکریٹ سینیٹر مارک کیلی نے کہا کہ اتحادیوں پر ٹیرف لگانے سے امریکی عوام کو ’ایسی سرزمین کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی جس کی ہمیں ضرورت ہی نہیں۔‘ انہوں نے لکھا، ’یورپی فوجی گرین لینڈ میں ہماری ہی ممکنہ پیش قدمی سے دفاع کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ اس صدر کی پالیسیاں ہماری ساکھ اور تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور ہمیں کم محفوظ بنا رہی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چھ متاثرہ ممالک یورپی یونین کے رکن ہیں، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں کہ ٹیرف پورے بلاک پر لاگو ہوں گے یا نہیں۔ یورپی سفیروں نے اتوار کی شام ہنگامی اجلاس بلایا تاکہ ممکنہ ردعمل پر غور کیا جا سکے۔

اٹلی کی دائیں بازو کی وزیر اعظم جورجیا میلونی، جو ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہیں، نے بھی اس فیصلے کو ’غلطی‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ میں یورپی فوجی تعیناتی امریکہ کے خلاف نہیں بلکہ ’دیگر عناصر‘ کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا، ’کوئی دھمکی ہمیں متاثر نہیں کر سکتی، چاہے وہ یوکرین ہو، گرین لینڈ ہو یا دنیا کا کوئی اور حصہ۔ اس تناظر میں ٹیرف کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔‘

برطانیہ میں بھی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کی مخالفت کی۔ اصلاح یو کے پارٹی کے رہنما نائجل فراج نے کہا، ’ہم ہمیشہ امریکی حکومت سے متفق نہیں ہوتے، اور اس معاملے میں تو بالکل نہیں۔ یہ ٹیرف ہمیں نقصان پہنچائیں گے۔‘
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ٹیرف کے اعلان کو ’مکمل طور پر غلط‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت اس معاملے کو براہ راست امریکی انتظامیہ کے سامنے اٹھائے گی۔

ڈنمارک اور ناروے کے وزرائے خارجہ بھی اتوار کو اوسلو میں مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بحران پر بات کریں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ